مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأطعمة— کھانوں کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْجَلَّالَةِ . باب: جلالہ ( گندگی کھانے والے جانور ) کا بیان
حدیث نمبر: 8073
وَعَنْ جَابِرٍ: أَنَّ بَقَرَةً انْقَلَبَتْ عَلَى خَمْرٍ فَشَرِبَتْ فَخَافُوا عَلَيْهَا فَأَتَوُا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " كُلُوا وَلَا بَأْسَ بِأَكْلِهَا " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى مِنْ رِوَايَةِ بَقِيَّةَ عَنْ عُمَرَ ، وَبَقِيَّةُ مُدَلِّسٌ ، وَعُمَرُ إِنْ كَانَ ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَثْعَمٍ فَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَإِنْ كَانَ مَوْلَى عَفْرَةَ فَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک گائے شراب کے پاس آئی اور اس نے اس کو پی لیا لوگوں کو اس کے حوالے سے اندیشہ ہوا وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس کا گوشت کھا لو اس کو کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے بقیہ سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے بقیہ نامی راوی مدلس ہے عمر نامی راوی سے مراد اگر تو عمر بن عبداللہ بن خثم ہے ، تو وہ بھی ضعیف ہے ، اور اگر اس سے مراد عفرہ کا غلام ہے ، تو وہ بھی ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔