حدیث نمبر: 8054
عَنْ أُمِّ نَصْرٍ الْمُحَارِبِيَّةِ قَالَتْ : سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ ؟ فَقَالَ : " أَلَيْسَ يَرْعَى الْكَلَأَ وَيَأْكُلُ الشَّجَرَ " قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : " فَأَصِبْ مِنْ لُحُومِهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام نصر محاربیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پالتو گدھوں کے گوشت کے بارے میں دریافت کیا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : کیا وہ گھاس نہیں چرتا ہے ، اور درخت ( کے پتے ) نہیں کھاتا ہے ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، پھر تم اس کا گوشت کھا لو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، اور وہ مدلس ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اس کے بعض رجال کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے جو نقصان دہ نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، اور وہ مدلس ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اس کے بعض رجال کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے جو نقصان دہ نہیں ہے ۔
حدیث نمبر: 8055
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : إِنَّمَا نَهَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ لِأَنَّهَا كَانَتْ حَمُولَةً . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع کر دیا تھا کیونکہ وہ بار برداری کے لئے استعمال ہوتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حمید رازی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حمید رازی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 8056
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِبْقَاءً عَلَى الظَّهْرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ ، وَفِي الْكَبِيرِ حَبَّانُ بْنُ عَلِيٍّ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ وَقَدْ وُثِّقَ . وَفِي الْأَوْسَطِ مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سواریاں باقی رکھنے کے لئے اس سے منع کیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ۔ معجم کبیر کی سند میں ایک راوی حبان بن علی ہے جس میں ضعف پایا جاتا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ، اور معجم اوسط کی سند میں ایک راوی محمد بن جابر ہے ، اور وہ متروک ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ۔ معجم کبیر کی سند میں ایک راوی حبان بن علی ہے جس میں ضعف پایا جاتا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ، اور معجم اوسط کی سند میں ایک راوی محمد بن جابر ہے ، اور وہ متروک ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 8057
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمْ يُحَرِّمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لُحُومَ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِقَالٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پالتو گدھوں کے گوشت کو حرام قرار نہیں دیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد أحمد بن عبدالرحمن بن عقال سے نقل کی ہے ۔ اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد أحمد بن عبدالرحمن بن عقال سے نقل کی ہے ۔ اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 8058
وَعَنِ أَبِي الْوَدَاكِ قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ قَالَ : أَصَبْنَا سَبَايَا يَوْمَ خَيْبَرَ وَكُنَّا نَعْزِلُ عَنْهُنَّ نَلْتَمِسُ أَنْ نُفَادِيَهُنَّ مِنْ أَهْلِهِنَّ ، فَقَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ : تَفْعَلُونَ هَذَا وَفِيكُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ ائْتُوهُ فَسَلُوهُ فَأَتَيْنَاهُ ، أَوْ ذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ : " مَا مِنْ كُلِّ الْمَاءِ يَكُونُ الْوَلَدُ إِذَا قَضَى اللَّهُ أَمَرًا كَانَ " . ¤ وَمَرَرْنَا بِالْقُدُورِ وَهَى تَغْلِي فَقَالَ لَنَا : " مَا هَذِهِ اللَّحْمُ ؟ " قُلْنَا : لَحْمُ حُمُرٍ . فَقَالَ لَنَا : " أَهْلِيَّةٌ أَوْ وَحْشِيَّةٌ ؟ " فَقُلْنَا : لَا بَلْ أَهْلِيَّةٌ قَالَ لَنَا : " أَكَفِئُوهَا " قَالَ : فَكَفَأْنَاهَا وَإِنَّا لَجِيَاعٌ نَشْتَهِيهِ . ¤ قَالَ : وَكُنَّا نُؤْمَرُ أَنْ نُوكِئَ الْأَسْقِيَةَ . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ مِنْهُ قِصَّةُ الْعَزْلِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِاخْتِصَارٍ . ¤
محمد محی الدین
ابووداک بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بتائی غزوہ خیبر کے موقع پر ہمارے ہاتھ کنیزیں لگیں ہم نے ان سے عزل کرنا شروع کر دیا ہم یہ چاہتے تھے کہ ان کے گھر والوں سے ان کا فدیہ وصول کریں ہم میں سے کسی ایک نے دوسروں سے کہا: تم لوگ ایسا کر رہے ہو جبکہ اللہ کے رسول تمہارے درمیان موجود ہیں تم ان کی خدمت میں جاؤ اور ان سے دریافت کرو ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) ہم نے آپ کے سامنے یہ بات ذکر کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس بھی نطفے سے بچے نے پیدا ہونا ہو جبکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فیصلہ دیدیا تو وہ ( پیدا ) ہو کے رہے گا ۔ راوی کہتے ہیں ، پھر ہمارا گزر ہنڈیاؤں کے پاس سے ہوا جو جوش مار رہی تھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے دریافت کیا : یہ کس چیز کا گوشت ہے ہم نے عرض کی : گدھوں کا گوشت ہے آپ نے فرمایا : پالتو یا جنگی ؟ ہم نے عرض کی : جی نہیں بلکہ پالتو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان ہنڈیاؤں کو انڈیل دو راوی کہتے ہیں تو ہم نے انہیں انڈیل دیا حالانکہ ہم بھوکے تھے اور ہمیں اس ( گوشت ) کی شدید طلب تھی ۔ راوی بیان کرتے ہیں ۔ ہمیں یہ حکم دیا گیا کہ ہم مشکیزوں کا منہ بند کر دیا کریں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس روایت میں سے صرف عزل والا حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 8059
وَعَنِ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَكَ وَخَيْبَرَ قَالَ : فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ فَدَكَ وَخَيْبَرَ قَالَ : فَوَقَعَ النَّاسُ فِي بَقْلَةٍ لَهُمْ هَذَا الثُّومُ وَالْبَصَلُ قَالَ : فَرَاحُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَجَدَ رِيحَهَا فَتَأَذَّى بِهِ ثُمَّ عَادَ الْقَوْمُ فَقَالَ : " أَلَا لَا تَأْكُلُوهُ فَمَنْ أَكَلَ مِنْهَا شَيْئًا فَلَا يَقْرَبَنَّ مَجْلِسَنَا " . ¤ قَالَ : وَوَقَعَ النَّاسُ يَوْمَ خَيْبَرَ فِي لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ وَنَصَبُوا الْقُدُورَ فَنَصَبْتُ قِدْرِي فِيمَنْ نَصَبَ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَنْهَاكُمْ عَنْهُ أَنْهَاكُمْ عَنْهُ " . مَرَّتَيْنِ فَأُكْفِئَتِ الْقُدُورُ فَأَكْفَأْتُ قِدْرِي فِيمَنْ أَكْفَأَ . ¤ قُلْتُ : رَوَى لَهُ أَبُو دَاوُدُ النَّهْيَ عَنِ الثُّومِ وَالْبَصَلِ لِمَنْ أَتَى الْمَسْجِدَ ، وَهُنَا قَالَ : فَلَا يَقْرَبَنَّ مَجْلِسَنَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ بِشْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فدک اور خیبر میں جنگ میں حصہ لیا ۔ راوی کہتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے لئے فدک اور خیبر کو فتح کروا دیا راوی کہتے ہیں : لوگ سبزیوں تک پہنچے جہاں لہسن اور پیاز موجود تھا راوی کہتے ہیں : جب وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، تو اس کی بو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو محسوس ہوئی آپ کو اس سے اذیت محسوس ہوئی پھر جب لوگوں نے دوبارہ ایسا کیا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : خبردار تم اس کو نہ کھاؤ جو شخص اس میں سے کچھ کھا لے ، تو وہ ہماری محفل کے قریب نہ آئے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : غزوہ خبیر کے دن لوگوں نے پالتو گدھے پکڑ لیے ( انہیں ذبح کیا ) اور ان کی ہنڈیا میں چڑھا دیں میں نے بھی اپنی ہنڈیا چڑھا دی جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع ملی ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : میں تم لوگوں کو اس سے منع کرتا ہوں میں تم لوگوں کو اس نے منع کرتا ہوں یہ بات آپ نے دو مرتبہ ارشاد فرمائی ، تو ہنڈیائیں الٹ دی گئیں اور میں نے بھی اپنی ہنڈیا الٹ دی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ابوداؤد نے ایک صحابی کے حوالے سے لہسن اور پیاز کی ممانعت اس شخص کے لئے نقل کی ہے ۔ جو مسجد آتا ہے ، جبکہ یہاں یہ الفاظ ہیں : ” وہ ہماری محفل کے قریب ہرگز نہ آئے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بشر بن حرب ہے ، اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بشر بن حرب ہے ، اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 8060
وَعَنِ أَبِي سَلِيطٍ - وَكَانَ بَدْرِيًّا - قَالَ : أَتَانَا نَهْيُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ وَنَحْنُ بِخَيْبَرَ ، فَكَفَأْنَاهَا وَإِنَّا لِجِيَاعٌ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ ضُمَيْرَةَ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَلَمْ يَجْرَحْهُ وَلَمْ يُوَثِّقْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسلیط رضی اللہ عنہ جو بدری صحابی ہیں وہ بیان کرتے ہیں : ہمارے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت آئی جو گدھوں کے گوشت کے بارے میں تھی ہم اس وقت خبیر میں موجود تھے ، تو ہم نے ہنڈیائیں الٹا دیں حالانکہ ہم بھوکے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عمرو بن ضمیرہ ہے جس کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے ۔ انہوں نے اس پر نہ جرح کی ہے ، اور نہ ، توثیق کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عمرو بن ضمیرہ ہے جس کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے ۔ انہوں نے اس پر نہ جرح کی ہے ، اور نہ ، توثیق کی ہے ۔
حدیث نمبر: 8061
وَعَنِ أَبِي سَلِيطٍ قَالَ : أَصَابَ النَّاسَ فِي غَزْوَةِ خَيْبَرَ مَخْمَصَةٌ شَدِيدَةٌ فَقَامُوا إِلَى حُمُرِهِمْ فِي مَحْضَرٍ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَزَرُوهَا ، ثُمَّ طَرَحُوهَا فِي الْقُدُورِ ، فَبَيْنَا هِيَ تَفُورُ نَزَلَ تَحْرِيمُهَا عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " نَزَلَ تَحْرِيمُ الْحُمُرِ الَّتِي تَطْبُخُونَ " . فَكُفِئَتِ الْقُدُورُ عَلَى وُجُوهِهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسلیط رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ خیبر کے موقع پر لوگوں کو شدید بھوک لاحق ہو گئی لوگ اٹھ کر اپنے گدھوں کی طرف گئے یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی کی بات ہے ان لوگوں نے انہیں قربان کیا اور پھر ہنڈیائیں چڑھا دیں ابھی وہ ہنڈیائیں پک رہی تھیں کہ اسی دوران ان کی حرمت کا حکم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہو گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو گدھے تم پکا رہے ہو ان کی حرمت کا حکم نازل ہو گیا ہے ، تو ان کی ہنڈیائیں الٹ دی گئیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 8062
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلِيطٍ قَالَ : أَتَانَا نَهْيُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ أَكْلِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ وَالْقُدُورُ تَفُورُ بِهَا ، فَكَفَأْنَاهَا عَلَى وُجُوهِهَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ ضُمَيْرَةَ ، ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَلَمْ يُوَثِّقْهُ وَلَمْ يَجْرَحْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن ابوسلیط رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : پالتو گدھوں ( کا گوشت ) کھانے کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت کا حکم ہمارے پاس آیا حالانکہ اس وقت وہ گوشت ہنڈیاؤں میں پک رہا تھا تو ہم نے ان ہنڈیاؤں کو الٹ دیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عمرو بن ضمیرہ ہے جس کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے ۔ انہوں نے نہ اس کی توثیق کی ہے ، اور نہ اس پر جرح کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عمرو بن ضمیرہ ہے جس کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے ۔ انہوں نے نہ اس کی توثیق کی ہے ، اور نہ اس پر جرح کی ہے ۔
حدیث نمبر: 8063
وَعَنْ سِنَانِ بْنِ سَلَمَةَ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَ بِالْقُدُورِ فَأُكْفِئَتْ يَوْمَ خَيْبَرَ ، وَكَانَ فِيهَا لَحْمُ حُمُرِ النَّاسِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا نَحَّازِ بْنِ جَدِّي وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سنان بن سلمہ بیان کرتے ہیں : ان کے والد نے انہیں یہ بات بتائی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہنڈیاؤں کے بارے میں حکم دیا تو انہیں الٹ دیا گیا یہ غزوہ خیبر کے موقع کی بات ہے ان ہنڈیاؤں میں لوگوں کے گدھوں کا گوشت ( پک رہا تھا ) ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف نماز بن جدی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف نماز بن جدی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 8064
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَانَا عَنِ الْحِمَارِ الْأَهْلِيِّ ، وَأَمَرَنَا بِإِلْقَاءِ مَا مَعَنَا مِنْهُ، فَأَلْقَيْنَاهُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پالتو گدھوں سے منع کر دیا تھا ہمارے پاس ان کا جو گوشت تھا آپ نے وہ پھینک دینے کا حکم دیا تو ہم نے وہ پھینک دیا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 8065
وَعَنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزَاةٍ فَغُلِيَتِ الْقُدُورُ مِنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ ، فَأَمَرَنَا بِإِكْفَائِهَا وَقَسَّمَ لِكُلِّ عَشَرَةٍ مِنَّا شَاةً . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ هَاشِمٌ جَلِيسٌ لِأَبِي مُعَاوِيَةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابولیلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک غزوہ میں ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے پالتو گدھوں کے گوشت سے ہنڈیائیں پک رہی تھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں انہیں انڈیل دینے کا حکم دیا ( بعد میں ) آپ نے تقسیم کرتے ہوئے ہم میں سے ہر دس افراد کو ایک بکری دی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ہاشم ہے جو ابومعاویہ کا ہمنشین تھا میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ہاشم ہے جو ابومعاویہ کا ہمنشین تھا میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 8066
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أَصَابَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ خَيْبَرَ حُمُرًا أَهْلِيَّةً فَطَبَخُوا مِنْ لَحْمِهَا فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْقُدُورِ [ أَنْ ] تُكْفَأَ وَحَرَّمَ لَحْمَهَا يَوْمَئِذٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَلَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا وُفِيَ هَذَا : النَّضْرُ أَبُو عُمَرَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : غزوہ خبیر کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو پالتو گدھے ملے انہوں نے ان کا گوشت پکانا شروع کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہنڈیائیں کے بارے میں حکم دیا کہ انہیں انڈیل دیا جائے اس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ( گدھوں ) کے گوشت کو حرام قرار دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ ان صحابی کے حوالے سے صحیح میں ایک حدیث مذکور ہے جو اس حدیث کے علاوہ ہے اس روایت کی سند میں ایک راوی نضر ابوعمر ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ ان صحابی کے حوالے سے صحیح میں ایک حدیث مذکور ہے جو اس حدیث کے علاوہ ہے اس روایت کی سند میں ایک راوی نضر ابوعمر ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 8067
وَعَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ الْحَكَمِ قَالَ : أَسَرَنِي أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا يَوْمَئِذٍ شَابٌّ فَسَمِعْتُهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَنْهَى عَنِ النُّهْبَةِ وَأَمَرَ بِالْقُدُورِ فَأُكْفِئَتْ مِنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ . ¤ قُلْتُ : رَوَى لَهُ ابْنُ مَاجَهْ : النَّهْيَ عَنِ النُّهْبَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ثعلبہ بن حکم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے مجھے پکڑ لیا میں ان دنوں نوجوان تھا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا آپ نے لوٹی ہوئی چیز استعمال کرنے سے منع کیا ہنڈیاؤں کے بارے میں حکم دیا کہ انہیں انڈیل دیا جائے جن میں پالتو گدھوں کا گوشت پک رہا تھا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ابن ماجہ نے اس صحابی کے حوالے سے لوٹی ہوئی چیز کی ممانعت سے متعلق حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 8068
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْمُتْعَةِ، وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقَيْنِ فِي إِحْدَاهُمَا : مَنْصُورُ بْنُ دِينَارٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَفِي الْأُخْرَى مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے متعہ کرنے اور پالتو گدھوں کے گوشت سے منع کر دیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو حوالوں سے نقل کی ہے ۔ ایک سند میں ایک راوی منصور بن دینار ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، جبکہ دوسری سند میں ایک راوی مؤمل بن اسماعیل ہے ، جسے یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو حوالوں سے نقل کی ہے ۔ ایک سند میں ایک راوی منصور بن دینار ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، جبکہ دوسری سند میں ایک راوی مؤمل بن اسماعیل ہے ، جسے یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 8069
وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا فَتَحَ خَيْبَرَ أَصَابَ النَّاسُ حُمُرًا فَانْتَهَبُوهَا حَتَّى غَلَتْ بِهَا الْقُدُورُ، فَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقِيلَ : إِنَّ حُمُرَ النَّاسِ قَدْ نُحِرَتْ ، فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ يُكْفِئُ الْإِنَاءَ بِسِنَّةِ قَوْسِهِ ، وَعَمُودِ بَيْتِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ دَاوُدُ بْنُ يَسَارٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر فتح کیا ، تو لوگوں کو گدھے ملے لوگوں نے انہیں لوٹ لیا یہاں تک کہ ان کا گوشت ہنڈیاؤں میں پکنے لگے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، تو عرض کی گئی : لوگوں نے گدھے ذبح کر لئے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پالتو گدھوں کے گوشت سے منع کر دیا تو لوگوں نے اپنے برتن ( جن میں وہ گوشت پک رہا تھا ) اپنی کمان کے کنارے سے یا گھر کی لکڑی سے الٹانا شروع کر دیے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی داؤد بن یسار ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی داؤد بن یسار ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔