کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: دائیں ہاتھ کے ذریعے کھانا
عَنْ أَنَسٍ قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَأْكُلَ الرَّجُلُ بِشَمَالِهِ أَوْ يَشْرَبَ بِشَمَالِهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ أَوْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَقْهَانَ ، رَوَى عَنْهُ رَوْحٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، وَلَمْ يُضَعِّفْهُ أَحَدٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ آدمی بائیں ہاتھ کے ذریعے کھائے یا بائیں ہاتھ کے ذریعے پیئے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ یاعبداللہ بن دقہان ہے جس سے روح نے روایت نقل کی ہے ۔ اس نے ہشام بن حسان سے روایت نقل کی ہے ۔ کسی نے اسے ضعیف قرار نہیں دیا اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 7924
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1275) اخرجه احمد فى المسند (202/3)»
وَعَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ أَكَلَ بِشِمَالِهِ أَكْلَ مَعَهُ الشَّيْطَانُ ، وَمَنْ شَرِبَ بِشِمَالِهِ شَرِبَ مَعَهُ الشَّيْطَانُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَفِي الْآخَرِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” جو شخص بائیں ہاتھ کے ذریعے کھاتا ہے اس کے ساتھ شیطان کھاتا ہے ، اور جو شخص بائیں ہاتھ کے ذریعے پیتا ہے اس کے ساتھ شیطان پیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام أحمد کی سند میں ایک راوی أحمد بن رشدین بن سعد ہے ، اور وہ ضعیف ہے اس کی توثیق کی گئی ہے دوسری روایت کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کی نقل کردہ حدیث ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 7925
درجۂ حدیث محدثین: إسنادِ احمد ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (294) اخرجه احمد فى المسند (77/6)»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَأْكُلْ بِشِمَالِهِ ، وَإِذَا شَرِبَ فَلَا يَشْرَبْ بِشِمَالِهِ ، وَإِذَا أَخَذَ فَلَا يَأْخُذْ بِشِمَالِهِ ، وَإِذَا أَعْطَى فَلَا يُعْطِ بِشِمَالِهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَهُوَ مُرْسَلٌ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب تم میں سے کوئی ایک شخص کچھ کھائے ، تو وہ بائیں ہاتھ کے ذریعے نہ کھائے ، اور جب وہ پیئے ، تو بائیں ہاتھ کے ذریعے نہ پیئے ، اور جب وہ کچھ پکڑے ، تو بائیں ہاتھ کے ذریعے نہ پکڑے ( یا کچھ لے ، تو بائیں ہاتھ کے ذریعے نہ لے ) اور جب کچھ دے ، تو بائیں ہاتھ کے ذریعے نہ دے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت مرسل ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 7926
درجۂ حدیث محدثین: مرسل صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (383/4)»
وَعَنْ حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ اضْطَجَعَ عَلَى يَدِهِ الْيُمْنَى ، وَكَانَتْ يَمِينُهُ لِأَكْلِهِ ، وَشَرَابِهِ ، وَوُضُوئِهِ ، وَثِيَابِهِ ، وَأَخْذِهِ ، وَعَطَائِهِ ، وَكَانَ يَجْعَلُ شِمَالَهُ لِمَا سِوَى ذَلِكَ . ¤ قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ طَرَفًا مِنْ أَوَّلِهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بستر پر آتے تھے ، تو دائیں کروٹ کے بل لیٹ جاتے تھے آپ کا دایاں دست مبارک کھانے کے لئے پینے کے لئے وضو کرنے کے لئے لباس کے لئے کوئی چیز پکڑنے کے لئے تھا ، اور بایاں دست مبارک اس کے علاوہ کاموں کے لئے تھا ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ابوداؤد نے اس روایت کا ابتدائی حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 7927
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (203/23) اخرجه احمد فى المسند (287/6)»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ عَنِ امْرَأَةٍ مِنْهُمْ قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا آكُلُ بِشِمَالِي ، وَكُنْتُ امْرَأَةً عَسْرَاءَ ، فَضَرَبَ يَدِي فَسَقَطَتِ اللُّقْمَةُ فَقَالَ : " لَا تَأْكُلِي بِشِمَالِكِ ، وَقَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَكِ يَمِينًا " أَوْ قَالَ : " قَدْ أَطْلَقَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَمِينَكِ " . ¤ قَالَ : فَتَحَوَّلَتْ شِمَالِي يَمِينًا فَمَا أَكَلْتُ بِهَا بَعْدُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عبدالله بن محمد بن عبداللہ بن زید اپنے خاندان کی ایک خاتون کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے میں بائیں ہاتھ کے ذریعے کھا رہی تھی میں بائیں ہاتھ سے کام کرنے والی عورت تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ہاتھ پر مارا تو لقمہ گر گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم بائیں ہاتھ کے ذریعے نہ کھاؤ ! اللہ تعالیٰ نے تمہارا دایاں بنایا ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) آپ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے تمہارے دائیں ہاتھ کو کھلا رکھا ہے ( یعنی اسے استعمال کیا جا سکتا ہے “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : وہ خاتون کہتی ہیں ، تو پھر میں نے بائیں ہاتھ کے کاموں کو دائیں ہاتھ کی طرف منتقل کر دیا اور پھر کبھی بائیں ہاتھ کے ذریعے نہیں کھایا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 7928
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (69/4 و 380/5)»
وَعَنْ جَرْهَدٍ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبَيْنَ يَدَيْهِ طَعَامٌ فَأَدْنَى جَرْهَدٌ يَدَهُ الشِّمَالَ لِيَأْكُلَ وَكَانَتِ الْيُمْنَى مُصَابَةً [ فَقَالَ : " كُلْ بِالْيَمِينِ " فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا مُصَابَةٌ ] فَنَفَثَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَا شَكَا حَتَّى مَاتَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقِ سُفْيَانَ بْنِ فَرْوَةَ عَنْ بَعْضِ ابْنَيْ جَرْهَدٍ ، وَكِلَاهُمَا لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جرہد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھانا موجود تھا ۔ سیدنا جرہد رضی اللہ عنہ نے اپنا بایاں ہاتھ کھانے کے لئے آگے بڑھایا وہ کہتے ہیں : میرے دائیں ہاتھ پر چوٹ لگی ہوئی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : دائیں ہاتھ کے ذریعے کھاؤ انہوں نے عرض کی اس پر چوٹ لگی ہوئی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر لعاب دہن ڈالا تو اس کے بعد سیدنا جرہد رضی اللہ عنہ کے انتقال تک اس ہاتھ میں کبھی کوئی تکلیف نہیں ہوئی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے سفیان بن فروہ کے حوالے سے سیدنا جرہد رضی اللہ عنہ کے دو صاحبزادوں سے نقل کی ہے ۔ اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 7929
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (2151)»
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأَى سُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةَ تَأْكُلُ بِشِمَالِهَا فَقَالَ : " مَا لَهَا تَأْكُلُ بِشِمَالِهَا أَجِدُهَا دَاعِرَةً ! " . فَقَالَتْ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ فِي يَدِي قُرْحَةٌ قَالَ : " وَإِنْ مَوْتُ بَقَرَةٍ " فَأَخَذَهَا طَاعُونٌ فَقَتَلَهَا . ¤ وَفِي رِوَايَةٍ : " وَأَيْنَ مَوْتُ بَقَرَةٍ ؟ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ دُخَيْنٌ الْحَجَرِيُّ ، وَجَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ ، وَدُخَيْنٌ إِنْ كَانَ هُوَ أَبُو الْغُصْنِ فَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سبیعہ اسلمیہ کو بائیں ہاتھ کے ذریعے کھاتے ہوئے دیکھا تو فرمایا کیا وجہ ہے ؟ یہ بائیں ہاتھ کے ذریعے کھا رہی ہے ، میں اسے خرابی والی پاتا ہوں ، اس نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! میرے ہاتھ میں پھوڑا نکلا ہوا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اور اگر گائے کی موت راوی کہتے ہیں : تو اس خاتون کو بعد میں طاعون نے اپنی لپیٹ میں لے کے موت کا شکار کر دیا تھا ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” گائے کی موت کہاں ہے ؟ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی دخین حجری ہے ، اور راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں دخین نامی راوی سے مراد اگر تو ابوالغصن ہے ، تو پھر وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 7930
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (321/17)»
وَعَنْ عُمَرَ - يَعْنِي : ابْنَ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَأْكُلُ أَحَدُكُمْ بِشِمَالِهِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ وَيَشْرَبُ بِشِمَالِهِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى مِنْ طَرِيقِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم میں سے کوئی ایک بائیں ہاتھ کے ذریعے نہ کھائے کیونکہ شیطان بائیں ہاتھ کے ذریعے کھاتا ہے ، اور بائیں ہاتھ کے ذریعے پیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے عبیداللہ بن عمر کے حوالے سے زہری سے نقل کی ہے ۔ اور میں ان سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 7931
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (207)»