حدیث نمبر: 7930
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأَى سُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةَ تَأْكُلُ بِشِمَالِهَا فَقَالَ : " مَا لَهَا تَأْكُلُ بِشِمَالِهَا أَجِدُهَا دَاعِرَةً ! " . فَقَالَتْ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ فِي يَدِي قُرْحَةٌ قَالَ : " وَإِنْ مَوْتُ بَقَرَةٍ " فَأَخَذَهَا طَاعُونٌ فَقَتَلَهَا . ¤ وَفِي رِوَايَةٍ : " وَأَيْنَ مَوْتُ بَقَرَةٍ ؟ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ دُخَيْنٌ الْحَجَرِيُّ ، وَجَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ ، وَدُخَيْنٌ إِنْ كَانَ هُوَ أَبُو الْغُصْنِ فَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سبیعہ اسلمیہ کو بائیں ہاتھ کے ذریعے کھاتے ہوئے دیکھا تو فرمایا کیا وجہ ہے ؟ یہ بائیں ہاتھ کے ذریعے کھا رہی ہے ، میں اسے خرابی والی پاتا ہوں ، اس نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! میرے ہاتھ میں پھوڑا نکلا ہوا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اور اگر گائے کی موت راوی کہتے ہیں : تو اس خاتون کو بعد میں طاعون نے اپنی لپیٹ میں لے کے موت کا شکار کر دیا تھا ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” گائے کی موت کہاں ہے ؟ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی دخین حجری ہے ، اور راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں دخین نامی راوی سے مراد اگر تو ابوالغصن ہے ، تو پھر وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 7930
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (321/17)»