مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأطعمة— کھانوں کے بارے میں روایات
بَابُ الْأَكْلِ بِالْيَمِينِ . باب: دائیں ہاتھ کے ذریعے کھانا
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ عَنِ امْرَأَةٍ مِنْهُمْ قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا آكُلُ بِشِمَالِي ، وَكُنْتُ امْرَأَةً عَسْرَاءَ ، فَضَرَبَ يَدِي فَسَقَطَتِ اللُّقْمَةُ فَقَالَ : " لَا تَأْكُلِي بِشِمَالِكِ ، وَقَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَكِ يَمِينًا " أَوْ قَالَ : " قَدْ أَطْلَقَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَمِينَكِ " . ¤ قَالَ : فَتَحَوَّلَتْ شِمَالِي يَمِينًا فَمَا أَكَلْتُ بِهَا بَعْدُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤عبدالله بن محمد بن عبداللہ بن زید اپنے خاندان کی ایک خاتون کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے میں بائیں ہاتھ کے ذریعے کھا رہی تھی میں بائیں ہاتھ سے کام کرنے والی عورت تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ہاتھ پر مارا تو لقمہ گر گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم بائیں ہاتھ کے ذریعے نہ کھاؤ ! اللہ تعالیٰ نے تمہارا دایاں بنایا ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) آپ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے تمہارے دائیں ہاتھ کو کھلا رکھا ہے ( یعنی اسے استعمال کیا جا سکتا ہے “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : وہ خاتون کہتی ہیں ، تو پھر میں نے بائیں ہاتھ کے کاموں کو دائیں ہاتھ کی طرف منتقل کر دیا اور پھر کبھی بائیں ہاتھ کے ذریعے نہیں کھایا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔