کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اپنے آگے سے کھانا
عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةُ أَنَّهُ قَرَّبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طَعَامًا فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ : " اذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ وَلِيَأْكُلْ كُلُّ امْرِئٍ مِمَّا يَلِيهِ " . ¤ قُلْتُ : لِعُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن ابوسلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے آگے کھانا کیا آپ نے اپنے اصحاب سے فرمایا تم لوگ اللہ کا نام لو اور ہر شخص اپنے آگے سے کھائے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں سیدنا عمر بن ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث صحیح میں بھی مذکور ہے جو اس روایت کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی سند نقل کردہ حدیث حسن ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 7932
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (230)»
وَعَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : رَآنِي الْحَكَمُ الْغِفَارِيُّ وَأَنَا آكُلُ - وَأَنَا غُلَامٌ - مِنْ هَاهُنَا وَهَاهُنَا فَقَالَ : يَا بُنَيَّ لَا تَأْكُلْ هَكَذَا ، هَكَذَا يَأْكُلُ الشَّيْطَانُ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا وَضَعَ يَدَهُ فِي الْقَصْعَةِ - أَوْ فِي الْإِنَاءِ - لَمْ تُجَاوِزْ أَصَابِعُهُ مَوْضِعَ كَفِّهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ النُّعْمَانُ بْنُ شِبْلٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
جعفر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں : سیدنا حکم غفاری رضی اللہ عنہ نے مجھے کھانا کھاتے ہوئے دیکھا میں ان دنوں لڑکا تھا میں یہاں سے اور وہاں سے کھا رہا تھا انہوں نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! تم اس طرح نہ کھاؤ اس طرح شیطان کھاتا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنا دست مبارک پیالے میں ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) برتن میں ڈالتے تھے ، تو آپ کی انگلیاں آپ کی ہتھیلی جتنی جگہ سے آگے نہیں جاتی تھیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نعمان بن شبل ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 7933
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3163)»
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا أَكَلَ الطَّعَامَ لَا تَعْدُو يَدُهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ فِيمَا بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَإِذَا أَتَى بِالتَّمْرِ جَالَتْ يَدُهُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کھانا کھاتے تھے ، تو آپ کا دست مبارک آپ کے آگے موجود اتنی جگہ سے آگے نہیں جاتا تھا جتنا دونوں آنکھوں کے درمیان کی جگہ ہے ، لیکن جب آپ کے پاس کھجور آتی تھی ، تو آپ کا دست مبارک اس ( کھجوروں کے برتن میں ) گردش کرتا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خالد بن اسماعیل ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 7934
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2871)»