عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّهَا كَانَتْ إِذَا ثَرَدَتْ غَطَّتْهُ شَيْئًا حَتَّى يَذْهَبَ فَوْرُهُ ثُمَّ تَقُولُ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّهُ أَعْظَمُ لِلْبَرَكَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ بِإِسْنَادَيْنِ أَحَدُهُمَا مُنْقَطِعٌ وَفِي الْآخَرِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ قُرَّةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے ثرید تیار کیا اور پھر اسے کسی چیز کے ذریعے ڈھانپ دیا تاکہ اس کی گرمی ختم ہو جائے پھر انہوں نے یہ بات بیان کی میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : یہ زیادہ برکت کا باعث ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ۔ جن میں سے ایک منقطع ہے ، اور دوسری میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے جس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے
یہ روایت امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قرہ بن عبدالرحمن ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ان دونوں کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 7882
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (84/24) اخرجه احمد فى المسند (350/5)»
وَعَنْ جُوَيْرِيَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَكْرَهُ [ أَنْ يُؤْكَلَ ] الطَّعَامُ حَتَّى يَذْهَبَ فَوْرَةُ دُخَانِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ إِسْنَادِهِ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ جب تک کھانے کے دھوئیں کی گرمی ختم نہیں ہوتی اس سے پہلے کھانا کھایا جائے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اس کی بقیہ سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 7883
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (66/24)»
وَعَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ قَيْسٍ - وَكَانَتْ تَحْتَ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ - قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَعَلْتُ لَهُ خَزِيرَةً فَقَدَّمْتُهَا إِلَيْهِ ، فَوَضَعَ يَدَهُ فِيهَا فَوَجَدَ حَرَّهَا فَقَبَضَهَا فَقَالَ : " يَا خَوْلَةُ لَا نَصْبِرُ عَلَى حَرٍّ وَلَا عَلَى بَرْدٍ ، يَا خَوْلَةُ إِنَّ اللَّهَ أَعْطَانِي الْكَوْثَرَ ، وَهُوَ نَهْرٌ فِي الْجَنَّةِ ، وَمَا خَلْقٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّنْ يَرِدُهُ مِنْ قَوْمِكِ " . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ خولہ بنت قیس رضی اللہ عنہا جو سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں وہ بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے میں نے آپ کے لئے خزیرہ تیار کیا وہ میں نے آپ کی خدمت میں پیش کیا آپ نے اس میں ہاتھ ڈالا تو اس کی گرمی کو محسوس کیا ، تو اپنا ہاتھ کھینچ کر لیا آپ نے ارشاد فرمایا : اے خولہ ! ہم نہ گرمی برداشت کر سکتے ہیں اور نہ ٹھنڈک برداشت کر سکتے ہیں اے خولہ ! اللہ تعالیٰ نے مجھے کوثر عطا کیا ہے وہ جنت میں موجود ایک نہر ہے ، اور مخلوق میں کوئی بھی میرے نزدیک ان افراد سے زیادہ محبوب نہیں ہے کہ تمہاری قوم کے جو افراد اس پر وارد ہوں گے “ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 7884
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (231/24) اخرجه احمد فى المسند (409/6)»
وَفِي رِوَايَةٍ : قَالَتْ : فَقَرَّبْتُ لَهُ عَصِيدَةً فِي تَوْرٍ ، فَلَمَّا وَضَعَ يَدَهُ قَالَ : " احْتَرَقَتْ " فَقَالَ : " حِسِّ " ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ ابْنَ آدَمَ إِنْ أَصَابَهُ خَيْرٌ قَالَ : حَسِّ وَإِنْ أَصَابَهُ بَرْدٌ قَالَ : حَسِّ " . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : وہ خاتون بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیالے میں عصیدہ پیش کیا جب آپ نے اپنا ہاتھ اس پر رکھا تو فرمایا اس نے جلا دیا آپ نے فرمایا : ” ارے “ ( یا ” اوہ “ ) پھر آپ نے فرمایا : انسان کو جب کوئی بھلائی لاحق ہوتی ہے ، تو وہ حس کہہ دیتا ہے ، تو جب اسے ٹھنڈ لگتی ہے ، تو بھی وہ ” ارے “ کہہ دیتا ہے ۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہیں جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 7885
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (232/24)»
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُتِيَ بِصَحْفَةٍ تَفُورُ فَأَسْرَعَ يَدَهُ فِيهَا ثُمَّ رَفَعَ يَدَهُ فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يُطْعِمْنَا نَارًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْبَكْرِيُّ ضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک پیالہ لایا گیا جو گرم تھا آپ نے اپنا ہاتھ اس میں ڈالا اور پھر اسے اٹھا لیا اور ارشاد فرمایا : بے شک اللہ تعالیٰ ہمیں آگ نہیں کھلاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن یزید بکری ہے ، جسے ابوحاتم نے ضعیف قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 7886
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (934)»
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَبْرِدُوا بِالطَّعَامِ فَإِنَّ الطَّعَامَ الْحَارَّ غَيْرُ ذِي بَرَكَةٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْبَكْرِيُّ وَقَدْ ضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کھانے کو ٹھنڈا کر کے کھاؤ کیونکہ گرم کھانا برکت والا نہیں ہوتا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن یزید بکری ہے ، جسے ابوحاتم نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 7887
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف