حدیث نمبر: 7882
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّهَا كَانَتْ إِذَا ثَرَدَتْ غَطَّتْهُ شَيْئًا حَتَّى يَذْهَبَ فَوْرُهُ ثُمَّ تَقُولُ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّهُ أَعْظَمُ لِلْبَرَكَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ بِإِسْنَادَيْنِ أَحَدُهُمَا مُنْقَطِعٌ وَفِي الْآخَرِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ قُرَّةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے ثرید تیار کیا اور پھر اسے کسی چیز کے ذریعے ڈھانپ دیا تاکہ اس کی گرمی ختم ہو جائے پھر انہوں نے یہ بات بیان کی میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : یہ زیادہ برکت کا باعث ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ۔ جن میں سے ایک منقطع ہے ، اور دوسری میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے جس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے
یہ روایت امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قرہ بن عبدالرحمن ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ان دونوں کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 7882
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (84/24) اخرجه احمد فى المسند (350/5)»