حدیث نمبر: 7885
وَفِي رِوَايَةٍ : قَالَتْ : فَقَرَّبْتُ لَهُ عَصِيدَةً فِي تَوْرٍ ، فَلَمَّا وَضَعَ يَدَهُ قَالَ : " احْتَرَقَتْ " فَقَالَ : " حِسِّ " ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ ابْنَ آدَمَ إِنْ أَصَابَهُ خَيْرٌ قَالَ : حَسِّ وَإِنْ أَصَابَهُ بَرْدٌ قَالَ : حَسِّ " . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : وہ خاتون بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیالے میں عصیدہ پیش کیا جب آپ نے اپنا ہاتھ اس پر رکھا تو فرمایا اس نے جلا دیا آپ نے فرمایا : ” ارے “ ( یا ” اوہ “ ) پھر آپ نے فرمایا : انسان کو جب کوئی بھلائی لاحق ہوتی ہے ، تو وہ حس کہہ دیتا ہے ، تو جب اسے ٹھنڈ لگتی ہے ، تو بھی وہ ” ارے “ کہہ دیتا ہے ۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہیں جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 7885
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (232/24)»