مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأطعمة— کھانوں کے بارے میں روایات
بَابُ الطَّعَامِ الْحَارِّ . باب: گرم کھانا
وَعَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ قَيْسٍ - وَكَانَتْ تَحْتَ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ - قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَعَلْتُ لَهُ خَزِيرَةً فَقَدَّمْتُهَا إِلَيْهِ ، فَوَضَعَ يَدَهُ فِيهَا فَوَجَدَ حَرَّهَا فَقَبَضَهَا فَقَالَ : " يَا خَوْلَةُ لَا نَصْبِرُ عَلَى حَرٍّ وَلَا عَلَى بَرْدٍ ، يَا خَوْلَةُ إِنَّ اللَّهَ أَعْطَانِي الْكَوْثَرَ ، وَهُوَ نَهْرٌ فِي الْجَنَّةِ ، وَمَا خَلْقٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّنْ يَرِدُهُ مِنْ قَوْمِكِ " . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤سیدہ خولہ بنت قیس رضی اللہ عنہا جو سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں وہ بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے میں نے آپ کے لئے خزیرہ تیار کیا وہ میں نے آپ کی خدمت میں پیش کیا آپ نے اس میں ہاتھ ڈالا تو اس کی گرمی کو محسوس کیا ، تو اپنا ہاتھ کھینچ کر لیا آپ نے ارشاد فرمایا : اے خولہ ! ہم نہ گرمی برداشت کر سکتے ہیں اور نہ ٹھنڈک برداشت کر سکتے ہیں اے خولہ ! اللہ تعالیٰ نے مجھے کوثر عطا کیا ہے وہ جنت میں موجود ایک نہر ہے ، اور مخلوق میں کوئی بھی میرے نزدیک ان افراد سے زیادہ محبوب نہیں ہے کہ تمہاری قوم کے جو افراد اس پر وارد ہوں گے “ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔