عَنْ عَلِيٍّ أَنَّ امْرَأَةَ الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ أَتَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْوَلِيدَ يَضْرِبُهَا - قَالَ نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ فِي حَدِيثِهِ : تَشْكُوهُ - قَالَ : " قَوْلِي لَهُ قَدْ أَجَارَنِي " قَالَ عَلِيٌّ : فَلَمْ تَلْبَثْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى رَجَعَتْ ، فَقَالَتْ : مَا زَادَنِي إِلَّا ضَرْبًا ، فَأَخَذَ هُدْبَةً مِنْ ثَوْبِهِ فَدَفَعَهَا إِلَيْهَا ، فَقَالَ : " قَوْلِي لَهُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ أَجَارَنِي " فَلَمْ تَلْبَثْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى رَجَعَتْ فَقَالَتْ : مَا زَادَنِي إِلَّا ضَرْبًا ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ : " اللَّهُمَّ عَلَيْكَ الْوَلِيدَ أَثِمَ بِي ، مَرَّتَيْنِ " . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ، وَالْبَزَّارُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ولید بن عقبہ کی بیوی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ولید نے اس کی پٹائی کی ہے نصر بن علی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں اس عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس سے جا کے کہو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پناہ دیدی ہے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : تھوڑی دیر گزرنے کے بعد وہ عورت پھر واپس آ گئی اور بولی: اس نے میری مزید پٹائی کی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کپڑے کا ٹکڑا لیا اور فرمایا تم اسے یہ کہہ دو کہ اللہ کے رسول نے مجھے پناہ دیدی ہے تھوڑی دیر گزرنے کے بعد وہ عورت واپس آئی اور بولی: اس نے مزید میری پٹائی کی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے اور فرمایا : اے اللہ ! تو ولید کی گرفت کر اس نے میری نافرمانی کی ہے یہ بات آپ نے دو مرتبہ فرمائی ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد ، امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد ، امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رِجَالًا شَكَوُا النِّسَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَذِنَ لَهُمْ فِي ضَرْبِهِنَّ فَأَطَافَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ مِنْهُنَّ نِسَاءٌ كَثِيرٌ ، قَالَتْ : مَا لَقِيَ نِسَاءُ الْمُسْلِمِينَ ! ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اضْرِبُوهُنَّ وَلَنْ يَضْرِبَ - أَحْسَبُهُ قَالَ : - خِيَارُكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ الْفَضْلِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : کچھ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیویوں کی شکایت کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان خواتین کی پٹائی کرنے کی اجازت دیدی اس رات بہت سی خواتین ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے پاس ) آئیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : انہوں نے وہ بات بتائی کہ جس کا انہیں سامنا کرنا پڑا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم ان کی پٹائی کرو لیکن ( راوی کو شک ہے روایت میں یہ الفاظ ہیں : ) تمہارے بہترین لوگ پٹائی نہیں کریں گے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن فضل ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن فضل ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : دَخَلْتُ دَارَ طَلْحَةَ ، وَهُوَ مُغْلِقٌ الْبَابَ عَلَى أُمِّ سُلَيْمٍ ، وَهُوَ يَضْرِبُهَا وَهِيَ أُمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَنَادَيْتُ مِنْ وَرَاءِ الْبَابِ : مَا تُرِيدُ إِلَى هَذِهِ الْعَجُوزِ تَضْرِبُهَا ؟ فَنَادَتْنِي مِنْ وَرَاءِ الْبَابِ فَقَالَتْ لِي : تَقُولُ الْعَجُوزُ عَجَّزَ اللَّهُ رُكَبَكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ خَوَّاتِ بْنِ شُعْبَةَ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کے گھر میں داخل ہوا اس کا دروازہ بند تھا اندر سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا موجود تھیں اور سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ ان کی پٹائی کر رہے تھے سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی والدہ تھیں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے دروازے کے پیچھے سے پکار کر کہا: آپ اس بوڑھی خاتون کی کیوں پٹائی کر رہے ہیں ، تو دروازے کے دوسری طرف سے سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے پکار کر مجھے کہا: تم نے بوڑھی کہا: ہے اللہ تعالیٰ تمہارے گھٹنوں کو عاجز کر دے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن خوات بن شعبہ ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن خوات بن شعبہ ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔