کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: عورت کو شوہر کی اطاعت کرنے اور اس کے مال ، اپنے حمل کی دیکھ بھال کرنے اور حمل کو جنم دینے کے حوالے سے جو ثواب ملتا ہے ، اس کا بیان
عَنْ أَنَسٍ قَالَ : أَتَتِ النِّسَاءُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْنَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَهَبَ الرِّجَالُ بِالْفَضْلِ بِالْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَمَا لَنَا عَمَلٌ نُدْرِكُ بِهِ عَمَلَ الْمُجَاهِدِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ؟ فَقَالَ : " مَهْنَةُ إِحْدَاكُنَّ فِي بَيْتِهَا تُدْرِكُ عَمَلَ الْمُجَاهِدِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ رَوْحُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَالْبَزَّارُ ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَابْنُ عَدِيٍّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : خواتین نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے حوالے سے مردوں کو فضیلت حاصل ہو گئی ہے ہمارا کون سا ایسا عمل ہے جس کے ذریعے ہم اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے عمل تک پہنچ سکتی ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم میں سے کسی ایک عورت کا گھر کی دیکھ بھال کرنا اسے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کے عمل تک پہنچا دیتا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی روح بن مسیب ہے ، جسے یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے اس روایت کو امام بزار نے بھی نقل کیا ہے ، جبکہ ابن حبان اور ابن عدی نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی روح بن مسیب ہے ، جسے یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے اس روایت کو امام بزار نے بھی نقل کیا ہے ، جبکہ ابن حبان اور ابن عدی نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ سَلَّامَةَ حَاضِنَةَ إِبْرَاهِيمَ ابْنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ تُبَشِّرُ الرِّجَالَ بِكُلِّ خَيْرٍ ، وَلَا تُبَشِّرُ النِّسَاءَ ؟ قَالَ : " أَصُوَيْحِبَاتُكِ دَسَسْنَكِ لِهَذَا ؟ " قَالَتْ : أَجَلْ هُنَّ أَمَرْنَنِي . قَالَ : " أَفَمَا تَرْضَى إِحْدَاكُنَّ أَنَّهَا إِذَا كَانَتْ حَامِلًا مِنْ زَوْجِهَا ، وَهُوَ عَنْهَا رَاضٍ أَنَّ لَهَا مِثْلَ أَجْرِ الصَّائِمِ الْقَائِمِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَإِذَا أَصَابَهَا الطَّلْقُ لَمْ يَعْلَمْ أَهْلُ السَّمَاءِ وَأَهْلُ الْأَرْضِ مَا أُخْفِيَ لَهَا مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ فَإِذَا وَضَعَتْ لَمْ يَخْرُجْ مِنْهَا جَرْعَةٌ مِنْ لَبَنِهَا ، وَلَمْ يُمَصَّ مَصَّةٌ إِلَّا كَانَ لَهَا بِكُلِّ جَرْعَةٍ ، وَبِكُلِّ مَصَّةٍ حَسَنَةٌ ، فَإِنْ أَسْهَرَهَا لَيْلَةً كَانَ لَهَا مِثْلُ أَجْرِ سَبْعِينَ رَقَبَةً وَتُعْتِقُهُنَّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ - سَلَّامَةَ يَعْنِي - لِمَنْ ؟ أَعْنِي بِهَذِهِ الْمُتَنَعِّمَاتِ الصَّالِحَاتِ الْمُطِيعَاتِ اللَّاتِي لَا يَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَمَّارُ بْنُ نُصَيْرٍ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَصَالِحٌ جَزَرَةُ ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کی دائی ماں سیدہ سلامہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے مردوں کو ہر حوالے سے خوشخبری دیدی ہے آپ نے خواتین کو خوشخبری نہیں دی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تمہاری ساتھی خواتین نے تمہیں اس مقصد کے لئے بھیجا ہے ۔ انہوں نے عرض کی : جی ہاں انہوں نے ہی مجھ سے کہا: ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم میں سے کوئی ایک عورت اس بات پر راضی نہیں ہوتی کہ جب وہ اپنے شوہر سے حاملہ ہوتی ہے ، اور وہ شوہر اس سے راضی ہو ، تو اس عورت کو اللہ کی راہ میں روزہ رکھنے والے اور قیام کرنے والے کی مانند اجر ملتا ہے ، اور جب اسے درد زہ لاحق ہوتا ہے ، تو آسمان والے اور زمین والے یہ بات نہیں جانتے ہیں کہ اس عورت کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لئے کیا چیز پوشیدہ رکھی گئی ہے ، اور جب وہ عورت بچے کو جنم دیتی ہے ، تو اس کے دودھ کا جو بھی گھونٹ نکلتا ہے ، یا بچہ جو بھی دودھ چوستا ہے ، تو ہر ایک مرتبہ گھونٹ اور ہر ایک مرتبہ چوسنے کے عوض میں اس عورت کو ایک نیکی ملتی ہے ، اور اگر وہ رات کے وقت جاگتی ہے ، تو اسے ستر غلام آزاد کرنے کا ثواب ملتا ہے ، جن سب کو اس نے اللہ کی راہ میں آزاد کیا ہو سیدہ سلامہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : یا اجر کس کو ملتا ہے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اُن عورتوں کو جو نعمت والی ہوں ، نیک ہوں ، فرمانبردار ہوں ، جو شوہر کی ناشکری نہ کرتی ہوں“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمار بن نصیر ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک راوی صالح جزرہ ہے ، جسے یحییٰ بن معین اور دیگر حضرات نے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمار بن نصیر ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک راوی صالح جزرہ ہے ، جسے یحییٰ بن معین اور دیگر حضرات نے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ - أَحْسَبُهُ رَفَعَهُ - قَالَ : " الْمَرْأَةُ فِي حَمْلِهَا إِلَى وَضْعِهَا إِلَى قَضَائِهَا كَالْمُرَابِطِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَإِنْ مَاتَتْ فِيمَا بَيْنَ ذَلِكَ فَلَهَا أَجْرُ شَهِيدٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعٍ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُمَا . وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الصَّبِيُّ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سعید بن جبیر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے ۔ انہوں نے اسے مرفوع حدیث کے طور پر نقل کیا ہے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” عورت اپنے حمل سے لے کر بچے کو جنم دینے تک اللہ کی راہ میں پہرہ دینے والے کی مانند ہوتی ہے ، اور اگر وہ اس دوران مر جائے گی ، تو اسے شہید کا اجر ملتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، جسے شعبہ اور ثوری نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابراہیم صبی ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، جسے شعبہ اور ثوری نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابراہیم صبی ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا وَافِدَةُ النِّسَاءِ إِلَيْكَ هَذَا الْجِهَادُ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى الرِّجَالِ ، فَإِنْ يُصِيبُوا أُجِرُوا ، وَإِنْ قُتِلُوا كَانُوا أَحْيَاءً عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ وَنَحْنُ مَعْشَرَ النِّسَاءِ نَقُومُ عَلَيْهِمْ فَمَا لَنَا مِنْ ذَلِكَ ؟ قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَبْلِغِي مَنْ لَقِيتِ مِنَ النِّسَاءِ أَنَّ طَاعَةَ الزَّوْجِ وَاعْتِرَافًا بِحَقِّهِ يَعْدِلُ ذَلِكَ وَقَلِيلٌ مِنْكُنَّ مَنْ يَفْعَلُهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ كُرَيْبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں خواتین کی نمائندہ کے طور پر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی ہوں اللہ تعالیٰ نے مردوں پر جہاد کو لازم قرار دیا ہے اگر وہ مال غنیمت حاصل کرتے ہیں ، تو انہیں اجر ملتا ہے ، اور اگر وہ شہید ہو جائیں ، تو وہ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں زندہ ہوتے ہیں جنہیں رزق دیا جاتا ہے ہم خواتین ان کی دیکھ بھال کرتی ہیں ، تو ہمیں کیا اجر ملے گا راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم جس بھی خاتون سے ملو اسے یہ پیغام پہنچا دینا کہ شوہر کی اطاعت کرنا اور اس کے حق کا اعتراف کرنا اس چیز کے برابر ہے اور تم میں سے تھوڑی خواتین ایسی ہیں جو ایسا کرتی ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن کریب ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن کریب ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا صَلَّتِ الْمَرْأَةُ خَمْسَهَا وَصَامَتْ شَهَرَهَا وَحَفِظَتْ فَرْجَهَا وَأَطَاعَتْ زَوْجَهَا دَخَلَتِ الْجَنَّةَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ رَوَّادُ بْنُ الْجَرَّاحِ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَجَمَاعَةٌ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ وَقَالَ ابْنُ مَعِينٍ : وَهِمَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب کوئی عورت پانچ نمازیں ادا کرے اور مخصوص مہینے ( یعنی رمضان کے ) روزے رکھے اور اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرے اور اپنے شوہر کی اطاعت کرے وہ جنت میں داخل ہو گی “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی رواد بن جراح ہے ، جسے امام أحمد اور ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے یحیی بن معین کہتے ہیں : اسے اس حدیث میں وہم ہوا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی رواد بن جراح ہے ، جسے امام أحمد اور ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے یحیی بن معین کہتے ہیں : اسے اس حدیث میں وہم ہوا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، وَهُوَ يُرِيدُ الْجِهَادَ وَأُمُّهُ تَمْنَعُهُ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " عِنْدَ أُمِّكَ قَرَّ ، فَإِنَّ لَكَ مِنَ الْأَجْرِ عِنْدَهَا مِثْلَ مَا لَكَ فِي الْجِهَادِ " . ¤ وَجَاءَهُ آخَرُ فَقَالَ : إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ نَفْسِي . فَشُغِلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَهَبَ الرَّجُلُ فَوُجِدَ يَنْحَرُ نَفْسَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي أُمَّتِي مَنْ يُوفِي بِالنَّذْرِ وَيَخَافُ يَوْمًا كَانَ شَرُّهُ مُسْتَطِيرًا ، هَلْ لَكَ مِنْ مَالٍ ؟ " قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : " اهْدِ مِائَةَ بَدَنَةٍ وَاجْعَلْهَا فِي ثَلَاثِ سِنِينَ ، فَإِنَّكَ لَا تَجِدُ مَنْ يَأْخُذُهَا مِنْكَ مَعًا " ثُمَّ جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ " : إِنِّي رَسُولُ النِّسَاءِ إِلَيْكَ وَمَا مِنْهُنَّ امْرَأَةٌ عَلِمَتْ أَوْ لَمْ تَعْلَمْ إِلَّا وَهِيَ تَهْوَى مَخْرَجِي إِلَيْكَ ، اللَّهُ رَبُّ النِّسَاءِ وَالرِّجَالِ وَإِلَهُهُنَّ ، وَأَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ إِلَى النِّسَاءِ وَالرِّجَالِ كَتَبَ اللَّهُ الْجِهَادَ عَلَى الرِّجَالِ ، فَإِنْ أَصَابُوا أُثْرُوا ، وَإِنِ اسْتُشْهِدُوا كَانُوا أَحْيَاءً عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ فَمَا يَعْدِلُ ذَلِكَ مِنْ أَعْمَالِهِمْ مِنَ الطَّاعَةِ ؟ قَالَ : " طَاعَةُ أَزْوَاجِهِنَّ وَالْمَعْرِفَةُ بِحُقُوقِهِنَّ وَقَلِيلٌ مِنْكُنَّ مَنْ يَفْعَلُهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ كُرَيْبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا وہ جہاد کے لئے جانا چاہتا تھا ، اور اس کی ماں اسے روک رہی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیونکہ تمہیں اس کے پاس رہ کر اتنا اجر ملے گا جتنا تمہیں جہاد میں ملنا تھا ۔ ایک اور شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : میں نے یہ نذر مانی ہے کہ میں اپنے آپ کو قربان کر دوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ، توجہ اس کی طرف نہیں تھی وہ شخص گیا اور اس نے یہ سوچا کہ اسے اپنے آپ کو قربان کر دینا چاہیے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہر طرح کی حمد اس اللہ کے لئے مخصوص ہے جس نے میری امت میں ایسے افراد پیدا کیے ہیں جو نذر پوری کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی خرابی پھیلی ہوئی ہو گی ( پھر آپ نے اس سے دریافت کیا : کیا تمہارے پاس مال ہے اس نے عرض کی : جی ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ایک سو اونٹوں کی قربانی کرو اور یہ کام تین سالوں میں کرنا کیونکہ ایک ساتھ کرنے کی صورت میں تمہیں لینے والا کوئی نہیں ملے گا پھر ایک خاتون آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے عرض کی : میں خواتین کی نمائندہ کے طور پر آپ کے پاس آئی ہوں ان میں سے ہر ایک عورت خواہ وہ علم رکھتی ہے یا علم نہیں رکھتی اس کی یہ خواہش تھی کہ میں آپ کے پاس آؤں اللہ تعالیٰ عورتوں کا اور مردوں کا دونوں کا پروردگار ہے ، اور ان کا معبود ہے ، اور آپ مردوں اور عورتوں دونوں کی طرف اللہ کے رسول ہیں اللہ تعالیٰ نے مردوں پر تو جہاد لازم قرار دیا ہے اگر وہ اس میں بچ جاتے ہیں ، تو انہیں اجر و ثواب حاصل ہوتا ہے ، اور اگر وہ جام شہادت نوش کر لیتے ہیں ، تو اپنے پروردگار کے پاس زندہ ہوتے ہیں جہاں انہیں رزق دیا جاتا ہے ، تو اطاعت کے کاموں میں سے ان مردوں کے اعمال میں کون سا عمل اس کے برابر ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عورتوں کا اپنے شوہروں کی اطاعت کرنا ان کے حقوق کے معرفت رکھنا ( اس کے برابر ہے ) اور تم خواتین میں ایسی تھوڑی ہیں جو ایسا کرتی ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن کریب ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن کریب ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔