حدیث نمبر: 7633
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، وَهُوَ يُرِيدُ الْجِهَادَ وَأُمُّهُ تَمْنَعُهُ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " عِنْدَ أُمِّكَ قَرَّ ، فَإِنَّ لَكَ مِنَ الْأَجْرِ عِنْدَهَا مِثْلَ مَا لَكَ فِي الْجِهَادِ " . ¤ وَجَاءَهُ آخَرُ فَقَالَ : إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ نَفْسِي . فَشُغِلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَهَبَ الرَّجُلُ فَوُجِدَ يَنْحَرُ نَفْسَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي أُمَّتِي مَنْ يُوفِي بِالنَّذْرِ وَيَخَافُ يَوْمًا كَانَ شَرُّهُ مُسْتَطِيرًا ، هَلْ لَكَ مِنْ مَالٍ ؟ " قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : " اهْدِ مِائَةَ بَدَنَةٍ وَاجْعَلْهَا فِي ثَلَاثِ سِنِينَ ، فَإِنَّكَ لَا تَجِدُ مَنْ يَأْخُذُهَا مِنْكَ مَعًا " ثُمَّ جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ " : إِنِّي رَسُولُ النِّسَاءِ إِلَيْكَ وَمَا مِنْهُنَّ امْرَأَةٌ عَلِمَتْ أَوْ لَمْ تَعْلَمْ إِلَّا وَهِيَ تَهْوَى مَخْرَجِي إِلَيْكَ ، اللَّهُ رَبُّ النِّسَاءِ وَالرِّجَالِ وَإِلَهُهُنَّ ، وَأَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ إِلَى النِّسَاءِ وَالرِّجَالِ كَتَبَ اللَّهُ الْجِهَادَ عَلَى الرِّجَالِ ، فَإِنْ أَصَابُوا أُثْرُوا ، وَإِنِ اسْتُشْهِدُوا كَانُوا أَحْيَاءً عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ فَمَا يَعْدِلُ ذَلِكَ مِنْ أَعْمَالِهِمْ مِنَ الطَّاعَةِ ؟ قَالَ : " طَاعَةُ أَزْوَاجِهِنَّ وَالْمَعْرِفَةُ بِحُقُوقِهِنَّ وَقَلِيلٌ مِنْكُنَّ مَنْ يَفْعَلُهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ كُرَيْبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا وہ جہاد کے لئے جانا چاہتا تھا ، اور اس کی ماں اسے روک رہی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیونکہ تمہیں اس کے پاس رہ کر اتنا اجر ملے گا جتنا تمہیں جہاد میں ملنا تھا ۔ ایک اور شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : میں نے یہ نذر مانی ہے کہ میں اپنے آپ کو قربان کر دوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ، توجہ اس کی طرف نہیں تھی وہ شخص گیا اور اس نے یہ سوچا کہ اسے اپنے آپ کو قربان کر دینا چاہیے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہر طرح کی حمد اس اللہ کے لئے مخصوص ہے جس نے میری امت میں ایسے افراد پیدا کیے ہیں جو نذر پوری کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی خرابی پھیلی ہوئی ہو گی ( پھر آپ نے اس سے دریافت کیا : کیا تمہارے پاس مال ہے اس نے عرض کی : جی ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ایک سو اونٹوں کی قربانی کرو اور یہ کام تین سالوں میں کرنا کیونکہ ایک ساتھ کرنے کی صورت میں تمہیں لینے والا کوئی نہیں ملے گا پھر ایک خاتون آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے عرض کی : میں خواتین کی نمائندہ کے طور پر آپ کے پاس آئی ہوں ان میں سے ہر ایک عورت خواہ وہ علم رکھتی ہے یا علم نہیں رکھتی اس کی یہ خواہش تھی کہ میں آپ کے پاس آؤں اللہ تعالیٰ عورتوں کا اور مردوں کا دونوں کا پروردگار ہے ، اور ان کا معبود ہے ، اور آپ مردوں اور عورتوں دونوں کی طرف اللہ کے رسول ہیں اللہ تعالیٰ نے مردوں پر تو جہاد لازم قرار دیا ہے اگر وہ اس میں بچ جاتے ہیں ، تو انہیں اجر و ثواب حاصل ہوتا ہے ، اور اگر وہ جام شہادت نوش کر لیتے ہیں ، تو اپنے پروردگار کے پاس زندہ ہوتے ہیں جہاں انہیں رزق دیا جاتا ہے ، تو اطاعت کے کاموں میں سے ان مردوں کے اعمال میں کون سا عمل اس کے برابر ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عورتوں کا اپنے شوہروں کی اطاعت کرنا ان کے حقوق کے معرفت رکھنا ( اس کے برابر ہے ) اور تم خواتین میں ایسی تھوڑی ہیں جو ایسا کرتی ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن کریب ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7633
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف