کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: عورت پر شوہر کے حق کا بیان
حدیث نمبر: 7634
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا صَلَّتِ الْمَرْأَةُ خَمْسَهَا وَصَامَتْ شَهْرَهَا وَحَفِظَتْ فَرْجَهَا وَأَطَاعَتْ زَوْجَهَا قِيلَ لَهَا : ادْخُلِي مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شِئْتِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ أَنَسٍ : إِذَا صَلَّتِ الْمَرْأَةُ خَمْسَهَا بِنَحْوِ هَذَا فِي الْبَابِ الَّذِي قَبْلَ هَذَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب عورت پانچ نمازیں ادا کرے اور مخصوص مہینے کے روزے رکھے اور اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرے اور اپنے شوہر کی اطاعت کرے ، تو اسے یہ کہا: جائے گا تم جنت کے جس بھی دروازے سے چاہو اندر داخل ہو جاؤ “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ اس سے پہلے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول یہ حدیث گزر چکی ہے : ” جب عورت پانچ نمازیں ادا کرے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ وہ اس روایت کی مانند ہے ، اور اس سے پہلے والے باب میں گزری ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7634
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغیرہ
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند 1661)»
حدیث نمبر: 7635
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَنَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِذَا صَامَتِ الْمَرْأَةُ شَهْرَهَا وَصَلَّتْ خَمْسَهَا وَأَطَاعَتْ بَعْلَهَا وَحَفِظَتْ فَرْجَهَا فَلْتَدْخُلْ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شَاءَتْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَسَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن حسنہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” جب عورت مخصوص مہینے کے روزے رکھے اور پانچ نمازیں ادا کرے اور اپنے شوہر کی اطاعت کرے اور اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرے ، تو وہ جنت کے جس دروازے سے چاہے گی اندر داخل ہو جائے گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے سعید بن عفیر نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7635
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى الأوسط (532) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (183/25 ) اخرجه احمد فى المسند (341/4)»
حدیث نمبر: 7636
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَيُّمَا امْرَأَةٍ اتَّقَتْ رَبَّهَا وَحَفِظَتْ فَرْجَهَا وَأَطَاعَتْ زَوْجَهَا فُتِحَ لَهَا ثَمَانِيَةُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ قِيلَ لَهَا : ادْخُلِي مِنْ حَيْثُ شِئْتِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَسَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : ( آپ نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” جو عورت اپنے پروردگار سے ڈرتی ہے ، اور اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرتی ہے ، اور اپنے شوہر کی اطاعت کرتی ہے اس کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جائیں گے ، اور اس سے کہا: جائے گا : تم جس سے چاہو اندر داخل ہو جاؤ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے سعید بن صفیر نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7636
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7637
وَعَنْ حُصَيْنِ بْنِ مِحْصَنٍ أَنَّ عَمَّةً لَهُ أَتَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهَا : " أَذَاتُ زَوْجٍ أَنْتِ ؟ " قَالَتْ : نَعَمْ قَالَ : " فَأَيْنَ أَنْتِ مِنْهُ ؟ " قَالَتْ : مَا آلُوهُ إِلَّا مَا عَجَزْتُ عَنْهُ . قَالَ : " فَكَيْفَ أَنْتِ لَهُ ، فَإِنَّهُ جَنَّتُكِ وَنَارُكِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " فَانْظُرِي كَيْفَ أَنْتِ لَهُ " . وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا حُصَيْنٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
حصین بن محصن بیان کرتے ہیں : ان کی پھوپھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا : کیا تم شوہر والی ہو اس نے عرض کی : جی ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارا اس کے ساتھ کیسا تعلق ہے اس خاتون نے کہا: میں ان کے کسی کام میں کوتاہی نہیں کرتی صرف اس کام کا معاملہ مختلف ہے جس سے میں عاجز آ جاؤں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اس کے بارے میں کیا سمجھتی ہو وہ تمہاری جنت ہے ، اور وہ تمہاری جہنم ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں : ” تم اس بات کا جائزہ لو کہ تم اس کے ساتھ کیسی ہو“ ۔ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف حصین نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7637
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 7638
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمٍ أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي مَا حَقُّ الزَّوْجِ عَلَى الزَّوْجَةِ ، فَإِنِّي امْرَأَةٌ أَيِّمٌ ، فَإِنِ اسْتَطَعْتُ وَإِلَّا جَلَسْتُ أَيِّمًا ؟ قَالَ : " فَإِنَّ حَقَّ الزَّوْجِ عَلَى زَوْجَتِهِ إِنْ سَأَلَهَا نَفْسَهَا وَهِيَ عَلَى ظَهْرِ بَعِيرٍ أَنْ لَا تَمْنَعَهُ نَفْسَهَا وَمِنْ حَقِّ الزَّوْجِ عَلَى الزَّوْجَةِ أَنْ لَا تَصُومَ تَطَوُّعًا إِلَّا بِإِذْنِهِ ، فَإِنْ فَعَلَتْ جَاعَتْ وَعَطِشَتْ ، وَلَا يُقْبَلُ مِنْهَا ، وَلَا تَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهَا إِلَّا بِإِذْنِهِ ، فَإِنْ فَعَلَتْ لَعَنَتْهَا مَلَائِكَةُ السَّمَاءِ وَمَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ وَمَلَائِكَةُ الْعَذَابِ حَتَّى تَرْجِعَ " . قَالَتْ : لَا جَرَمَ لَا أَتَزَوَّجُ أَبَدًا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ حُسَيْنُ بْنُ قَيْسٍ الْمَعْرُوفُ بِحَنَشٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ حُصَيْنُ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں خثعم قبیلے سے تعلق رکھنے والی ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے بتائیے کہ بیوی پر شوہر کا حق کیا ہے ، کیونکہ میں ایک بیوہ عورت ہوں اگر میں استطاعت رکھوں گی ، تو ٹھیک ہے ورنہ میں ایسے ہی رہوں گی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بیوی پر شوہر کا یہ حق ہے کہ اگر مرد عورت سے اس کی ذات کی قربت کی خواہش کرے اور عورت اس وقت اونٹ کی پشت پر موجود ہو ، تو وہ مرد کو اپنی ذات کے حوالے سے نہ روکے اور شوہر کے بیوی پر حق میں یہ بات بھی شامل ہے کہ عورت اس کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ نہ رکھے اگر وہ ایسا کر لیتی ہے ، تو وہ صرف بھوکی پیاسی رہے گی اس کا روزہ قبول نہیں ہو گا ، اور عورت شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے نہ نکلے اگر وہ ایسا کرتی ہے ، تو آسمان کے فرشتے اور رحمت کے فرشتے اور عذاب کے فرشتے اس کے واپس آنے تک اس پر لعنت کرتے رہیں گے اس خاتون نے کہا: پھر تو یہ ضروری ہے کہ میں کبھی شادی نہ کروں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسین بن قیس ہے جو حنش کے نام سے مشہور ہے ، اور وہ ضعیف ہے حصین بن نمیر نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7638
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1464) اخرجه أبو يعلى فى المسند (2455)»
حدیث نمبر: 7639
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : أَتَى رَجُلٌ بِابْنَتِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : إِنَّ ابْنَتِي هَذِهِ أَبَتْ أَنْ تَتَزَوَّجَ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَطِيعِي أَبَاكِ " قَالَتْ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَتَزَوَّجُ حَتَّى تُخْبِرَنِي مَا حَقُّ الزَّوْجِ عَلَى زَوْجَتِهِ . قَالَ : " حَقُّ الزَّوْجِ عَلَى زَوْجَتِهِ لَوْ كَانَتْ بِهِ قُرْحَةٌ فَلَحِسَتْهَا أَوِ انْتَثَرَ مَنْخِرَاهُ صَدِيدًا أَوْ دَمًا ، ثُمَّ ابْتَلَعَتْهُ مَا أَدَّتْ حَقَّهُ " قَالَتْ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَتَزَوَّجُ أَبَدًا . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تُنْكِحُوهُنَّ إِلَّا بِإِذْنِهِنَّ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا نَهَارٍ الْعَبْدِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص اپنی بیٹی کو لے کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا: میری اس بیٹی نے شادی کرنے سے انکار کر دیا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے فرمایا تم اپنے باپ کی فرمانبرداری کرو اس عورت نے عرض کی : اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے میں اس وقت تک شادی نہیں کروں گی جب تک آپ مجھے یہ نہیں بتائیں گے کہ شوہر کا بیوی پر حق کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : شوہر کا بیوی پر یہ حق حاصل ہے کہ اگر مرد کو پھوڑا نکل آتا ہے ، اور وہ عورت اس کو چاٹ لیتی ہے یا مرد کے نتھنوں سے پیپ یا خون نکلتا ہے ، اور وہ عورت اسے چوس لیتی ہے ، تو وہ پھر بھی اس کے حق کو ادا نہیں کر پائے گی اس عورت نے عرض کی : اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، میں تو کبھی شادی نہیں کروں گی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ان عورتوں کی شادی ان کی اجازت کے ساتھ ہی کرو ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف نہار عبدی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7639
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند ( 1465)»
حدیث نمبر: 7640
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي فُلَانَةُ بِنْتُ فُلَانَةَ . قَالَ : " قُولِي حَاجَتَكِ " قَالَتْ : حَاجَتِي أَنَّ فُلَانًا يَخْطُبُنِي فَأَخْبِرْنِي مَا حَقُّ الزَّوْجِ عَلَى زَوْجَتِهِ ، فَإِنْ كَانَ شَيْئًا أُطِيقُهُ تَزَوَّجْتُهُ ، وَإِنْ لَمْ أُطِقْهُ لَا أَتَزَوَّجُ . قَالَ : " إِنَّ مِنْ حَقِّ الزَّوْجِ عَلَى زَوْجَتِهِ أَنْ لَوْ سَالَ مَنْخِرَاهُ دَمًا وَقَيْحًا فَلَحِسَتْهُ مَا أَدَّتْ حَقَّهُ وَلَوْ كَانَ يَنْبَغِي لِبَشَرٍ أَنْ يَسْجُدَ لِبَشَرٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا إِذَا دَخَلَ عَلَيْهَا " . قَالَتْ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَتَزَوَّجُ مَا بَقِيتُ فِي الدُّنْيَا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْيَمَامِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں فلانہ بنت فلانہ ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنی ضرورت بیان کرو اس نے عرض کی : مجھے یہ کام ہے کہ فلاں شخص نے مجھے شادی کا پیغام بھیجا ہے آپ مجھے بتائیے کہ شوہر کا بیوی پر کیا حق ہے اگر تو وہ کوئی ایسی چیز ہوئی جس کی میں طاقت رکھتی ہوئی ، تو میں اس شخص سے شادی کر لوں گی اور اگر میں اس کی طاقت نہ رکھتی ہوئی ، تو پھر میں شادی نہیں کروں گی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیوی کا شوہر کے بیوی پر حق میں یہ بات شامل ہے کہ اگر اس کے نتھنوں سے خون اور پیپ بہہ رہے ہوں ، اور وہ عورت اس کو چاٹ لے ، تو وہ اس کے حق کو ادا نہیں کرے گی اگر کسی انسان کے لئے یہ مناسب ہوتا کہ وہ کسی دوسرے انسان کو سجدہ کرے ، تو میں نے عورت کو یہ حکم دینا تھا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے جب بھی وہ شخص اس کے ہاں آئے اس خاتون نے عرض کی : اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، جب تک میں دنیا میں رہی میں شادی نہیں کروں گی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی داؤد بن سلیمان یمامی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7640
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى السند (1466)»
حدیث نمبر: 7641
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا حَقُّ الزَّوْجِ عَلَى امْرَأَتِهِ قَالَ : " لَوْ أَنَّ امْرَأَةً خَرَجَتْ مِنْ بَيْتِهَا ، ثُمَّ رَجَعَتْ إِلَيْهِ فَوَجَدَتْ زَوْجَهَا قَدْ تَقَطَّعَ جُذَامًا يَسِيلُ أَنْفُهُ فَلَحِسَتْهُ بِلِسَانِهَا مَا أَدَّتْ حَقَّهُ وَمَا لِامْرَأَةٍ أَنْ تَخْرُجَ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا ، وَلَا تُعْطِيَ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا إِلَّا بِإِذْنِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ النُّورِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! شوہر کا اپنی بیوی پر کیا حق ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر عورت اپنے گھر سے نکلے اور پھر واپس گھر آ جائے ، اور پھر اپنے شوہر کو پائے کہ اس کو جذام کا پھوڑا پھوٹ گیا ہے ، اور اس کے ناک سے مواد بہہ رہا ہے پھر وہ عورت اپنی زبان کے ذریعے اسے چاٹ لے ، تو پھر بھی وہ مرد کے حق کو ادا نہیں کر پائے گی اور کسی بھی عورت کے لئے یہ حق نہیں ہے کہ وہ اپنے شوہر کے گھر سے نکلے یا اپنے شوہر کے گھر میں سے کوئی چیز کسی کو دے البتہ اس کی اجازت کے ساتھ وہ ایسا کر سکتی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالنور بن عبداللہ ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7641
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8077)»
حدیث نمبر: 7642
وَعَنْ عَائِذِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ أَنَّ مُعَاذًا قَدِمَ الْيَمَنَ فَلَقِيَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ خَوْلَانَ مَعَهَا بَنُونَ لَهَا اثْنَا عَشَرَ فَتَرَكَتْ أَبَاهُمْ فِي بَيْتِهَا وَأَصْغَرُهُمُ الَّذِي قَدِ افْتَتَنَتْ فَقَامَتْ فَسَلَّمَتْ عَلَى مُعَاذٍ وَرَجُلَانِ مِنْ بَنِيهَا مُمْسِكَانِ بِضَبْعَيْهَا فَقَالَتْ : مَنْ أَرْسَلَكَ أَيُّهَا الرَّجُلُ ؟ قَالَ لَهَا مُعَاذٌ : أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ : أَرْسَلَكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، وَأَنْتَ رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَفَلَا تُخْبِرُنِي يَا رَسُولَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ فَقَالَ لَهَا مُعاذٌ : سَلِينِي عَمَّا شِئْتِ ؟ قَالَتْ : حَدِّثْنِي ] مَا حَقُّ الْمَرْءِ عَلَى زَوْجَتِهِ ؟ قَالَ لَهَا مُعَاذٌ : تَتَّقِي اللَّهَ مَا اسْتَطَاعَتْ وَتَسْمَعُ وَتُطِيعُ قَالَتْ : أَقْسَمْتُ بِاللَّهِ عَلَيْكَ لَتُحَدِّثُنِي مَا حَقُّ الرَّجُلِ عَلَى زَوْجَتِهِ ؟ قَالَ لَهَامُعَاذٌ : أَوَمَا رَضِيتِ أَنْ تَسْمَعِي وَتُطِيعِي وَتَتَّقِي اللَّهَ ؟ قَالَتْ : بَلَى ، وَلَكِنْ حَدِّثْنِي مَا حَقُّ الْمَرْءِ عَلَى زَوْجَتِهِ ، فَإِنِّي تَرَكْتُ أَبَا هَؤُلَاءِ شَيْخًا كَبِيرًا فِي الْبَيْتِ قَالَ لَهَا مُعَاذٌ : وَالَّذِي نَفْسُ مُعَاذٍ بِيَدِهِ لَوْ أَنَّكِ تَرْجِعِينَ إِذَا رَجَعْتِ إِلَيْهِ فَوَجَدْتِ الْجُذَامَ قَدْ خَرَقَ لَحْمَهُ وَخَرَقَ مَنْخِرَيْهِ فَوَجَدْتِ مَنْخِرَيْهِ يَسِيلَانِ قَيْحًا وَدَمًا ، ثُمَّ أَلْقَمْتِيهِمَا فَاكِ لِكَيْمَا تَبْلُغِي حَقَّهُ مَا بَلَغْتِ ذَاكَ أَبَدًا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ مِنْ رِوَايَةِ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ بَهْرَامَ عَنْ شَهْرٍ ، وَفِيهِمَا ضَعْفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَا . ¤
محمد محی الدین
عائذاللہ بن عبداللہ ابوادریس خولانی بیان کرتے ہیں : سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ یمن تشریف لائے خولان قبیلے سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون سے ان کی ملاقات ہوئی جس کے ساتھ اس کے بارہ بیٹے تھے اس نے ان بچوں کے باپ کو گھر میں چھوڑا تھا ان بچوں میں سے جو سب سے کمسن تھا اس کی بھی داڑھی آ چکی تھی ، وہ عورت کھڑی ہوئی اس نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو سلام کیا وہ اپنے بیٹوں میں دو بیٹوں کے درمیان کھڑی ہوئی تھی اور ان دونوں بیٹوں نے اسے دونوں طرف سے پکڑا ہوا تھا اس عورت نے دریافت کیا : اے صاحب ! آپ کو کس نے بھیجا ہے ؟ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: اللہ کے رسول نے مجھے بھیجا ہے اس خاتون نے دریافت کیا : کیا اللہ کے رسول نے آپ کو بھیجا ہے ، اور آپ اللہ کے رسول کے بھیجے ہوئے ہیں کیا آپ مجھے یہ نہیں بتائیں گے اے اللہ کے رسول کے بھیجے ہوئے فرد ! سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: تم جو چاہو مجھ سے پوچھ لو اس خاتون نے کہا: آپ مجھے یہ بتائیے کہ آدمی کا اپنی بیوی پر کیا حق ہے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: جہاں تک عورت سے ہو سکے وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتی رہے ، اور وہ اطاعت و فرمانبرداری سے کام لے اس خاتون نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر دریافت کرتی ہوں کہ آپ مجھے یہ بتائیے کہ مرد کا اپنی بیوی پر کیا حق ہے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تم اطاعت اور فرمانبرداری سے کام لو اور تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتی رہو اس خاتون نے کہا: جی ہاں لیکن آپ مجھے یہ بتائیے کہ مرد کا اپنی بیوی پر کیا حق ہے ، کیونکہ میں نے ان بچوں کے باپ کو گھر میں چھوڑا ہے جو ایک بوڑھا عمر رسیدہ شخص ہے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے اس عورت سے کہا: اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں معاذ کی جان ہے اگر تم اس شخص کے پاس واپس جاؤ اور پھر تم یہ دیکھو کہ جذام نے اس کے گوشت کو چیر دیا ہے ، اور اس کے نتھنوں کو چیر دیا ہے ، اور تم یہ پاؤ کہ اس کے نتھنوں سے پیپ اور خون بہہ رہا ہے ، اور پھر تم اپنے منہ کے ذریعے اسے چاٹ لو تاکہ اس کے حق تک پہنچ سکو تو پھر بھی تم کبھی بھی اس کے حق تک نہیں پہنچ سکو گی ( یعنی اس کے حق کو ادا نہیں کر سکو گی ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ جو عبدالرحمید بن بہرام کے حوالے سے شہر سے منقول ہے ، اور ان دونوں میں ضعف پایا جاتا ہے ویسے ان دونوں راویوں کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7642
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (87/20) اخرجه احمد فى المسند (239/5)»
حدیث نمبر: 7643
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْمَرْأَةُ لَا تُؤَدِّي حَقَّ اللَّهِ عَلَيْهَا حَتَّى تُؤَدِّيَ حَقَّ زَوْجِهَا حَتَّى لَوْ سَأَلَهَا وَهِيَ عَلَى ظَهْرِ قَتَبٍ لَمْ تَمْنَعْهُ نَفْسَهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا الْمُغِيرَةَ بْنَ مُسْلِمٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عورت اللہ تعالیٰ کے حق کو اس وقت تک ادا نہیں کر سکتی جب تک وہ اپنے شوہر کے حق کو ادا نہیں کرتی یہاں تک کہ اگر وہ شوہر اس سے قربت کا مطالبہ کرے اور وہ عورت پالان کی لکڑی کی پشت پر موجود ہو ( ایک قول کے مطابق اس سے مراد یہ ہے : خواہ اس عورت کے ہاں بچے کی پیدائش ہونے والی ہو اور اس کو زچگی کی سہولت کے لیے لکڑی کے تختہ پر رکھا گیا ہو ) پھر بھی وہ اس ( شوہر ) کو ، اپنی ذات سے نہ روکے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ۔ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف مغیرہ بن مسلم کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7643
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1472) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5084)»
حدیث نمبر: 7644
وَعَنْ مَيْمُونَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَامَ فِي صَفِّ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ إِذَا سَمِعْتُنَّ أَذَانَ هَذَا الْحَبَشِيِّ وَإِقَامَتَهُ فَقُلْنَ كَمَا يَقُولُ ، فَإِنَّ لَكُنَّ بِكُلِّ حَرْفٍ أَلْفَ أَلْفِ دَرَجَةٍ " . ¤ فَقَالَ عُمَرُ : فَهَذَا لِلنِّسَاءِ فَمَا لِلرِّجَالِ ؟ فَقَالَ : " ضِعْفَانِ يَا عُمَرُ " . ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النِّسَاءِ فَقَالَ : " إِنَّهُ لَيْسَ مِنِ امْرَأَةٍ أَطَاعَتْ وَأَدَّتْ حَقَّ زَوْجِهَا وَتَذْكُرُ حُسْنَهُ ، وَلَا تَخُونُهُ فِي نَفْسِهَا وَمَالِهِ إِلَّا كَانَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الشُّهَدَاءِ دَرَجَةٌ وَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ ، فَإِنْ كَانَ زَوْجُهَا مُؤْمِنًا حَسَنَ الْخُلُقِ فَهِيَ زَوْجَتُهُ فِي الْجَنَّةِ وَإِلَّا زَوَّجَهَا اللَّهُ مِنَ الشُّهَدَاءِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ فِي أَحَدِهِمَا عَبْدُ اللَّهِ الْجَزَرِيُّ عَنْ مَيْمُونَةَ ، وَفِيهِ مَنْصُورُ بْنُ سَعْدٍ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ كَبِيرٌ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ ، وَالْإِسْنَادُ الْآخَرُ فِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مردوں اور خواتین کی صف میں کھڑے ہوئے آپ نے فرمایا : اے خواتین کے گروہ ! جب تم اس حبشی کی اذان اور اقامت سنو تو اس کی مانند کلمات کہو جو یہ کہتا ہے ، تو تمہیں ہر ایک حرف کے عوض میں ایک ایک ہزار درجہ ملے گا ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یہ حکم ، تو خواتین کے لئے ہے مردوں کے لئے کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے عمر ! اس کا دگنا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خواتین کی طرف متوجہ ہوئے آپ نے ارشاد فرمایا : جو بھی عورت اطاعت کرتی ہے ، اور اپنے شوہر کے حق کو ادا کرتی ہے ، اور اس کی اچھائی کو یاد رکھتی ہے ، اور اپنی جان اور اس کے مال کے بارے میں اس کے ساتھ خیانت نہیں کرتی ہے ، تو جنت میں اس عورت اور شہداء کے درمیان ایک درجہ کا فرق ہو گا ، اگر اس کا شوہر مومن ہوا اور اچھے اخلاق کا مالک ہوا تو وہ جنت میں بھی اس کی بیوی ہو گی ورنہ اللہ تعالیٰ اس عورت کی شادی شہداء میں سے کسی کے ساتھ کر دے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ۔ ان دونوں میں سے ایک میں یہ بات مذکور ہے کہ عبداللہ جزری نے اسے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا ہے ایک سند میں منصور بن سعد نامی راوی ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس کی سند میں ایک راوی عباد بن کثیر ہے جس میں بہت زیادہ ضعف پایا جاتا ہے ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اور دوسری سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7644
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 7645
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَيُّ النَّاسِ أَعْظَمُ حَقًّا عَلَى الْمَرْأَةِ ؟ قَالَ : " زَوْجُهَا " قُلْتُ : فَأَيُّ النَّاسِ أَعْظَمُ حَقًّا عَلَى الرَّجُلِ ؟ قَالَ : " أُمُّهُ " . ¤ وَفِيهِ أَبُو عُتْبَةَ ، وَلَمْ يُحَدِّثْ عَنْهُ غَيْرُ مِسْعَرٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا : عورت پر لوگوں میں سے سب سے زیادہ حق کس کا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس کے شوہر کا ، میں نے دریافت کیا : مرد پر لوگوں میں سے سب سے زیادہ حق کس کا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کی ماں کا ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوعتبہ ہے مسعر کے علاوہ اور کسی نے اس سے روایت نقل نہیں کی ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7645
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1462)»
حدیث نمبر: 7646
وَعَنْ عَلِيٍّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ اتَّقِينَ اللَّهَ وَالْتَمِسْنَ مَرْضَاةَ أَزْوَاجِكُنَّ ، فَإِنَّ الْمَرْأَةَ لَوْ تَعْلَمُ مَا حَقُّ زَوْجِهَا لَمْ تَزَلْ قَائِمَةً مَا حَضَرَ غَدَاؤُهُ وَعَشَاؤُهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ الْمُحَارِبِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے خواتین کے گروہ ! تم اللہ سے ڈرتی رہو اور اپنے شوہروں کی رضامندی تلاش کرو کیونکہ عورت کو اگر یہ پتہ چل جائے کہ اس کے شوہر کا حق کیا ہے ، تو وہ مسلسل اس وقت تک کھڑی رہے ، جب تک اس ( شوہر ) کا صبح کا کھانا یا رات کا کھانا موجود ہوتا ہے ( یعنی اس کے کھانا کھانے کے دوران اس کے پاس کھڑی رہی ) “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حکم بن یعلی بن عطاء محاربی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7646
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1459)»
حدیث نمبر: 7647
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ تَعْلَمُ الْمَرْأَةُ حَقَّ الزَّوْجِ مَا قَعَدَتْ مَا حَضَرَ غَدَاؤُهُ وَعَشَاؤُهُ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَغَرُّ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَلَا أَعْرِفْ لِأَبِيهِ مِنْ مُعَاذٍ سَمَاعًا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر عورت کو شوہر کے حق کا پتہ چل جائے ، تو وہ اس وقت تک نہ بیٹھے جب تک اس کے ( شوہر ) کا ناشتہ یا رات کا کھانا موجود ہو جب تک وہ شخص اس سے فارغ نہیں ہو جاتا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبید بن سلیمان اغر ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اور نہ ہی میں اس کے والد کے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے سماع سے واقف ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7647
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1479) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (160/20)»
حدیث نمبر: 7648
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا يَنْظُرُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَى امْرَأَةٍ لَا تَشْكُرُ لِزَوْجِهَا وَهِيَ لَا تَسْتَغْنِي عَنْهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَالطَّبَرَانِيُّ وَأَحَدُ إِسْنَادَيِ الْبَزَّارِ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اللہ تعالیٰ ایسی عورت کی طرف نظر نہیں کرتا جو اپنے شوہر کی شکر گزار نہیں ہوتی حالانکہ وہ اس سے بے نیاز نہیں ہوتی ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اور امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے ۔ امام بزار کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7648
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1460)»
حدیث نمبر: 7649
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّهُ أَتَى الشَّامَ فَرَأَى النَّصَارَى يَسْجُدُونَ لِأَسَاقِفِهُمْ وَبَطَارِقِهِمْ وَرُهْبَانِهِمْ ، وَرَأَى الْيَهُودَ يَسْجُدُونَ لِأَحْبَارِهِمْ وَعُلَمَائِهِمْ وَفُقَهَائِهِمْ فَقَالَ : لِأَيِّ شَيْءٍ تَفْعَلُونَ هَذَا ؟ قَالُوا : هَذِهِ تَحِيَّةُ الْأَنْبِيَاءِ . قُلْنَا : فَنَحْنُ أَحَقُّ أَنْ نَصْنَعَ بِنَبِيِّنَا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَجَدَ لَهُ . فَقَالَ : " مَا هَذَا يَا مُعَاذُ ؟ " قَالَ : إِنِّي أَتَيْتُ الشَّامَ فَرَأَيْتُ النَّصَارَى يَسْجُدُونَ لِأَسَاقِفَتِهِمْ وَقِسِّيسِيهِمْ وَرُهْبَانِهِمْ وَبَطَارِقَتِهِمْ وَرَأَيْتُ الْيَهُودَ يَسْجُدُونَ لِأَحْبَارِهِمْ وَفُقَهَائِهِمْ وَعُلَمَائِهِمْ فَقُلْتُ : لِأَيِّ شَيْءٍ تَصْنَعُونَ هَذَا وَتَفْعَلُونَ هَذَا ؟ قَالُوا : هَذِهِ تَحِيَّةُ الْأَنْبِيَاءِ . قُلْتُ : فَنَحْنُ أَحَقُّ أَنْ نَصْنَعَ بِنَبِيِّنَا . فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّهُمْ كَذَبُوا عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ كَمَا حَرَّفُوا كِتَابَهُمْ لَوْ أَمَرْتُ أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا مِنْ عِظَمِ حَقِّهِ ، وَلَا تَجِدُ امْرَأَةٌ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ حَتَّى تُؤَدِّيَ حَقَّ زَوْجِهَا وَلَوْ سَأَلَهَا نَفْسَهَا وَهِيَ عَلَى ظَهْرِ قَتَبٍ " . ¤ رَوَاهُ بِتَمَامِهِ الْبَزَّارُ ، وَأَحْمَدُ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ وَكَذَلِكَ طَرِيقٌ مِنْ طُرُقِ أَحْمَدَ ، وَرَوَى الطَّبَرَانِيُّ بَعْضَهُ أَيْضًا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ شام آئے وہاں انہوں نے عیسائیوں کو دیکھا کہ وہ اپنے اساقف اور بطارق ( یعنی مذہبی پیشواؤں ) اور راہبوں کو سجدہ کرتے تھے اور انہوں نے یہودیوں کو دیکھا کہ وہ اپنے احبار اور اپنے علماء اور فقہاء کو سجدہ کرتے تھے ، تو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تم لوگ ایسا کیوں کرتے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا : یہ انبیاء کو سلام کرنے کا طریقہ ہے ، تو ہم نے کہا: ہم ، تو پھر اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ ہم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایسا کریں جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے معاذ ! یہ کس وجہ سے ہے انہوں نے عرض کی : میں شام گیا وہاں میں نے عیسائیوں کو دیکھا کہ وہ اپنے مذہبی پیشواؤں اور راہبوں کو سجدہ کرتے تھے اور میں نے یہودیوں کو دیکھا کہ وہ اپنے اکابرین فقہاء اور علماء کو سجدہ کرتے تھے میں نے دریافت کیا : تم لوگ ایسا کیوں کرتے ہو اور یہ عمل کیوں کرتے ہو ؟ تو انہوں نے بتایا یہ انبیاء کو سلام کرنے کا طریقہ ہے ، تو میں نے کہا: ، پھر ہم اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ ہم اپنے نبی کے ساتھ ایسا کریں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان لوگوں نے اپنے انبیاء کی طرف جھوٹی بات منسوب کی ہے جس طرح ان لوگوں نے اپنی کتابوں میں تحریف کر لی تھی اگر میں کسی کو کسی دوسرے کو سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو میں عورت کو یہ ہدایت کرتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے کیونکہ اس کا حق عظیم ہے عورت ایمان کی حلاوت اس وقت تک نہیں پا سکتی جب تک اپنے شوہر کے حق کو ادا نہیں کرتی خواہ وہ شخص اس عورت سے اس کے قرب کا مطالبہ اس وقت کرے جب وہ پالان کی پشت پر بیٹھی ہوئی ہو “ ۔
یہ روایت امام بزار نے مکمل روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔ اور امام أحمد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں اسی طرح امام أحمد کے طرق میں ایک طریق ایسا ہی ہے ۔ امام طبرانی نے بھی اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7649
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1461) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (52/20)»
حدیث نمبر: 7650
وَعَنْ صُهَيْبٍ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ لَمَّا قَدِمَ الشَّامَ رَأَى الْيَهُودَ يَسْجُدُونَ لِعُلَمَائِهِمْ وَأَحْبَارِهِمْ وَرَأَى النَّصَارَى يَسْجُدُونَ لِأَسَاقِفَتِهِمْ وَلِرُهْبَانِهِمْ وَفُقَهَائِهِمْ فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَجَدَ لَهُ فَقَالَ : " مَا هَذَا يَا مُعَاذُ ؟ " قَالَ : إِنِّي قَدِمْتُ الشَّامَ فَرَأَيْتُ الْيَهُودَ يَسْجُدُونَ لِعُلَمَائِهَا وَأَحْبَارِهَا وَرَأَيْتُ النَّصَارَى يَسْجُدُونَ لِقِسِّيسِيهَا وَفُقَهَائِهَا وَرُهْبَانِهَا فَقُلْتُ : مَا هَذَا ؟ قَالُوا : هَذِهِ تَحِيَّةُ الْأَنْبِيَاءِ . قَالَ : " كَذَبُوا عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ كَمَا حَرَّفُوا كِتَابَهُمْ لَوْ أَمَرْتُ أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ النَّهَّاسُ بْنُ قَهْمٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ جب شام گئے ، تو وہاں انہوں نے یہودیوں کو دیکھا کہ وہ اپنے علماء اور اکابرین کو سجدہ کرتے تھے اور انہوں نے عیسائیوں کو دیکھا کہ وہ اپنے مذہبی پیشواؤں راہبوں اور فقہاء کو سجدہ کرتے تھے جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے معاذ ! یہ کس وجہ سے ہے ۔ انہوں نے بتایا میں شام گیا میں نے وہاں یہودیوں کو دیکھا وہ اپنے علماء اور اکابرین کو سجدہ کرتے تھے اور میں نے عیسائیوں کو دیکھا کہ وہ اپنے پادریوں اور فقہا اور راہبوں کو سجدہ کرتے تھے میں نے دریافت کیا : یہ کس وجہ سے ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ یہ انبیاء کا سلام کرنے کا طریقہ ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان لوگوں نے اپنے انبیاء کی طرف جھوٹی بات منسوب کی ہے جس طرح ان لوگوں نے اپنی کتابوں میں تحریف کر لی تھی اگر میں کسی کو یہ حکم دیتا کہ وہ کسی دوسرے کو سجدہ کرے تو میں عورت کو یہ حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے “ ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نہاس بن قہم ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7650
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1470)»
حدیث نمبر: 7651
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ إِلَى الشَّامِ فَلَمَّا قَدِمَ مُعَاذٌ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتُ أَهْلَ الْكِتَابِ يَسْجُدُونَ لِأَسَاقِفَتِهِمْ وَبَطَارِقَتِهِمْ أَفَلَا نَسْجُدُ لَكَ ؟ قَالَ : " لَا لَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ وَأَحَدُ إِسْنَادَيِ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا صَدَقَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ السَّمِينِ وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَجَمَاعَةٌ ، وَضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَجَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو شام بھیجا جب سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ واپس آئے ، تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے اہل کتاب کو دیکھا کہ وہ اپنے پادریوں اور بڑوں کو سجدہ کرتے تھے ، تو کیا ہم آپ کو سجدہ نہ کریں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! اگر میں نے کسی کو کسی دوسرے کو سجدہ کرنے کا حکم دینا ہوتا ، تو میں عورت کو یہ حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام طبرانی کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف صدقہ بن عبداللہ سمین کا معاملہ مختلف ہے ۔ ابوحاتم اور ایک جماعت نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔ امام بخاری رحمہ اللہ اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7651
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1469 و 1468) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5117)»
حدیث نمبر: 7652
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَوْ أَمَرْتُ أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ طَهْمَانَ أَبُو عَزَّةَ الدَّبَّاغُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اگر میں کس کو یہ حکم دیتا کہ وہ کسی دوسرے کو سجدہ کرے ، تو میں عورت کو یہ حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حکم بن طہمان ابوعزہ دباغ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7652
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1467)»
حدیث نمبر: 7653
وَعَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقِ وَهْبِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر میں نے کسی کو یہ حکم دینا ہوتا کہ وہ کسی دوسرے کو سجدہ کرے ، تو میں نے عورت کو یہ حکم دینا تھا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے وہب بن علی کے حوالے سے ان کے والد سے نقل کی ہے ۔ اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7653
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6590)»
حدیث نمبر: 7654
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ فِي نَفَرٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ فَجَاءَ بَعِيرٌ فَسَجَدَ لَهُ فَقَالَ أَصْحَابُهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ تَسْجُدُ لَكَ الْبَهَائِمُ وَالشَّجَرُ فَنَحْنُ أَحَقُّ أَنْ نَسْجُدَ لَكَ ؟ قَالَ : " اعْبُدُوا رَبَّكُمْ وَأَكْرِمُوا أَخَاكُمْ وَلَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا وَلَوْ أَمَرَهَا أَنْ تَنْقُلَ مِنْ جَبَلٍ أَصْفَرَ إِلَى جَبَلٍ أَسْوَدَ وَمِنْ جَبَلٍ إِلَى جَبَلٍ أَبْيَضَ كَانَ يَنْبَغِي لَهَا أَنْ تَفْعَلَ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ بَعْضَهُ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَقَدْ ضَعُفَ . وَفِي عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ غَيْرُ حَدِيثٍ مِنْ هَذَا النَّحْوِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ مہاجرین اور انصار کے ساتھ تشریف فرما تھے اسی دوران ایک اونٹ آیا اور اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ کیا آپ کے اصحاب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جانور اور درخت آپ کو سجدہ کرتے ہیں ، تو ہم ، تو اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ ہم آپ کو سجدہ کریں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اپنے پروردگار کی عبادت کرو اور اپنے بھائی کی عزت کرو اگر میں نے کسی کو یہ حکم دینا ہوتا کہ وہ کسی دوسرے کو سجدہ کرے ، تو میں نے عورت کو یہ حکم دینا تھا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے اگر مرد بیوی کو یہ ہدایت کرے کہ وہ زرد پہاڑ کو سیاہ پہاڑ کی طرف منتقل کر دے یا ایک ( سیاہ ) پہاڑ کو سفید پہاڑ کی طرف منتقل کر دے ، تو عورت کے لئے مناسب یہ تھا کہ وہ ایسا کرے ( یعنی ایسا کرنے کی کوشش کرے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ابن ماجہ نے اس روایت کا کچھ حصہ اس سیاق کے بغیر نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اسے ضعیف قرار دیا گیا ہے نبوت کی علامات سے متعلق باب میں اس نوعیت کی ایک حدیث آئے گی جو اس کے علاوہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7654
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (76/6)»
حدیث نمبر: 7655
وَعَنْ عِصْمَةَ قَالَ : شَرَدَ عَلَيْنَا بَعِيرٌ لِيَتِيمٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَلَمْ نَقْدِرْ عَلَى أَخْذِهِ فَجِئْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ فَقَامَ مَعَنَا حَتَّى جَاءَ الْحَائِطَ الَّذِي فِيهِ الْبَعِيرُ فَلَمَّا رَأَى الْبَعِيرُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَقْبَلَ حَتَّى سَجَدَ لَهُ فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ أَمَرْتَنَا أَنْ نَسْجُدَ لَكَ كَمَا يُسْجَدُ لِلْمُلُوكِ ؟ قَالَ : " لَيْسَ ذَاكَ فِي أُمَّتِي لَوْ كُنْتُ فَاعِلًا لَأَمَرْتُ النِّسَاءَ أَنْ يَسْجُدْنَ لِأَزْوَاجِهِنَّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ الْمُخْتَارِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عصمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والے ایک یتیم لڑکے کا اونٹ سرکش ہو گیا ہم اسے پکڑ نہیں پائے ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ہم نے آپ کے سامنے یہ صورت حال ذکر کی ، تو آپ اٹھ کر ہمارے ساتھ تشریف لائے یہاں تک کہ آپ اس باغ میں آ گئے جس میں وہ اونٹ موجود تھا جب اونٹ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو وہ آگے آیا اور اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ کیا ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ اگر آپ ہمیں یہ اجازت دیں کہ ہم آپ کو اسی طرح سجدہ کریں جس طرح بادشاہوں کو سجدہ کیا جاتا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میری امت میں یہ چیز نہیں ہو گی اگر میں نے ایسا کرنا ہوتا تو میں خواتین کو یہ حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہروں کو سجدہ کریں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فضل بن مختار ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7655
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (183/17)»
حدیث نمبر: 7656
وَعَنْ غَيْلَانَ بْنِ سَلَمَةَ قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ فَقَالَ : " لَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ شَبِيبُ بْنُ شَيْبَةَ وَالْأَكْثَرُونَ عَلَى تَضْعِيفِهِ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ صَالِحٌ جَزَرَةُ ، وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا غیلان بن سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے آپ نے ارشاد فرمایا : ” اگر میں نے کسی کو یہ حکم دینا ہوتا کہ وہ کسی دوسرے کو سجدہ کرے ، تو میں نے عورت کو یہ حکم دینا تھا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی شبیب بن شیبہ ہے اکثر لوگوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے صالح جزرہ اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7656
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (263/18)»
حدیث نمبر: 7657
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّةِ تُحَدِّثُ زَعَمَتْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ فِي الْمَسْجِدِ يَوْمًا وَعُصْبَةٌ مِنَ النِّسَاءِ قُعُودٌ فَأَلْوَى بِيَدِهِ إِلَيْهِنَّ بِالسَّلَامِ فَقَالَ : " إِيَّاكُنَّ وَكُفْرَانَ الْمُنْعِمِينَ " قَالَتْ إِحْدَاهُنَّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعُوذُ بِاللَّهِ - يَا نَبِيَّ اللَّهِ - مِنْ كُفْرَانِ نِعَمِ اللَّهِ . قَالَ : " بَلَى إِنَّ إِحْدَاكُنَّ تَطُولُ أَيْمَتُهَا وَيَطُولُ تَعْنِيسُهَا ، ثُمَّ يَرْزُقُهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْبَعْلَ وَيُفِيدُهَا الْوَلَدَ وَقُرَّةَ الْعَيْنِ ، ثُمَّ تَغْضَبُ الْغَضْبَةَ فَتُقْسِمُ بِاللَّهِ مَا رَأَتْ مِنْهُ سَاعَةَ خَيْرٍ قَطُّ فَذَلِكَ مِنْ كُفْرَانِ نِعَمِ اللَّهِ وَذَلِكَ مِنْ كُفْرَانِ الْمُنْعِمِينَ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ : السَّلَامَ عَلَى النِّسَاءِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ اسماء بنت یزید انصاریہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک دن مسجد میں سے ہوا تو اس وقت کچھ خواتین وہاں بیٹھی ہوئی تھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے انہیں اشارہ کر کے سلام کیا اور ارشاد فرمایا تم نعمت دینے والوں کی ناشکری کرنے سے بچنا ان خواتین میں سے ایک خاتون نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اللہ کی پناہ مانگتی ہوں اے اللہ کے نبی ! میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری سے ( پناہ مانگتی ہوں ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! تم میں سے کوئی ایک عورت ایک طویل عرصے تک بیوہ ( یا طلاق یافتہ ) رہتی ہے یہاں تک کہ ( شوہر کے بغیر ) اس کا رہنا طویل ہو جاتا ہے پھر اللہ تعالیٰ اسے شوہر عطا کرتا ہے اسے اولاد نصیب کرتا ہے آنکھوں کی ٹھنڈک نصیب کرتا ہے پھر وہ عورت غصے میں آتی ہے ، اور اللہ کے نام کی قسم اٹھا کر کہتی ہے کہ اس نے اس شوہر کی طرف سے کبھی بھلائی کا ایک لمحہ بھی نہیں پایا تو یہ چیز اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری میں شامل ہے ، اور یہ نعمت دینے والوں کی ناشکری میں شامل ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ابوداؤد نے اس روایت میں سے یہ حصہ نقل کیا ہے ” آپ نے خواتین کو سلام کیا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ، اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7657
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7658
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ إِلَى النِّسَاءِ فِي جَانِبِ الْمَسْجِدِ فَإِذَا أَنَا مَعَهُنَّ فَسَمِعَ أَصْوَاتَهُنَّ فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ إِنَّكُنَّ أَكْثَرُ حَطَبِ جَهَنَّمَ " . فَنَادَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكُنْتُ جَرِيئَةً عَلَى كَلَامِهِ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَ ؟ قَالَ : " إِنَّكُنَّ إِذَا أُعْطِيتُنَّ لَمْ تَشْكُرْنَ ، وَإِذَا ابْتُلِيتُنَّ لَمْ تَصْبِرْنَ ، وَإِذَا أُمْسِكَ عَلَيْكُنَّ شَكَوْتُنَّ وَإِيَّاكُنَّ وَكَفْرَ الْمُنَعَّمِينَ " فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا كُفْرُ الْمُنَعَّمِينَ ؟ قَالَ : " الْمَرْأَةُ تَكُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ ، وَقَدْ وَلَدَتْ لَهُ الْوَلَدَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فَتَقُولُ : مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : مسجد کے ایک کونے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خواتین کے پاس تشریف لائے میں ان خواتین میں موجود تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان خواتین کی آواز سنی ، تو ارشاد فرمایا : اے خواتین کے گروہ ! تم جہنم کے ایندھن میں زیادہ ہو میں نے بلند آواز میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کیا میں آپ کے ساتھ گفتگو کرنے کی جرات کر لیتی تھی میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ کیوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہیں جب کچھ دیا جائے ، تو تم شکر گزار نہیں ہوتی ہو اور جب تمہیں آزمائش کا شکار کیا جائے ، تو تم صبر نہیں کرتی ہو اور جب تمہیں کچھ نہ دیا جائے ، تو تم شکوہ کرتی ہو ، تو تم نعمت دینے والوں کی ناشکری سے بچ کے رہنا میں نے عرض کی : نعمت دینے والوں کی ناشکری سے کیا مراد ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک عورت کسی شخص کے پاس ہوتی ہے ( یعنی کسی کی بیوی ہوتی ہے ) وہ اس شخص کے دو یا تین بچوں کو جنم بھی دیدیتی ہے پھر بھی یہ کہتی ہے کہ میں نے کبھی بھی تمہاری طرف سے کوئی بھلائی نہیں دیکھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ، اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7658
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (166/24) اخرجه احمد فى المسند (452/6)»
حدیث نمبر: 7659
وَعَنْ سَلْمَى بِنْتِ قَيْسٍ قَالَتْ : بَايَعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي نِسْوَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَتْ : فَكَانَ مِمَّا أَخَذَ عَلَيْنَا : " أَنْ لَا تَغْشُشْنَ أَزْوَاجَكُنَّ " قَالَتْ : فَلَمَّا انْصَرَفْنَا قُلْنَا : وَاللَّهِ لَوْ سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا غِشُّ أَزْوَاجِنَا ؟ قَالَتْ : فَرَجَعْنَا فَسَأَلْنَاهُ فَقَالَ : " أَنْ تُحَابِينَ أَوْ تَهَادِينَ بِمَالِهِ غَيْرَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ وَابْنُ إِسْحَاقَ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ سلمیٰ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : انصار کی کچھ خواتین سمیت میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی وہ خاتون بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے جو عہد لیا تھا اس میں یہ بات بھی شامل تھی کہ تم اپنے شوہروں کے ساتھ دھوکہ نہیں کرو گی وہ خاتون بیان کرتی ہیں : جب ہم واپس آ گئیں ، تو ہم نے کہا: اللہ کی قسم ! اگر ہم اللہ کے رسول سے یہ دریافت کر لیتیں کہ شوہروں کو دھوکہ دینے سے مراد کیا ہے ؟ ( تو یہ مناسب ہونا تھا ) وہ خاتون کہتی ہیں : ہم واپس گئیں اور ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : یہ کہ تم اس کے مال میں سے کسی کو کوئی چیز تحفے یا ہدیہ کے طور پر دو “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا اور ایک راوی ابن اسحاق ہے ، اور وہ مدلس ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7659
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (7070) اخرجه احمد فى المسند (422/6)»
حدیث نمبر: 7660
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا دَعَا الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهِ فَلْتُجِبْ ، وَإِنْ كَانَتْ عَلَى ظَهْرِ قَتَبٍ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا مُحَمَّدَ بْنَ ثَعْلَبَةَ بْنِ سَوَاءٍ ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ جَمَاعَةٌ ، وَلَمْ يُضَعِّفْهُ أَحَدٌ ، وَقَدْ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا الْمُغِيرَةَ بْنَ مُسْلِمٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَقَدْ تَقَدَّمَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب کوئی شخص اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلائے ، تو عورت کو اس کی بات مان لینی چاہیے اگرچہ وہ پالان کی پشت پر ہو “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف محمد بن ثعلبہ بن سواء کا معاملہ مختلف ہے ایک جماعت نے اس سے روایات نقل کی ہیں اور کسی نے اسے ضعیف قرار نہیں دیا ہے ۔ امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف مغیرہ بن مسلم کا معاملہ مخلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے
یہ روایت پہلے گزر چکی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7660
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1472)»
حدیث نمبر: 7661
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لِلْمَرْأَةِ سِتْرَانِ " قِيلَ : وَمَا هُمَا ؟ قَالَ : " الزَّوْجُ وَالْقَبْرُ " قِيلَ : فَأَيُّهُمَا أَسْتَرُ ؟ قَالَ : " الْقَبْرُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ الْقَسْرِيُّ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : لَيْسَ بِالْقَوِيِّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عورت کے لئے پردے کی دو چیزیں ہوتی ہیں عرض کی گئی : وہ دونوں کون سی ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : شوہر اور قبر عرض کی گئی : ان دونوں میں سے کون سا زیادہ پردے والا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قبر “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خالد بن یزید قسری ہے ۔ ابوحاتم کہتے ہیں : یہ قومی نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7661
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (1078) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (65712)»
حدیث نمبر: 7662
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِرِجَالِكُمْ فِي الْجَنَّةِ ؟ " قُلْنَا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " النَّبِيُّ فِي الْجَنَّةِ وَالصِّدِّيقُ فِي الْجَنَّةِ ، وَالشَّهِيدُ فِي الْجَنَّةِ ، وَالْمَوْلُودُ فِي الْجَنَّةِ ، وَالرَّجُلُ يَزُورُ أَخَاهُ فِي نَاحِيَةِ الْمِصْرِ لَا يَزُورُهُ إِلَّا لِلَّهِ فِي الْجَنَّةِ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِنِسَائِكُمْ فِي الْجَنَّةِ ؟ " قُلْنَا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ : " كُلُّ وَدُودٍ وَلُودٍ إِذَا غَضِبَتْ أَوْ أُسِيءَ إِلَيْهَا أَوْ غَضِبَ زَوْجُهَا قَالَتْ : هَذِهِ يَدِي فِي يَدِكَ لَا أَكْتَحِلُ بِغُمْضٍ حَتَّى تَرْضَى " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ زِيَادٍ الْقُرَشِيُّ قَالَ الْبُخَارِيُّ : لَا يَصِحُّ حَدِيثُهُ ، فَإِنْ أَرَادَ تَضْعِيفَهُ فَلَا كَلَامَ ، وَإِنْ أَرَادَ حَدِيثًا مَخْصُوصًا فَلَمْ يَذْكُرْهُ ، وَأَمَّا بَقِيَّةُ رِجَالِهِ فَهُمْ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” کیا میں تم لوگوں کو تمہارے ان مردوں کے بارے میں نہ بتاؤں جو جنت میں جائیں گے ؟ ہم نے عرض کی : جی ہاں یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نبی جنت میں جائے گا صدیق جنت میں جائے گا شہید جنت میں جائے گا مولود ( یعنی پیدا ہو کر فوت ہونے والا بچہ ) جنت میں جائے گا ، اور وہ شخص جو شہر کے کنارے پر اپنے بھائی سے ملنے کے لئے جاتا ہے وہ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے جاتا ہے وہ جنت میں جائے گا ، اور کیا میں تمہیں تمہاری خواتین کے بارے میں بتاؤں جو جنت میں جائیں گی ؟ ہم نے عرض کی : جی ہاں یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہر محبت کرنے والی بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھنے والی عورت کہ جب وہ غصے میں آئے یا جب اس کے ساتھ برا سلوک کیا جائے یا جب اس کا شوہر غضبناک ہو ، تو وہ یہ کہے : یہ میرا ہاتھ تمہارے ہاتھ میں ہے میں اس وقت تک نہیں سوؤں گی جب تک تم راضی نہیں ہو گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن زیاد قرشی ہے ۔ امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں : اس کی نقل کردہ حدیث صحیح نہیں ہے اگر تو انہوں نے اس راوی کو ضعیف قرار دینے کا ارادہ کیا ہے ، تو پھر یہ کوئی کلام نہیں ہے ، اور اگر انہوں نے کسی مخصوص حدیث کو مراد لیا ہے ، تو انہوں نے وہ حدیث ذکر نہیں کی ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7662
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (118) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1764)»
حدیث نمبر: 7663
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِرِجَالِكُمْ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ " قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " النَّبِيُّ فِي الْجَنَّةِ وَالشَّهِيدُ فِي الْجَنَّةِ وَالصِّدِّيقُ فِي الْجَنَّةِ وَالْمَوْلُودُ فِي الْجَنَّةِ وَالرَّجُلُ يَزُورُ أَخَاهُ فِي نَاحِيَةِ الْمِصْرِ فِي الْجَنَّةِ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِنِسَائِكُمْ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ : " الْوَدُودُ وَالْوَلُودُ الَّتِي إِنْ ظَلَمَتْ أَوْ ظُلِمَتْ قَالَتْ : هَذِهِ نَاصِيَتِي بِيَدِكَ لَا أَذُوقُ غُمْضًا حَتَّى تَرْضَى " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ السَّرِيُّ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا میں تم لوگوں کو تمہارے ان مردوں کے بارے میں بتاؤں جو اہل جنت میں سے ہیں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نبی جنت میں جائے گا شہید جنت میں جائے گا صدیق جنت میں جائے گا مولود جنت میں جائے گا وہ شخص جو اپنے بھائی سے ملنے کے لئے شہر کے کونے پر جاتا ہے وہ جنت میں جائے گا ، اور کیا میں تمہیں تمہاری ان خواتین کے بارے میں بتاؤں جو اہل جنت میں سے ہیں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : محبت کرنے والی بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھنے والی وہ عورت کہ جب وہ زیادتی کرے یا اس کے ساتھ زیادتی کی جائے ، تو وہ یہ کہے : میری پیشانی تمہارے ہاتھ میں ہے میں اس وقت تک نہیں سوؤں گی جب تک تم راضی نہیں ہو جاتے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سری بن اسماعیل ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7663
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (140/19)»
حدیث نمبر: 7664
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَلَا أُنْبِئُكُمْ بِرِجَالِكُمْ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ " قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " النَّبِيُّ فِي الْجَنَّةِ ، وَالصِّدِّيقُ فِي الْجَنَّةِ ، وَالشَّهِيدُ فِي الْجَنَّةِ ، وَالْمَوْلُودُ مَوْلُودُ الْإِسْلَامِ فِي الْجَنَّةِ ، وَالرَّجُلُ يَكُونُ فِي جَانِبِ الْمِصْرِ يَزُورُ أَخَاهُ لَا يَزُورُهُ إِلَّا اللَّهُ فِي الْجَنَّةِ ، أَلَا أُنْبِئُكُمْ بِنِسَائِكُمْ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ " قُلْنَا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ : " الْوَدُودُ الْوَلُودُ الَّتِي إِذَا غَضِبَتْ أَوْ أُغْضِبَتْ قَالَتْ : يَدِي فِي يَدِكَ ، وَلَا أَكْتَحِلُ بِغُمْضٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : کیا میں تمہارے ان مردوں کے بارے میں نہ بتاؤں جو اہل جنت میں سے ہیں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نبی جنتی ہے صدیق جنتی ہے شہید جنتی ہے اسلام میں پیدا ہونے والا بچہ ( جو بچپن میں فوت ہو جائے ) جنتی ہے ، اور وہ شخص جو شہر کے کونے پر رہتا ہو اور اپنے بھائی سے ملنے کے لئے جائے وہ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے جائے وہ جنتی ہے ، اور کیا میں تمہیں تمہاری ان خواتین کے بارے میں نہ بتاؤں جو اہل جنت میں سے ہیں ؟ ہم نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : محبت کرنے والی بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھنے والی وہ عورت کہ جب وہ غصے میں آئے یا جب اسے غصہ دلایا جائے ، تو وہ یہ کہے : میرا ہاتھ تمہارے ہاتھ میں ہے ، میں نہیں سوؤں گی ( جب تک آپ راضی نہیں ہوتے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن خالد واسطی ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7664
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12467)»
حدیث نمبر: 7665
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ أَنْ تَأْذَنَ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا ، وَهُوَ كَارِهٌ ، وَلَا تَخْرُجَ وَهُوَ كَارِهٌ ، وَلَا تُطِيعَ فِيهِ أَحَدًا ، وَلَا تُخَشِّنَ بِصَدْرِهِ ، وَلَا تَعْتَزِلَ فِرَاشَهُ ، وَلَا تَضْرِبْهُ ، وَإِنْ كَانَ هُوَ أَظْلَمَ مِنْهَا حَتَّى تُرْضِيَهُ ، فَإِنْ هُوَ رَضِيَ وَقَبِلَ مِنْهَا فَبِهَا وَنِعْمَتْ قَبِلَ اللَّهُ عُذْرَهَا وَأَفْلَحَ وَجْهُهَا ، وَلَا إِثْمَ عَلَيْهَا ، وَإِنْ هُوَ أَبَى أَنْ يَرْضَى عَنْهَا ، فَقَدْ أَبْلَغَتْ عُذْرَهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” عورت کے لئے یہ بات حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے شوہر کے گھر میں آنے کی کسی ایسے شخص کو اجازت دے جسے شوہر ناپسند کرتا ہو اور اگر شوہر ناپسند کرتا ہو تو وہ گھر سے بھی نہ نکلے اور شوہر کے بارے میں وہ کسی کی اطاعت نہ کرے اور اس کو ناراض نہ کرے اور اس کے بستر سے الگ نہ ہو اور اس کو نہ مارے ، اگرچہ شوہر نے اس پر ظلم کیا ہو یہاں تک کہ وہ شوہر کو راضی کر لے اگر وہ شوہر راضی ہو جاتا ہے ، اور اس کے عذر کو قبول کر لیتا ہے ، تو ٹھیک ہے ، اور اچھی بات ہے ، اللہ تعالیٰ بھی اس کے عذر کو قبول کر لے گا ، اور وہ عورت کامیاب ہو جائے گی اور اس پر کوئی گناہ نہیں ہو گا ، اور اگر شوہر بات نہیں مانتا اور اس سے راضی نہیں ہوتا تو عورت نے اپنا عذر پیش کر دیا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ۔ جن میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7665
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (62/20)»
حدیث نمبر: 7666
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ رَجُلًا خَرَجَ وَأَمَرَ امْرَأَتَهُ أَنْ لَا تَخْرُجَ مِنْ بَيْتِهَا ، وَكَانَ أَبُوهَا فِي أَسْفَلِ الدَّارِ ، وَكَانَتْ فِي أَعْلَاهَا فَمَرِضَ أَبُوهَا فَأَرْسَلَتْ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ : " أَطِيعِي زَوْجَكِ " فَمَاتَ أَبُوهَا فَأَرْسَلَتْ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَطِيعِي زَوْجَكِ " فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ قَدْ غَفَرَ لِأَبِيهَا بِطَاعَتِهَا لِزَوْجِهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عِصْمَةُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نکلا اس نے اپنی بیوی کو یہ ہدایت کی کہ وہ اپنے گھر سے نہ نکلے اس عورت کا با پگھر کے نیچے والے حصے میں رہتا تھا وہ عورت اوپر والے حصے میں رہتی تھی اس کا باپ بیمار ہو گیا اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام بھیجا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ بات ذکر کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس عورت سے فرمایا ) تم اپنے شوہر کی اطاعت کرو اس عورت کا باپ فوت ہو گیا اس عورت نے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام بھیجا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنے شوہر کی اطاعت کرو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد میں اس عورت کو پیغام بھیجا کہ اللہ تعالیٰ نے اس عورت کے اپنے شوہر کی اطاعت کرنے کی وجہ سے اس کے باپ کی مغفرت کر دی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عصمہ بن متوکل ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7666
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7667
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ثَلَاثٌ لَا تُقْبَلُ لَهُمْ صَلَاةٌ ، وَلَا تَصْعَدُ لَهُمْ إِلَى اللَّهِ حَسَنَةٌ : السَّكْرَانُ حَتَّى يَصْحُو وَالْمَرْأَةُ السَّاخِطُ عَلَيْهَا زَوْجُهَا وَالْعَبْدُ الْآبِقُ حَتَّى يَرْجِعَ فَيَضَعَ يَدَهُ فِي يَدِ مَوَالِيهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تین لوگ ہیں جن کی نماز قبول نہیں ہوتی اور ان کی کوئی نیکی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ تک نہیں پہنچتی ہے ، نشے کا شکار شخص جب تک وہ ہوش میں نہیں آ جاتا ایسی عورت جس کا شوہر اس پر ناراض ہو اور مفرور غلام جب تک وہ واپس آ کر اپنا ہاتھ اپنے آقاؤں کے ہاتھ میں نہیں دیدیتا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے ، اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7667
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (9385)»
حدیث نمبر: 7668
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اثْنَانِ لَا تُجَاوِزُ صَلَاتُهُمَا رُءُوسَهُمَا : عَبْدٌ آبِقٌ مِنْ مَوَالِيهِ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَيْهِمْ وَامْرَأَةٌ عَصَتْ زَوْجَهَا حَتَّى تَرْجِعَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دو قسم کے لوگ ایسے ہیں جن کی نماز ان کے سر سے اوپر نہیں جاتی اپنے آقا سے مفرور ہونے والا غلام جب تک وہ ان کے پاس واپس نہیں آ جاتا اور وہ عورت جو اپنے شوہر کی نافرمانی کرتی ہے ، جب تک وہ واپس نہیں آ جاتی“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7668
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 7669
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا خَرَجَتْ مِنْ بَيْتِهَا وَزَوْجُهَا كَارِهٌ لِذَلِكَ لَعَنَهَا كُلُّ مَلَكٍ فِي السَّمَاءِ ، وَكُلُّ شَيْءٍ مَرَّتْ عَلَيْهِ غَيْرَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ حَتَّى تَرْجِعَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سُوِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ دُحَيْمٌ ، وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جب کوئی عورت اپنے گھر سے نکلتی ہے ، اور اس کا شوہر اس بات کو ناپسند کرتا ہو ، تو آسمان میں موجود ہر فرشتہ اور ہر وہ چیز جس کے پاس سے وہ عورت گزرتی ہے وہ اس پر لعنت کرتے ہیں ، البتہ جنوں اور انسانوں کا معاملہ مختلف ہے ، اور ایسا اس وقت تک ہوتا ہے ، جب تک وہ واپس نہیں آ جاتی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سوید بن عبدالعزیز ہے ، اور وہ متروک ہے دحیم اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7669
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (517)»
حدیث نمبر: 7670
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنِّي لَأُبْغِضُ الْمَرْأَةَ تَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهَا تَجُرُّ ذَيْلَهَا تَشْكُو زَوْجَهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ يَعْلَى ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں ایسی عورت کو ناپسند کرتا ہوں جو اپنے دامن کو کھینچتی ہوئی اپنے گھر سے نکلتی ہے ، اور اپنے شوہر کی شکایت کرتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن یعلی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7670
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (323/23)»
حدیث نمبر: 7671
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْمَرْأَةُ عَوْرَةٌ ، وَإِنَّهَا إِذَا خَرَجَتْ مِنْ بَيْتِهَا اسْتَشْرَفَهَا الشَّيْطَانُ ، وَإِنَّهَا لَا تَكُونُ أَقْرَبَ إِلَى اللَّهِ مِنْهَا فِي قَعْرِ بَيْتِهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” عورت پردے کی چیز ہے ، جب وہ اپنے گھر سے نکلتی ہے ، تو شیطان اسے جھانک کر دیکھتا ہے ، اور عورت اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتی ہے ، جب وہ اپنے گھر کے سب سے زیادہ اندرونی حصے میں ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7671
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 7672
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اقْرَءُوا الْقُرْآنَ فَإِذَا قَرَأْتُمُوهُ فَلَا تَسْتَكْبِرُوا بِهِ ، وَلَا تَغْلُوا فِيهِ ، وَلَا تَجْفُوا عَنْهُ ، وَلَا تَأْكُلُوا بِهِ " . وَقَالَ : " إِنَّ النِّسَاءَ هُمْ أَصْحَابُ النَّارِ " فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَلَسْنَ أُمَّهَاتِنَا وَأَخَوَاتِنَا وَبَنَاتِنَا ؟ فَذَكَرَ كُفْرَهُنَّ لِحَقِّ الزَّوْجِ وَتَضْيِيعَهُنَّ لِحَقِّهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَلَهُ طُرُقٌ رَوَاهَا أَحْمَدُ ، وَغَيْرُهُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن شبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم قرآن پڑھو اور جب تم اسے پڑھو تو اس کے حوالے سے تکبر نہ کرو اور اس کے بارے میں غلو نہ کرو اور اس سے جفا نہ کرو اور اس کے عوض میں قیمت نہ کھاؤ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا : عورتیں ہی اہل جہنم ہوں گی ایک صاحب نے عرض کی : کیا وہ ہماری مائیں اور ہماری بہنیں اور ہماری بیٹیاں نہیں ہیں ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا ذکر کیا کہ وہ شوہروں کے حق کی ناشکری کریں گی اور ان کے حق کو ضائع کریں گی اور اس وجہ سے وہ جہنم کی مستحق بن جائیں گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کے مختلف طرق ہیں
یہ روایت امام أحمد اور دیگر حضرات نے بھی نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7672
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 7673
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ النَّارَ خُلِقَتْ لِلسُّفَهَاءِ وَهُنَّ النِّسَاءُ إِلَّا الَّتِي أَطَاعَتْ بَعْلَهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَقَدْ قِيلَ فِيهِ إِنَّهُ صَالِحٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جہنم بے وقوفوں کے لئے بنائی گئی ہے ، اور وہ خواتین ہیں ، البتہ اس عورت کا معاملہ مختلف ہے جو اپنے شوہر کی اطاعت کرتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے ، اور وہ متروک ہے اس کے بارے میں یہ کہا: گیا ہے کہ وہ صالح ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7673
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً