حدیث نمبر: 7629
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ سَلَّامَةَ حَاضِنَةَ إِبْرَاهِيمَ ابْنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ تُبَشِّرُ الرِّجَالَ بِكُلِّ خَيْرٍ ، وَلَا تُبَشِّرُ النِّسَاءَ ؟ قَالَ : " أَصُوَيْحِبَاتُكِ دَسَسْنَكِ لِهَذَا ؟ " قَالَتْ : أَجَلْ هُنَّ أَمَرْنَنِي . قَالَ : " أَفَمَا تَرْضَى إِحْدَاكُنَّ أَنَّهَا إِذَا كَانَتْ حَامِلًا مِنْ زَوْجِهَا ، وَهُوَ عَنْهَا رَاضٍ أَنَّ لَهَا مِثْلَ أَجْرِ الصَّائِمِ الْقَائِمِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَإِذَا أَصَابَهَا الطَّلْقُ لَمْ يَعْلَمْ أَهْلُ السَّمَاءِ وَأَهْلُ الْأَرْضِ مَا أُخْفِيَ لَهَا مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ فَإِذَا وَضَعَتْ لَمْ يَخْرُجْ مِنْهَا جَرْعَةٌ مِنْ لَبَنِهَا ، وَلَمْ يُمَصَّ مَصَّةٌ إِلَّا كَانَ لَهَا بِكُلِّ جَرْعَةٍ ، وَبِكُلِّ مَصَّةٍ حَسَنَةٌ ، فَإِنْ أَسْهَرَهَا لَيْلَةً كَانَ لَهَا مِثْلُ أَجْرِ سَبْعِينَ رَقَبَةً وَتُعْتِقُهُنَّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ - سَلَّامَةَ يَعْنِي - لِمَنْ ؟ أَعْنِي بِهَذِهِ الْمُتَنَعِّمَاتِ الصَّالِحَاتِ الْمُطِيعَاتِ اللَّاتِي لَا يَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَمَّارُ بْنُ نُصَيْرٍ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَصَالِحٌ جَزَرَةُ ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کی دائی ماں سیدہ سلامہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے مردوں کو ہر حوالے سے خوشخبری دیدی ہے آپ نے خواتین کو خوشخبری نہیں دی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تمہاری ساتھی خواتین نے تمہیں اس مقصد کے لئے بھیجا ہے ۔ انہوں نے عرض کی : جی ہاں انہوں نے ہی مجھ سے کہا: ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم میں سے کوئی ایک عورت اس بات پر راضی نہیں ہوتی کہ جب وہ اپنے شوہر سے حاملہ ہوتی ہے ، اور وہ شوہر اس سے راضی ہو ، تو اس عورت کو اللہ کی راہ میں روزہ رکھنے والے اور قیام کرنے والے کی مانند اجر ملتا ہے ، اور جب اسے درد زہ لاحق ہوتا ہے ، تو آسمان والے اور زمین والے یہ بات نہیں جانتے ہیں کہ اس عورت کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لئے کیا چیز پوشیدہ رکھی گئی ہے ، اور جب وہ عورت بچے کو جنم دیتی ہے ، تو اس کے دودھ کا جو بھی گھونٹ نکلتا ہے ، یا بچہ جو بھی دودھ چوستا ہے ، تو ہر ایک مرتبہ گھونٹ اور ہر ایک مرتبہ چوسنے کے عوض میں اس عورت کو ایک نیکی ملتی ہے ، اور اگر وہ رات کے وقت جاگتی ہے ، تو اسے ستر غلام آزاد کرنے کا ثواب ملتا ہے ، جن سب کو اس نے اللہ کی راہ میں آزاد کیا ہو سیدہ سلامہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : یا اجر کس کو ملتا ہے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اُن عورتوں کو جو نعمت والی ہوں ، نیک ہوں ، فرمانبردار ہوں ، جو شوہر کی ناشکری نہ کرتی ہوں“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمار بن نصیر ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک راوی صالح جزرہ ہے ، جسے یحییٰ بن معین اور دیگر حضرات نے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7629
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف