حدیث نمبر: 7610
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ : دَخَلْتُ عَلَى خُوَيْلَةَ بِنْتِ حَكِيمِ بْنِ أُمَيَّةَ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ الْأَوْقَصِ السُّلَمِيَّةِ ، وَكَانَتْ عِنْدَ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ : فَرَأَى بَذَاذَةَ هَيْئَتِهَا فَقَالَ لِي : " يَا عَائِشَةُ مَا أَبَذَّ هَيْئَةِ خُوَيْلَةَ " قَالَتْ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ امْرَأَةٌ لَا زَوْجَ لَهَا تَصُومُ النَّهَارَ وَتَقُومُ اللَّيْلَ فَهِيَ كَمَنْ لَا زَوْجَ لَهَا فَتَرَكَتْ نَفْسَهَا وَأَضَاعَتْهَا . قَالَتْ : فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ فَجَاءَهُ فَقَالَ : " يَا عُثْمَانُ أَرَغِبْتَ عَنْ سُنَّتِي ؟ " قَالَ : لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَلَكِنْ سُنَّتَكَ أَطْلُبُ ! قَالَ : " فَإِنِّي أَنَامُ وَأُصَلِّي وَأَصُومُ وَأُفْطِرُ ، وَأَنْكِحُ النِّسَاءَ فَاتَّقِ اللَّهَ يَا عُثْمَانُ ، فَإِنَّ لِأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا ، وَإِنَّ لِضَيْفِكَ عَلَيْكَ حَقًّا ، وَإِنَّ لِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقًّا فَصُمْ وَأَفْطِرْ وَصَلِّ وَنَمْ " . ¤ قُلْتُ رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ طَرَفًا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ وَقَالَ : فَقَالَ : " يَا عُثْمَانُ إِنَّ لَكَ فِيَّ أُسْوَةً إِنَّ أَخْشَاكُمْ لِلَّهِ وَأَحْفَظَكُمْ لِحُدُودِهِ لَأَنَا " . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہیں ، وہ بیان کرتی ہیں : خویلہ بنت حکیم بن امیہ بن حارثہ بن اوقص سلمیہ میرے ہاں آئیں وہ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی حالت کو خراب دیکھا تو مجھ سے کہا: اے عائشہ ! خویلہ کی حالت کیوں خراب ہے ؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ ایک ایسی عورت ہیں جس کا شوہر دن کے وقت روزہ رکھ لیتا ہے ، اور رات کو نفل پڑھتا رہتا ہے ، تو یہ اس طرح ہی ہے جس طرح اس کا شوہر ہے اس نے اپنے آپ کو چھوڑ دیا ہے ، اور خود کو ضائع کر رہی ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیج کر بلوایا وہ آپ کے پاس آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے عثمان ! کیا تم میری سنت سے منہ موڑ رہے ہو اس نے عرض کی : جی نہیں اللہ کی قسم ! یا رسول اللہ ! میں ، تو آپ کی سنت کی پیروی کرنا چاہتا ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، پھر میں ( رات کے وقت ) سو بھی جاتا ہوں ، اور نفل بھی پڑھتا ہوں ، اور میں ( دن کے وقت ، نفلی ) روزہ رکھ بھی لیتا ہوں ، اور چھوڑ بھی دیتا ہوں ، اور میں نے عورتوں کے ساتھ نکاح بھی کیا ہوا ہے اے عثمان تم اللہ سے ڈرو تمہاری بیوی کا تم پر حق ہے تمہارے مہمان کا تم پر حق ہے تمہاری جان کا تم پر حق ہے تم ( نفلی ) روزہ رکھ بھی لیا کرو اور چھوڑ بھی دیا کرو اور تم ( رات کے وقت ) نفل پڑھ بھی لیا کرو اور سو بھی جایا کرو ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : میں یہ کہتاہوں امام ابوداؤد نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے عثمان ! تمہارے لئے میرے طریقے میں بہترین نمونہ ہے میں تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا ہوں اور اس کی حدود کی سب سے زیادہ حفاظت کرنے والا میں ہوں “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : میں یہ کہتاہوں امام ابوداؤد نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے عثمان ! تمہارے لئے میرے طریقے میں بہترین نمونہ ہے میں تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا ہوں اور اس کی حدود کی سب سے زیادہ حفاظت کرنے والا میں ہوں “ ۔
حدیث نمبر: 7611
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ أَحْمَدَ : " إِنَّ الرَّهْبَانِيَّةَ لَمْ تُكْتَبْ عَلَيْنَا إِنَّ أَخْشَاكُمْ لِلَّهِ وَأَحْفَظَكُمْ لِحُدُودِهِ لَأَنَا " . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت جو امام أحمد سے منقول ہے اس میں یہ الفاظ ہیں : رہبانیت ہم پر لازم قرار نہیں دی گئی ہے تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا اور اس کی حدود کی سب سے زیادہ حفاظت کرنے والا ” میں “ ہوں“ ۔ امام أحمد کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی اہلیہ پہلے خضاب لگایا کرتی تھیں اور خوشبو لگایا کرتی تھیں پھر انہوں نے اسے ترک کر دیا پھر وہ ایک مرتبہ میرے پاس آئیں ، تو میں نے کہا: کیا آپ کے میاں موجود ہیں یا گئے ہوئے ہیں انہوں نے کہا: موجود ہیں لیکن غیر موجود کی مانند ہیں میں نے ان سے دریافت کیا : آپ کو کیا ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا: عثمان کو دنیا کی طلب نہیں ہے اسے عورتوں میں دلچسپی نہیں ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے ، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی ، تو آپ نے فرمایا : اے عثمان ! کیا تم اس چیز پر ایمان رکھتے ہو جس پر ہم ایمان رکھتے ہیں انہوں نے عرض کی : جی ہاں یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ، پھر تم ہمارے اسوہ کی پیروی کیوں نہیں کرتے ۔ امام أحمد کی سند کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ ایک روایت ” تم سب سے زیادہ ڈرنے والا “ اس کو امام أحمد نے مسند روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، اور امام بزار نے موصول روایت کے طور پر نقل کیا ہے جو ثقہ راویوں کے حوالے سے منقول ہے ۔
حدیث نمبر: 7611
وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَ أَحْمَدَ : عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَتِ امْرَأَةُ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ تَخْتَضِبُ وَتَطَيَّبُ فَتَرَكَتْهُ فَدَخَلَتْ عَلَيَّ فَقُلْتُ لَهَا : أَمُشْهِدٌ أَمْ مُغِيبٌ ؟ فَقَالَتْ : مُشْهِدٌ كَمُغِيبٍ . فَقُلْتُ لَهَا : مَا لَكِ ؟ فَقَالَتْ : عُثْمَانُ لَا يُرِيدُ الدُّنْيَا ، وَلَا يُرِيدُ النِّسَاءَ . قَالَتْ عَائِشَةُ : فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ فَلَقِيَ عُثْمَانَ فَقَالَ : " يَا عُثْمَانُ أَتُؤْمِنُ بِمَا نُؤْمِنُ بِهِ ؟ " قَالَ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " فَأُسْوَةٌ مَا لَكَ بِنَا ؟ " . ¤ وَأَسَانِيدُ أَحْمَدَ رِجَالُهَا ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ طَرِيقَ " إِنَّ أَخْشَاكُمْ " أَسْنَدَهَا أَحْمَدُ وَوَصَلَهَا الْبَزَّارُ بِرِجَالٍ ثِقَاتٍ . ¤
محمد محی الدین
مسندِ أحمد کی ایک روایت میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے ، وہ بیان کرتی ہیں کہ : سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی اہلیہ (خُولہ بنتِ حکیم) خضاب (مہندی) لگایا کرتی تھیں اور خوشبو استعمال کیا کرتی تھیں ، پھر انہوں نے یہ سب چھوڑ دیا ۔ چنانچہ وہ میرے پاس آئیں تو میں نے ان سے پوچھا: (کیا تمہارا شوہر) گھر پر موجود ہے یا سفر میں (غائب) ہے ؟ انہوں نے کہا: وہ موجود ہو کر بھی غائب ہی کی طرح ہیں ۔ میں نے ان سے پوچھا: تمہیں کیا ہوا ؟ انہوں نے کہا: عثمان نہ دنیا کی خواہش رکھتے ہیں اور نہ عورتوں میں رغبت رکھتے ہیں ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی ۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے ملے اور فرمایا : ” اے عثمان ! کیا تم اس بات پر ایمان رکھتے ہو جس پر ہم ایمان لاتے ہیں ؟ “ انہوں نے عرض کیا : جی ہاں ، اے اللہ کے رسول ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو پھر تمہارے لیے ہمارے طریقہِ کار میں اسوہ (پیروی) کیوں نہیں ہے ؟ “ ۔
امام أحمد کی اسناد کے تمام راوی ثقہ ہیں ، سوائے اس کے کہ ” «إِنَّ أَخْشَاكُمْ» “ یعنی تم میں سے سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والے والی سند کو امام أحمد نے مسند کیا ہے اور امام بزار نے اسے ثقہ راویوں کے ساتھ موصولاً روایت کیا ہے ۔
امام أحمد کی اسناد کے تمام راوی ثقہ ہیں ، سوائے اس کے کہ ” «إِنَّ أَخْشَاكُمْ» “ یعنی تم میں سے سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والے والی سند کو امام أحمد نے مسند کیا ہے اور امام بزار نے اسے ثقہ راویوں کے ساتھ موصولاً روایت کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 7612
وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ : دَخَلَتِ امْرَأَةُ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ عَلَى نِسَاءِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَأَيْنَهَا سَيِّئَةَ الْهَيْأَةِ فَقُلْنَ لَهَا : مَا لَكِ ؟ مَا فِي قُرَيْشٍ رَجُلٌ أَغْنَى مِنْ بَعْلِكِ ؟ قَالَتْ : مَا لَنَا مِنْهُ مِنْ شَيْءٍ أَمَّا نَهَارُهُ فَصَائِمٌ وَأَمَّا لَيْلُهُ فَقَائِمٌ . فَدَخَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرْنَ ذَلِكَ لَهُ . قَالَ : فَلَقِيَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَا عُثْمَانُ أَمَا لَكَ فِيَّ أُسْوَةٌ ؟ " قَالَ : وَمَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي . فَقَالَ : " أَمَا أَنْتَ فَتَقُومُ بِاللَّيْلِ وَتَصُومُ بِالنَّهَارِ ،وَإِنَّ لِأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا ، وَإِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا فَصَلِّ وَنَمْ وَصُمْ وَأَفْطِرْ " قَالَ : فَأَتَتْهُمُ الْمَرْأَةُ بَعْدَ ذَلِكَ عَطِرَةً كَأَنَّهَا عَرُوسٌ فَقُلْنَ لَهَا : مَهْ . قَالَتْ : أَصَابَنَا مَا أَصَابَ النَّاسَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ وَبَعْضُ أَسَانِيدِ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی اہلیہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے پاس آئیں ان ازواج نے انہیں دیکھا کہ ان کی حالت خراب ہے ۔ انہوں نے دریافت کیا ، تمہیں کیا ہوا ہے قریش میں کوئی بھی شخص تمہارے شوہر سے زیادہ خوشحال نہیں ہے اس خاتون نے کہا: میرا ان کے ساتھ کوئی واسطہ ہی نہیں ہے وہ دن کے وقت روزہ رکھ لیتے ہیں اور رات کے وقت نفل پڑھتے رہتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لائے ، تو ازواج نے آپ کے سامنے یہ بات ذکر کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی ، تو آپ نے فرمایا : اے عثمان ! کیا تمہارے لئے میرے طریقے میں نمونہ نہیں ہے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہوا ہے میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم رات کو نفل پڑھتے رہتے ہو دن کو روزہ رکھ لیتے ہو ؟ تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے تم نماز بھی پڑھا کرو اور سو بھی جایا کرو روزہ بھی رکھا کرو اور روزہ ترک بھی کر دیا کرو ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد وہ خاتون ان ازواج کے پاس آئیں ، تو انہوں نے عطر لگایا ہوا تھا یوں جیسے وہ دلہن ہوں ان ازواج نے ان سے دریافت کیا : اب کیا ہوا ہے ، تو انہوں نے بتایا ہمیں بھی وہ چیز نصیب ہوئی ہے جو لوگوں کو ملتی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ۔ امام طبرانی کی بعض اسانید کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ۔ امام طبرانی کی بعض اسانید کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 7613
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : كَانَتِ امْرَأَةُ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ امْرَأَةً جَمِيلَةً عَطِرَةً تُحِبُّ اللِّبَاسَ وَالْهَيْئَةَ لِزَوْجِهَا فَرَأَتْهَا عَائِشَةُ وَهِيَ تَفِلَةٌ فَقَالَتْ : مَا حَالُكِ هَذِهِ ؟ فَقَالَتْ : إِنَّ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْهُمْ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ وَعُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ قَدْ تَخَلَّوْا لِلْعِبَادَةِ وَامْتَنَعُوا مِنَ النِّسَاءِ وَأَكْلِ اللَّحْمِ وَصَامُوا النَّهَارَ وَقَامُوا اللَّيْلَ فَكَرِهْتُ أَنْ أُرِيَهُ مِنْ حَالِي مَا يَدْعُوهُ إِلَى مَا عِنْدِي لَمَّا تَخَلَّى لَهُ . فَلَمَّا دَخَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخْبَرَتْهُ عَائِشَةُ فَأَخَذَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَعْلَهُ فَحَمَلَهَا بِالسَّبَّابَةِ مِنْ أُصْبُعِهِ الْيُسْرَى ، ثُمَّ انْطَلَقَ إِلَيْهِمْ جَمِيعًا حَتَّى دَخَلَ عَلَيْهِمْ فَسَأَلَهُمْ عَنْ حَالِهِمْ قَالُوا : أَرَدْنَا الْخَيْرَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنِّي إِنَّمَا بُعِثْتُ بِالْحَنِيفِيَّةِ السَّمْحَةِ ، وَلَمْ أُبْعَثْ بِالرَّهْبَانِيَّةِ الْبِدْعَةِ ، أَلَا وَإِنَّ أَقْوَامًا ابْتَدَعُوا الرَّهْبَانِيَّةَ فَكُتِبَتْ عَلَيْهِمْ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا أَلَا فَكُلُوا اللَّحْمَ وَائْتُوا النِّسَاءَ وَصُومُوا وَأَفْطِرُوا وَصَلُّوا وَنَامُوا ، فَإِنِّي بِذَلِكَ أُمِرْتُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لَهُ طَرِيقٌ فِي الْعِلْمِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی اہلیہ خوبصورت عورت تھیں وہ عطر لگاتی تھیں وہ اپنے شوہر کے لئے عمدہ لباس اور تیار ہونے کو پسند کرتی تھیں ، ایک مرتبہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں دیکھا کہ ان کی حالت خراب ہے ، تو دریافت کیا : آپ کی یہ حالت کیوں ہو گئی انہوں نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اصحاب جن میں سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ شامل ہیں ان حضرات نے عبادت کے لئے تخلیہ اختیار کر لیا ہے عورتوں سے علیحدگی اختیار کر لی ہے گوشت کھانا چھوڑ دیا ہے یہ دن کو روزہ رکھتے ہیں اور رات کو نفل پڑھتے رہتے ہیں ، تو مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ میں انہیں وہ حالت دکھاؤں کہ وہ اس چیز کو چھوڑ دیں جس کے لئے انہوں نے خلوت اختیار کی ہے ، اور میری طرف آ جائیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لائے ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو اس بارے میں بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جوتا پہنا آپ نے شہادت کی انگلی اور دوسری انگلی کے ذریعے اسے اٹھایا اور پھر تیزی سے ان افراد کی طرف چلے گئے آپ ان حضرات کے پاس تشریف لے گئے ان سے ان کی حالت کے بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے عرض کی : ہم نے بھلائی کا ارادہ کیا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے نرم اور سیدھے دین کے ہمراہ مبعوث کیا گیا ہے مجھے نو ایجاد شدہ رہبانیت کے ہمراہ مبعوث نہیں کیا گیا ہے کچھ لوگوں نے رہبانیت کو ایجاد کیا تھا وہ ان پر لازم قرار دیدی گئی ، تو انہوں نے پھر اس کا اس طرح خیال نہیں رکھا جو اس کا خیال رکھنا چاہیے تھا خبردار تم لوگ گوشت کھاؤ عورتوں کے پاس جاؤ ( نفلی ) روزہ رکھو اور چھوڑ بھی دو اور ( نفل ) نماز پڑھو اور سو بھی جایا کرو مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔ اس سے پہلے علم سے متعلق باب میں اس روایت کی ایک سند گزر چکی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔ اس سے پہلے علم سے متعلق باب میں اس روایت کی ایک سند گزر چکی ہے ۔
حدیث نمبر: 7614
وَعَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَامَ فِي النَّاسِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ يُوصِيكُمْ بِالنِّسَاءِ خَيْرًا إِنَّ اللَّهَ يُوصِيكُمْ بِالنِّسَاءِ خَيْرًا ، فَإِنَّهُنَّ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ إِنَّ الرَّجُلَ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ يَتَزَوَّجُ الْمَرْأَةَ وَمَا تُعَلِّقُ يَدَاهَا الْخَيْطَ فَمَا يَرْغَبُ وَاحِدٌ مِنْهُمَا عَنْ صَاحِبِهِ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى لَهُ ابْنُ مَاجَهْ : " إِنَّ اللَّهَ يُوصِيكُمْ بِأُمَّهَاتِكُمْ إِنَّ اللَّهَ يُوصِيكُمْ بِآبَائِكُمْ إِنَّ اللَّهَ يُوصِيكُمْ بِالْأَقْرَبِ فَالْأَقْرَبِ " فَقَطْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ يَحْيَى بْنَ جَابِرٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ الْمِقْدَامِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی پھر آپ نے ارشاد فرمایا : بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہیں خواتین کے بارے میں بھلائی کا حکم دیا ہے بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہیں خواتین کے بارے میں بھلائی کا حکم دیا ہے وہ تمہاری مائیں ہیں تمہاری بیٹیاں ہیں تمہاری خالائیں ہیں ، اہل کتاب سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ایک عورت کے ساتھ شادی کرتا ہے ، اس عورت کے ہاتھ دھاگے سے متعلق نہیں ہوتے ، لیکن ان دونوں ( میاں بیوی ) میں سے کوئی بھی دوسرے سے بے رغبت نہیں ہوتا “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ابن ماجہ نے ان کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہیں تمہاری ماؤں کے بارے میں حکم دیا ہے بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہیں تمہارے باپوں کے بارے میں حکم دیا ہے بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہیں درجہ بدرجہ قریبی عزیزوں کے بارے میں حکم دیا ہے “ ۔ اس میں صرف یہ الفاظ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں تاہم یحیی بن جابر نے سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ابن ماجہ نے ان کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہیں تمہاری ماؤں کے بارے میں حکم دیا ہے بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہیں تمہارے باپوں کے بارے میں حکم دیا ہے بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہیں درجہ بدرجہ قریبی عزیزوں کے بارے میں حکم دیا ہے “ ۔ اس میں صرف یہ الفاظ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں تاہم یحیی بن جابر نے سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حدیث نمبر: 7615
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحَسَنُهُمْ خُلُقًا وَخِيَارُهُمْ لِنِسَائِهِمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ وَقَدْ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ خَلَا قَوْلَهُ : " وَخِيَارُهُمْ لِنِسَائِهِمْ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریره رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ایمان کے اعتبار سے سب سے زیادہ کامل وہ شخص ہے جو اخلاق کے اعتبار سے سب سے اچھا ہو اور اپنی بیوی کے لئے سب سے بہتر ہو “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمرو ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابوداؤد نے نقل کی ہے ۔ صرف یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں : ” جو اپنی بیوی کے لئے سب سے بہتر ہو “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمرو ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابوداؤد نے نقل کی ہے ۔ صرف یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں : ” جو اپنی بیوی کے لئے سب سے بہتر ہو “ ۔
حدیث نمبر: 7616
وَعَنْ أَبِي كَبْشَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " خِيَارُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ رُؤْبَةَ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوکبشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنی بیوی کے لئے سب سے بہتر ہو“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن رؤبہ ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن رؤبہ ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 7617
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ عَاصِمِ بْنِ صُهَيْبٍ ، وَأُنْكِرَ عَلَيْهِ كَثْرَةُ الْغَلَطِ وَتَمَادِيهِ فِيهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم میں زیادہ بہتر وہ ہے جو اپنی بیوی کے حق میں زیادہ بہتر ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن عاصم بن صہیب ہے اس کی بکثرت غلطیوں اور اس کی سرکشی کی وجہ سے اسے منکر قرار دیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن عاصم بن صہیب ہے اس کی بکثرت غلطیوں اور اس کی سرکشی کی وجہ سے اسے منکر قرار دیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 7618
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ ، وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُصْعَبُ بْنُ مُصْعَبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم میں زیادہ بہتر وہ ہے جو اپنی بیوی کے حق میں زیادہ بہتر ہو اور میں اپنی بیویوں کے حق میں سب سے بہتر ہوں“ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مصعب بن مصعب ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مصعب بن مصعب ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 7619
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِنِسَائِهِمْ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تم میں زیادہ بہتر وہ ہے جو اپنی بیویوں کے حق میں زیادہ بہتر ہو “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمرو بن علقمہ ہے جس کی توثیق کی گئی ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمرو بن علقمہ ہے جس کی توثیق کی گئی ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 7620
وَعَنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا عَسَى أَحَدُكُمْ أَنْ يَضْرِبَ امْرَأَتَهُ ضَرْبَ الْأَمَةِ أَلَا خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ زَكَرِيَّا بْنِ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ الضَّرِيرِ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ایسا ہوتا ہے کہ کوئی شخص اپنی بیوی کو یوں مارتا ہے جس طرح کنیز کو مارا جاتا ہے خبردار ! تم میں زیادہ بہتر وہ ہے جو اپنی بیوی کے حق میں زیادہ بہتر ہو “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد ذکریا بن یحیی بن ایوب ضریر سے نقل کی ہے ۔ میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد ذکریا بن یحیی بن ایوب ضریر سے نقل کی ہے ۔ میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 7621
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَذِنَ فِي ضَرْبِ النِّسَاءِ فَسَمِعَ مِنَ اللَّيْلِ صَوْتًا عَالِيًا فَقَالَ : " إِنِّي لَأَسْمَعُ صَوْتًا " فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَذِنْتَ فِي ضَرْبِ النِّسَاءِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ ، وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي " . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ بَعْضَهُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ يَحْيَى بْنِ ثَوْبَانَ ، وَهُوَ مَسْتُورٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ ، وَقَدْ رَوَى أَبُو دَاوُدَ لِجَعْفَرٍ هَذَا وَسَكَتَ عَنْهُ فَحَدِيثُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کی پٹائی کرنے کی اجازت دی آپ نے رات کے وقت بلند آوازیں سنیں ، تو ارشاد فرمایا : میں نے آوازیں سنی تھیں لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے خواتین کی پٹائی کرنے کی اجازت دی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم میں زیادہ بہتر وہ ہے جو اپنی بیوی کے حق میں زیادہ بہتر ہو اور میں اپنی بیویوں کے حق میں سب سے زیادہ بہتر ہوں “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ابن ماجہ نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن یحیی بن ثوبان ہے وہ مستور ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں امام ابوداؤد نے جعفر نامی اس راوی کے حوالے سے روایت نقل کی ہے ۔ اور اس کے بارے میں خاموشی اختیار کی ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن یحیی بن ثوبان ہے وہ مستور ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں امام ابوداؤد نے جعفر نامی اس راوی کے حوالے سے روایت نقل کی ہے ۔ اور اس کے بارے میں خاموشی اختیار کی ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 7622
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ : رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ " ، رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، عَنْ شَيْخِهِ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم میں زیادہ بہتر وہ ہے جو اپنی بیوی کے حق میں زیادہ بہتر ہو “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد عثمان بن عمر سے نقل کی ہے ۔ میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد عثمان بن عمر سے نقل کی ہے ۔ میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 7623
وَعَنْ نُعَيْمِ بْنِ قَعْنَبٍ قَالَ : خَرَجْتُ إِلَى الرَّبَذَةِ فَإِذَا أَبُو ذَرٍّ قَدْ جَاءَ فَكَلَّمَ امْرَأَتَهُ فِي شَيْءٍ فَكَأَنَّهَا رَدَّتْ عَلَيْهِ وَعَادَ فَعَادَتْ فَقَالَ : مَا تَزِيدِينَ عَلَيَّ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْمَرْأَةُ كَالضِّلَعِ إِنْ أَثَنَيْتَهَا انْكَسَرَتْ ، وَفِيهَا بَلْغَةٌ وَأَوَدٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا نُعَيْمَ بْنَ قَعْنَبٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
نعیم بن قعنب بیان کرتے ہیں : میں ربذہ کی طرف گیا وہاں سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ موجود تھے وہ تشریف لائے انہوں نے کسی چیز کے بارے میں اپنی بیوی کے ساتھ بات چیت کی ان کی بیوی نے انہیں پلٹ کر جواب دیا انہوں نے اپنی بات دہرائی ، تو اس عورت نے بھی جواب دہرا دیا تو سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے کہا: تم خواتین اس چیز سے بڑھ کے نہیں ہو جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائی ہے : ” عورت پسلی کی مانند ہے اگر تم اسے ٹھیک کرنا چاہو گے ، تو وہ ٹوٹ جائے گی ، جبکہ اس میں کفایت ( یعنی بنیادی ضرورت کی تکمیل ) بھی ہو گی اور ٹیڑھا پن بھی ہو گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف نعیم بن قعنب کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف نعیم بن قعنب کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 7624
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْمَرْأَةُ كَالضِّلَعِ إِنْ أَقَمْتَهَا كَسَرْتَهَا وَهِيَ يُسْتَمْتَعُ بِهَا عَلَى عِوَجٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” عورت پسلی کی مانند ہے اگر تم اسے ٹھیک کرنا چاہو گے ، تو اسے توڑ دو گے اس کے ٹیڑھے پن سمیت اس سے نفع حاصل کیا جا سکتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 7625
وَعَنْ رَجُلٍ قَالَ : سَمِعْتُ سَمُرَةَ يَخْطُبُ عَلَى مِنْبَرِ الْبَصْرَةِ ، وَهُوَ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ الْمَرْأَةَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلَعٍ ، وَإِنَّكَ إِنْ تُرِدْ إِقَامَةَ الضِّلَعِ تَكْسِرْهُ فَدَارِهَا تَعِشْ بِهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ وَسُمِّي الرَّجُلُ أَبَا رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيَّ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ مَسَاتِيرُ وَمَنْ لَمْ يَعْرِفْ . ¤
محمد محی الدین
ایک صاحب بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ کو بصرہ میں خطبہ دینے کے دوران یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا وہ کہتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” عورت کو پسلی سے پیدا کیا گیا ہے اگر تم پہلی کو سیدھا کرنا چاہو گے تو اسے ، توڑ دو گے ، تو تم اس کا خیال رکھو ، ( اسی طرح ) تم اس کے ساتھ رہ پاؤ گے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ۔ ان میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ان میں سے ایک کا نام ابورجاء عطاردی بیان کیا گیا ہے ۔ امام طبرانی نے اسے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کیا ہے ۔ امام أحمد کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اس کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں امام طبرانی کی سند میں مستور راوی ہیں اور ایسے راوی جن کی شناخت نہیں ہو سکی ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ۔ ان میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ان میں سے ایک کا نام ابورجاء عطاردی بیان کیا گیا ہے ۔ امام طبرانی نے اسے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کیا ہے ۔ امام أحمد کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اس کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں امام طبرانی کی سند میں مستور راوی ہیں اور ایسے راوی جن کی شناخت نہیں ہو سکی ۔
حدیث نمبر: 7626
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَسْتَقِيمُ لَكَ الْمَرْأَةُ عَلَى خَلِيقَةٍ وَاحِدَةٍ إِنَّمَا هِيَ كَالضِّلَعِ إِنْ تُقِمْهَا تَكْسِرْهَا ، وَإِنْ تَتْرُكْهَا تَسْتَمْتِعْ بِهَا ، وَفِيهَا عِوَجٌ " . ¤ وَفِي رِوَايَةٍ : " وَكَسْرُهَا طَلَاقُهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَثَّقَهُ دُحَيْمٌ وَهُشَيْمٌ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عورت تمہارے لئے کسی صورت میں سیدھی نہیں ہو سکتی یہ پسلی کی مانند ہے اگر تم اسے ٹھیک کرنا چاہو گے ، تو تم اسے ، توڑ دو گے ، اور اگر تم اسے یوں چھوڑ دو گے ، تو اس کے ذریعے نفع حاصل کرو گے ، جب کہ اس کے اندر ٹیڑھا پن موجود ہو “ ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” اسے توڑنے سے مراد اسے طلاق دینا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سوید بن عبدالعزیز ہے ، جسے دحیم اور ہشیم نے ثقہ قرار دیا ہے جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سوید بن عبدالعزیز ہے ، جسے دحیم اور ہشیم نے ثقہ قرار دیا ہے جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 7627
وَعَنْ شَيْخٍ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : جَاءَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَشْكُو إِلَى عُمَرَ مَا يَلْقَى مِنَ النِّسَاءِ فَقَالَ عُمَرُ : إِنَّا لَنَجِدُ ذَلِكَ حَتَّى إِنِّي لَأُرِيدُ الْحَاجَةَ تَقُولُ : تَذْهَبْ إِلَى فَتَيَاتِ بَنِي فُلَانٍ تَنْظُرْ إِلَيْهِنَّ . فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ عِنْدَ ذَلِكَ : أَمَا بَلَغَكَ أَنَّ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ شَكَا إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ذَرَأَ خُلُقِ سَارَةَ فَقِيلَ لَهُ : إِنَّمَا خُلِقَتْ مِنْ ضِلَعٍ فَالْبَسْهَا عَلَى مَا كَانَ فِيهَا مَا لَمْ تَرَ عَلَيْهَا خِزْيَةً فِي دِينِهَا فَقَالَ عُمَرُ : لَقَدْ حُشِيَ بَيْنَ أَضْلَاعِكَ عِلْمٌ كَثِيرٌ . . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ رَاوِيَانِ لَمْ يُسَمَّيَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک بزرگ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے شکایت کی کہ خواتین کی طرف سے انہیں ( ناگوار صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے ) تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ صورت حال تو ہم بھی پاتے ہیں بعض اوقات میں کسی کام کے سلسلے میں نکلنے لگتا ہوں تو وہ عورت ( یعنی میری بیوی ) یہ کہتی ہے : آپ بنوفلاں کی لڑکیاں دیکھنے کے لئے جا رہے ہیں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس موقع پر ان سے کہا: کیا آپ تک یہ بات نہیں پہنچی ہے کہ سیدنا ابراہیم نے اللہ تعالیٰ سے سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا کے مزاج کی تیزی کی شکایت کی ، تو ان سے کہا: گیا کہ اسے پسلی سے پیدا کیا گیا ہے ، تو تم اس کی اس چیز سمیت اس کے ساتھ گزارہ کرو جب تک اس کے دین کے بارے میں تمہیں کوئی غلط چیز نظر نہیں آتی ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تمہاری پسلیوں کے درمیان بہت زیادہ علم بھرا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں دو راوی ایسے ہیں جن کے نام بیان نہیں کیے گئے ہیں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں دو راوی ایسے ہیں جن کے نام بیان نہیں کیے گئے ہیں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔