کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس شخص کا بیان ، جو کسی ایسی عورت کے ساتھ صحبت کرتا ہے جس کا حمل کسی اور سے ہو
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَيْسَ مِنَّا مَنْ وَطِئَ حُبْلَى " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو کسی حاملہ عورت کے ساتھ صحبت کرے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ۔ یہ امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ، اور وہ تدلیس کرنے والا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7600
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12090) اخرجه احمد فى المسند (2318)»
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَقَعَنَّ رَجُلٌ عَلَى امْرَأَةٍ وَحَمْلُهَا لِغَيْرِهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کوئی شخص کسی ایسی عورت کے ساتھ ہرگز صحبت نہ کرے جس کا حمل کسی اور سے ہو “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے جس کی توثیق کی گئی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7601
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (368/2)»
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ دِينَارٍ مَوْلَى آلِ الزُّبَيْرِ قَالَ : أَخْبَرَنِي الثِّقَةُ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى يَوْمَ خَيْبَرَ أَنْ يُوقَعَ عَلَى الْحَبَالَى وَقَالَ : " تَسْقِي زَرْعَ غَيْرِكَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى . وَيَحْيَى لَمْ أَعْرِفْهُ وَابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
یحیی بن سعید بن دینار ، جو آل زبیر کا غلام ہے وہ بیان کرتے ہیں : ایک ثقہ شخص نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ غزوہ خبیر کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حاملہ عورتوں کے ساتھ صحبت کرنے سے منع کر دیا تھا آپ نے ارشاد فرمایا تھا : کیا تم کسی دوسرے کے کھیت کو سیراب کرو گے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ یحیی نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ابن ابوزیاد نامی راوی ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7602
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (1595)»
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى يَوْمَ خَيْبَرَ أَنْ تُوطَأَ الْحَبَالَى حَتَّى يَضَعْنَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خبیر کے موقع پر حاملہ عورتوں کے ساتھ صحبت کرنے سے منع کر دیا تھا جب تک وہ بچہ کو جنم نہیں دے دیتیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7603
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7593)»
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ كُلَّ جَارِيَةٍ بِهَا حَبَلٌ حَرَامٌ عَلَى صَاحِبِهَا حَتَّى تَضَعَ مَا فِي بَطْنِهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ ، وَهُوَ بِتَمَامِهِ فِي الْأَطْعِمَةِ فِي أَكْلِ الثُّومِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَابَلُتِّيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِي الِاسْتِبْرَاءِ فِي الطَّلَاقِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ہر وہ کنیز جو حاملہ ہو ، تو اس کے مالک پر یہ حرام ہے ( کہ وہ اس کے ساتھ صحبت کرے ) جب تک وہ پیٹ میں موجود بچے کو جنم نہیں دیدیتی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ۔ جو مکمل روایت آگے چل کر کھانے پینے سے متعلق باب میں لہسن کھانے والے باب میں آئے گی اس روایت کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبداللہ بابلتی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔ میں یہ کہتا ہوں طلاق سے متعلق باب میں استبراء سے متعلق باب میں احادیث آئیں گی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7604
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
وَعَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ جَارِيَةً مِنْ خَيْبَرَ مَرَّتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهِيَ مُجِحٌّ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لِمَنْ هَذِهِ ؟ " قَالُوا : لِفُلَانٍ . قَالَ : " أَيَطَؤُهَا ؟ " قِيلَ : نَعَمْ . قَالَ : " فَكَيْفَ يَصْنَعُ بِوَلَدِهَا أَيَدَّعِيهِ وَلَيْسَ لَهُ بِوَلَدٍ أَمْ يَسْتَعْبِدُهُ ، وَهُوَ يَغْذُوهُ فِي سَمْعِهِ وَبَصَرِهِ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَلْعَنَهُ لَعْنَةً تَدْخُلُ مَعَهُ فِي قَبْرِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
رجاء بن حیوہ ، اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا سے یہ روایت نقل کرتے ہیں : غزوہ خبیر کے موقع پر ایک کنیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزری وہ ایسی حاملہ تھی کہ وضع حمل کا زمانہ قریب تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : یہ کس کی ( کنیز ) ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ فلاں شخص کی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا وہ شخص اس کے ساتھ صحبت کرتا ہے عرض کی گئی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ اس کے بچے کے ساتھ کیا کرے گا کیا وہ اس کا دعوی کرے گا حالانکہ وہ اس کا بچہ ہے ہی نہیں یا پھر وہ اسے غلام بنا لے گا ، جب کہ اس بچے کی سماعت اور بصارت کو اس نے غذا فراہم کی ہو گی میں نے یہ ارادہ کیا تھا کہ میں اس شخص پر ایسی لعنت کروں جو اس کے ساتھ اس کی قبر میں داخل ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خارجہ بن مصعب ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7605
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (302/22)»