حدیث نمبر: 7605
وَعَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ جَارِيَةً مِنْ خَيْبَرَ مَرَّتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهِيَ مُجِحٌّ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لِمَنْ هَذِهِ ؟ " قَالُوا : لِفُلَانٍ . قَالَ : " أَيَطَؤُهَا ؟ " قِيلَ : نَعَمْ . قَالَ : " فَكَيْفَ يَصْنَعُ بِوَلَدِهَا أَيَدَّعِيهِ وَلَيْسَ لَهُ بِوَلَدٍ أَمْ يَسْتَعْبِدُهُ ، وَهُوَ يَغْذُوهُ فِي سَمْعِهِ وَبَصَرِهِ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَلْعَنَهُ لَعْنَةً تَدْخُلُ مَعَهُ فِي قَبْرِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

رجاء بن حیوہ ، اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا سے یہ روایت نقل کرتے ہیں : غزوہ خبیر کے موقع پر ایک کنیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزری وہ ایسی حاملہ تھی کہ وضع حمل کا زمانہ قریب تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : یہ کس کی ( کنیز ) ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ فلاں شخص کی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا وہ شخص اس کے ساتھ صحبت کرتا ہے عرض کی گئی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ اس کے بچے کے ساتھ کیا کرے گا کیا وہ اس کا دعوی کرے گا حالانکہ وہ اس کا بچہ ہے ہی نہیں یا پھر وہ اسے غلام بنا لے گا ، جب کہ اس بچے کی سماعت اور بصارت کو اس نے غذا فراہم کی ہو گی میں نے یہ ارادہ کیا تھا کہ میں اس شخص پر ایسی لعنت کروں جو اس کے ساتھ اس کی قبر میں داخل ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خارجہ بن مصعب ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7605
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (302/22)»