کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: دودھ پلانے والی عورت کے ساتھ صحبت کرنے والے شخص اور دیگر امور کا بیان
عَنْ حَبَشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " الْمَعْكُ طَرَفٌ مِنَ الظُّلْمِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حبشی بن جنادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” معک ، ایک قسم کا ظلم ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن موسیٰ بن عبیدہ ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن موسیٰ بن عبیدہ ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنِ الِاغْتِيَالِ ، ثُمَّ قَالَ : " لَوْ ضَرَّ أَحَدًا لَضَرَّ فَارِسَ وَالرُّومَ " . ¤ قَالَ ابْنُ بُكَيْرٍ : وَالِاغْتِيَالُ أَنْ يَطَأَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ تُرْضِعُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اغتیال ( یعنی دودھ پلانے والی عورت کے ساتھ صحبت کرنے ) سے منع کیا پھر آپ نے ارشاد فرمایا : اگر یہ چیز کسی کے لئے نقصان دہ ہوتی ، تو یہ اہل ایران اور اہل روم کو نقصان پہنچاتی ۔ ابن بکیر کہتے ہیں : اغتیال یہ ہے کہ آدمی اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کرے جبکہ وہ دودھ پلانے والی ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْغَيْلِ ، ثُمَّ قَالَ : " مَا ضَرَّ فَارِسَ وَالرُّومَ وَذَلِكَ أَنْ يَأْتِيَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ تُرْضِعُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ حَمَّادٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غیل سے منع کیا پھر آپ نے ارشاد فرمایا : یہ چیز فارسیوں کو اور رومیوں کو تو کوئی نقصان نہیں پہنچاتی ۔ ( راوی کہتے ہیں : ) اس سے مراد یہ ہے کہ آدمی اپنی بیوی کے ساتھ اس وقت صحبت کرے جب وہ دودھ پلاتی ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن حماد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن حماد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔