کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان ، جو اپنے غلام کو مارتا ہے یا اس کا مثلہ کر دیتا ہے
عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ ضَرَبَ مَمْلُوكَهُ ظُلْمًا أُقِيدَ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اپنے غلام کو ظلم کے طور پر مارتا ہے ، قیامت کے دن اسے اس سے بدلہ دلوایا جائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَضْرِبُوا الرَّقِيقَ ، فَإِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ مَا تُوَافِقُونَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” غلاموں کو مارو نہیں ! کیونکہ تم نہیں جانتے کہ کیا موافق ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عکرمہ بن خالد بن سلمہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عکرمہ بن خالد بن سلمہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كَانَتْ جَارِيَةٌ تَرْعَى غَنَمًا لِي ، فَأَكَلَ الذِّئْبُ شَاةً فَضَرَبْتُ وَجْهَ الْجَارِيَةِ فَنَدِمْتُ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ أَعْلَمُ أَنَّهَا مُؤْمِنَةٌ لَأَعْتَقْتُهَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِلْجَارِيَةِ : " مَنْ أَنَا ؟ " . قَالَتْ : أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ . قَالَ : " فَمَنِ اللَّهُ ؟ " . قَالَتْ : الَّذِي فِي السَّمَاءِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَعْتِقْهَا ، فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک کنیز میری بکریاں چرا رہی تھی ، بھیڑیے نے ایک بکری کو کھا لیا ، میں نے کنیز کے چہرے پر تھپڑ مار دیا ، پھر مجھے ندامت ہوئی ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اور میں نے عرض کی : اگر مجھے یہ پتہ چل جائے کہ یہ مومن عورت ہے ، تو میں اسے آزاد کر دوں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کنیز سے دریافت کیا : میں کون ہوں ؟ اس نے عرض کی : آپ اللہ کے رسول ہیں ، آپ نے دریافت کیا : اللہ تعالیٰ کون ہے ؟ اس نے عرض کی : وہ جو آسمان میں ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم سے آزاد کر دو ! یہ مومن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن شبیب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن شبیب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ مَثَّلَ بِعَبْدِهِ أَوْ حَرَّقَهُ بِالنَّارِ فَهُوَ حُرٌّ ، وَهُوَ مَوْلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ " . ¤ قَالَ : فَأَتَى رَجُلٌ قَدْ خُصِيَ يُقَالُ لَهُ : سِنْدَرٌ، فَأَعْتَقَهُ . ثُمَّ أَتَى أَبَا بَكْرٍ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَنَعَ إِلَيْهِ خَيْرًا . ثُمَّ أَتَى عُمَرَ بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ فَصَنَعَ إِلَيْهِ خَيْرًا . ثُمَّ إِنَّهُ أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ إِلَى مِصْرَ فَكَتَبَ لَهُ عُمَرُ إِلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنِ اصْنَعْ إِلَيْهِ خَيْرًا وَاحْفَظْ فِيهِ وَصِيَّةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَلَكِنَّهُ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص غلام کا مثلہ کرے ، یا اُسے آگ میں جلا دے ، تو وہ غلام آزاد شمار ہو گا ، اور وہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے آزاد کردہ شمار ہو گا “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : شاید اسے خصی کر دیا گیا تھا ، اس کا نام ” سندر “ تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے آزاد کر دیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کے ساتھ اچھائی کی ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے ساتھ اچھائی کی ، پھر اس نے مصر کی طرف جانے کا ارادہ کیا ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ اس کے ساتھ اچھائی کرنا اور اس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلقین کی حفاظت کرنا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ، لیکن وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ، لیکن وہ ثقہ ہے ۔
وَعَنْ سِنْدَرٍ أَنَّهُ كَانَ عِنْدَ الزِّنْبَاعِ بْنِ سَلَامَةَ ، وَأَنَّهُ عَتَبَ عَلَيْهِ فَخَصَاهُ، وَجَدَعَهُ . فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ فَأَغْلَظَ لِزِنْبَاعٍ الْقَوْلَ وَأَعْتَقَهُ مِنْهُ . فَقَالَ : أَوْصِ بِي . فَقَالَ : " أُوصِي بِكَ كُلَّ مُسْلِمٍ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سِنْدَرٍ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سندر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ زنباع بن سلامہ کے غلام تھے ، اس نے ان پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں خصی کر دیا اور ان کا ناک اور کان کاٹ دیے ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زنباع پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا اور انہیں اس کی طرف سے آزاد کر دیا ، سندر نے عرض کی : آپ میرے بارے میں تلقین کر دیجئے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں ہر مسلمان کو تمہارے بارے میں تلقین کرتا ہوں ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سندر ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سندر ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔