مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العتق— غلام آزاد کرنے کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ ضَرَبَ مَمْلُوكَهُ أَوْ مَثَّلَ بِهِ . باب: اس شخص کا بیان ، جو اپنے غلام کو مارتا ہے یا اس کا مثلہ کر دیتا ہے
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كَانَتْ جَارِيَةٌ تَرْعَى غَنَمًا لِي ، فَأَكَلَ الذِّئْبُ شَاةً فَضَرَبْتُ وَجْهَ الْجَارِيَةِ فَنَدِمْتُ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ أَعْلَمُ أَنَّهَا مُؤْمِنَةٌ لَأَعْتَقْتُهَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِلْجَارِيَةِ : " مَنْ أَنَا ؟ " . قَالَتْ : أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ . قَالَ : " فَمَنِ اللَّهُ ؟ " . قَالَتْ : الَّذِي فِي السَّمَاءِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَعْتِقْهَا ، فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک کنیز میری بکریاں چرا رہی تھی ، بھیڑیے نے ایک بکری کو کھا لیا ، میں نے کنیز کے چہرے پر تھپڑ مار دیا ، پھر مجھے ندامت ہوئی ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اور میں نے عرض کی : اگر مجھے یہ پتہ چل جائے کہ یہ مومن عورت ہے ، تو میں اسے آزاد کر دوں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کنیز سے دریافت کیا : میں کون ہوں ؟ اس نے عرض کی : آپ اللہ کے رسول ہیں ، آپ نے دریافت کیا : اللہ تعالیٰ کون ہے ؟ اس نے عرض کی : وہ جو آسمان میں ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم سے آزاد کر دو ! یہ مومن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن شبیب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔