کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: غلاموں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ، اور ان کے بارے میں بھلائی کی تلقین
حدیث نمبر: 7211
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا ابْتَاعَ أَحَدُكُمُ الْجَارِيَةَ فَلْيَكُنْ أَوَّلَ مَا يُطْعِمُهَا الْحَلْوَاءُ، فَإِنَّهَا أَطْيَبُ لِنَفْسِهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ أَقَلُّ دَرَجَاتِهِ الْحَسَنُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی ایک شخص کوئی کنیز خریدے ، تو اسے سب سے پہلے میٹھی چیز کھلائے ، کیونکہ یہ اس کے لئے زیادہ پاکیزہ ہو گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند کا کم از کم درجہ حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العتق / حدیث: 7211
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 7212
وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ جَارِيَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ : " أَرِقَّاءَكُمْ أَرِقَّاءَكُمْ أَرِقَّاءَكُمْ أَطْعِمُوهُمْ مِمَّا تَأْكُلُونَ وَاكْسُوهُمْ مِمَّا تَلْبَسُونَ ، فَإِنْ جَاءُوا بِذَنْبٍ لَا تُرِيدُونَ أَنْ تَغْفِرُوهُ فَبِيعُوا عِبَادَ اللَّهِ ، وَلَا تُعَذِّبُوهُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا یزید بن جاریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حجتہ الوداع کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اپنے زیر ملکیت لوگوں کا خیال رکھنا ، اپنے زیر ملکیت لوگوں کا خیال رکھنا ، اپنے زیر ملکیت لوگوں کا خیال رکھنا ، تم انہیں اس چیز میں سے کھلانا جو تم کھاتے ہو اور اس میں سے پہنانا ، جو تم پہنتے ہو ، اگر وہ کسی گناہ کا ارتکاب کریں ، جسے تم معاف نہ کر سکتے ہو ، تو اللہ کے بندوں کو فروخت کر دینا ، انہیں عذاب نہ دینا “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن عبیداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العتق / حدیث: 7212
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (243/22) اخرجه احمد فى المسند (36/4)»
حدیث نمبر: 7213
وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ سَيِّئُ الْمَلَكَةِ " . فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَيْسَ أَخْبَرْتَنَا أَنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ أَكْثَرُ الْأُمَمِ مَمْلُوكِينَ وَأَيْتَامًا ؟ قَالَ : " بَلَى فَأَكْرِمُوهُمْ كَرَامَةَ أَوْلَادِكُمْ وَأَطْعِمُوهُمْ مِمَّا تَأْكُلُونَ " . قَالُوا : فَمَا تَنْفَعُنَا الدُّنْيَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " فَرَسٌ تَرْتَبِطُهُ تُقَاتِلُ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَمَمْلُوكٌ يَكْفِيكَ فَإِذَا صَلَّى فَهُوَ أَخُوكَ فَإِذَا صَلَّى فَهُوَ أَخُوكَ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى التِّرْمِذِيُّ ، وَغَيْرُهُ طَرَفًا مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ فَرْقَدٌ السَّبَخِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ایسا شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا ، جو غلاموں کے ساتھ اچھا سلوک نہ کرتا ہو ، ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے ہمیں یہ بات نہیں بتائی ہے کہ اس امت میں سب امتوں سے زیادہ غلام اور یتیم ہوں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! تم ان کی اس طرح عزت افزائی کرنا ، جس طرح اپنی اولاد کی کرتے ہو ، اور انہیں اس چیز میں سے کھلانا جو تم کھاتے ہو ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! دنیا میں سے ہمارے لئے کیا چیز فائدہ مند ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ گھوڑا جسے تم باندھ کے رکھو ، اس پر سوار ہو کر اللہ کی راہ میں جنگ میں حصہ لو ، اور وہ غلام جو تمہارے کام کاج کر دے ، جب وہ نماز ادا کرے ، تو پھر وہ تمہارا بھائی ہو گا ، جب وہ نماز ادا کرے ، تو پھر وہ تمہارا بھائی ہو گا “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی اور دیگر حضرات نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فرقد سبخی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العتق / حدیث: 7213
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (94) اخرجه احمد فى المسند (12/1)»
حدیث نمبر: 7214
وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِخْوَانُكُمْ فَأَصْلِحُوا إِلَيْهِمْ وَاسْتَعِينُوهُمْ عَلَى مَا غُلِبُوا ، وَأَعِينُوهُمْ عَلَى مَا غَلَبَهُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ( یہ غلام ) تمہارے بھائی ہیں ، تم ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو ، اور جو کام یہ کر سکتے ہوں ، اس کے حوالے سے اُن سے مدد طلب کرو ، اور جو چیز ان پر غالب آ رہی ہو ، اس کے بارے میں ان کی مدد کرو “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العتق / حدیث: 7214
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (920) اخرجه احمد فى المسند (371/5)»
حدیث نمبر: 7215
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْعَبِيدِ : " إِنْ أَحْسَنُوا فَاقْبَلُوا ، وَإِنْ أَسَاءُوا فَاعْفُوا ، وَإِنْ غَلَبُوكُمْ فَبِيعُوا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غلاموں کے بارے میں فرمایا : ” اگر وہ اچھائی کریں ، تو تم اس کو قبول کرو ، اور اگر وہ برائی کریں ، تو تم درگزر کرو ، اور اگر وہ تمہارے ق ابومیں نہیں آتے ، تو تم انہیں فروخت کر دو “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العتق / حدیث: 7215
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1391)»
حدیث نمبر: 7216
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لِلْمَمْلُوكِ عَلَى سَيِّدِهِ ثَلَاثُ خِصَالٍ : لَا يُعَجِّلُهُ عَنْ صَلَاتِهِ ، وَلَا يُقِيمُهُ عَنْ طَعَامِهِ ، وَيُشْبِعُهُ كُلَّ الْإِشْبَاعِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” غلام کے اپنے آقا پر تین حق ہیں ، یہ کہ اس کی نماز کے حوالے سے اس سے جلدی نہ کروائے ، اور اسے اس کے کھانے سے نہ اٹھائے ، اور اسے اچھی طرح سے سیر کروائے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العتق / حدیث: 7216
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (1123)»
حدیث نمبر: 7217
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : عَهْدِي بِنَبِيِّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَبْلَ وَفَاتِهِ بِخَمْسِ لَيَالٍ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ إِلَّا وَلَهُ خَلِيلٌ مِنْ أُمَّتِهِ ، وَإِنَّ خَلِيلِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي قُحَافَةَ، وَإِنَّ اللَّهَ اتَّخَذَ صَاحِبَكُمْ خَلِيلًا . أَلَا وَإِنَّ الْأُمَمَ قَبْلَكُمْ كَانُوا يَتَّخِذُونَ قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ ، وَإِنِّي أَنْهَاكُمْ عَنْ ذَلِكَ . اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ ؟ " ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ اشْهَدْ " ثَلَاثَ مَرَّاتٍ . وَأُغْمِيَ عَلَيْهِ هُنَيْهَةً ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهَ اللَّهَ فِيمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ أَشْبِعُوا بُطُونَهُمْ وَاكْسُوا ظُهُورَهُمْ وَأَلِينُوا الْقَوْلَ لَهُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ، وَعَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ وَهُمَا ضَعِيفَانِ ، وَقَدْ وُثِّقَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال سے پانچ دن پہلے ، آپ سے میری آخری ملاقات ہوئی تھی ، میں نے آپ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” ہر نبی کا اُس کی امت میں سے کوئی نہ کوئی خلیل ہوتا ہے ، اور میرا خلیل ’ ابوبکر بن ابوقحافہ ہے ، لیکن اللہ تعالیٰ نے تمہارے آقا کو خلیل بنا لیا ہے ، خبردار ! تم سے پہلے کی امتوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا تھا ، میں تمہیں اس سے منع کرتا ہوں ، اے اللہ ! کیا میں نے تبلیغ کر دی ہے ؟ یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، پھر آپ نے فرمایا : اے اللہ ! تو گواہ ہو جا ! یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، پھر تھوڑی دیر کے لئے آپ پر بے ہوشی طاری ہوئی ، پھر آپ نے فرمایا : اپنے زیر ملکیت لوگوں کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا ، اللہ سے ڈرتے رہنا ، تم ان کے پیٹوں کو سیر رکھنا اور ان کی جسموں کو ڈھانپ کے رکھنا اور ان کے ساتھ نرمی سے بات کرنا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن زحر ہے اور علی بن یزید ہے ، یہ دونوں ضعیف ہیں ویسے ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العتق / حدیث: 7217
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (41/19)»
حدیث نمبر: 7218
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : كَانَ عَامَّةُ وَصِيَّةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الصَّلَاةَ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ " . حَتَّى جَعَلَ يُغَرْغِرُ بِهَا صَدْرَهُ وَمَا يَقْبِضُ بِهَا لِسَانَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ أَبُو الْوَلِيدِ الْوَصَافِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت زیادہ تر یہ تھی : ” نماز اور اپنے زیر ملکیت لوگوں کا خیال رکھنا “ ۔ یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نزع کا عالم طاری ہو گیا اور آپ کی زبان نے کلام کرنا چھوڑ دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن ولید وصافی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العتق / حدیث: 7218
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 7219
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي ابْتَعْتُ عَبْدًا فَمَا أَصْنَعُ بِهِ ؟ قَالَ : " أَخُوكَ فِي الْإِسْلَامِ أَطْعِمْهُ مِمَّا تَأْكُلُ وَأَلْبِسْهُ مِمَّا تَلْبَسُ فَإِذَا كَرِهْتَهُ فَبِعْهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَرَّاقُ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے ایک غلام خریدا ہے ، میں اس کے ساتھ کیا کروں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ اسلام میں تمہارا بھائی ہے ، اور تم اسے اس چیز میں سے کھلاؤ ، جو تم کھاتے ہو اور اس چیز میں سے پہناؤ ، جو تم پہنتے ہو اور اگر تم اسے ناپسند کرو ، تو اسے فروخت کر دینا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سعید بن محمد وراق ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العتق / حدیث: 7219
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 7220
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : كَلَّمَ طَلْحَةُ عَامِرَ بْنَ فُهَيْرَةَ بِشَيْءٍ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَهْلًا يَا طَلْحَةُ ، فَإِنَّهُ شَهِدَ بَدْرًا كَمَا شَهِدْتَهُ وَخَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِمَوَالِيهِمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ ، وَفِيهِ مُصْعَبُ بْنُ مُصْعَبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے عامر بن فہیرہ کو ( کوئی سخت بات ) کہی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : اسے طلحہ ! رک جاؤ ! یہ بدر میں شریک ہوا ہے ، جس طرح تم اس میں شریک ہوئے ہو اور تم میں سب سے بہتر لوگ وہ ہیں جو اپنے غلاموں کے حق میں زیادہ بہتر ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مصعب بن مصعب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العتق / حدیث: 7220
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (1121)»
حدیث نمبر: 7221
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَقْبَلَ مِنْ خَيْبَرَ وَمَعَهُ غُلَامَانِ فَقَالَ عَلِيٌّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْدِمْنَا قَالَ : " خُذْ أَيَّهُمَا شِئْتَ " قَالَ : خِرْ لِي . قَالَ : " خُذْ هَذَا ، وَلَا تَضْرِبْهُ ، فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُهُ يُصَلِّي مَقْفَلَنَا مِنْ خَيْبَرَ ، وَإِنِّي قَدْ نُهِيتُ عَنْ ضَرْبِ أَهْلِ الصَّلَاةِ " . ¤ وَأَعْطَى أَبَا ذَرٍّ غُلَامًا، وَقَالَ : " اسْتَوْصِ بِهِ مَعْرُوفًا " . فَأَعْتَقَهُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا فَعَلَ الْغُلَامُ ؟ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَرْتَنِي أَنِ اسْتَوْصِيَ بِهِ مَعْرُوفًا فَأَعْتَقْتُهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خیبر تشریف لائے ، آپ کے ساتھ دو غلام تھے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمیں ایک خدمت گار دے دیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ان دونوں میں سے جسے چاہو حاصل کر لو ، انہوں نے عرض کی : آپ میرے لئے کوئی منتخب کر دیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم یہ لے لو ! تم نے اسے مارنا نہیں ہے ، کیونکہ میں نے اسے خیبر سے واپسی پر نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے اور مجھے نمازیوں کو مارنے سے منع کیا گیا ہے ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک غلام سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو دے دیا اور فرمایا : اس کے بارے میں بھلائی کی تلقین کو قبول کرو تو سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے اُسے آزاد کر دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے دریافت کیا : غلام کا کیا حال ہے ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے مجھے حکم دیا تھا کہ میں اس کے بارے میں بھلائی کی تلقین کو قبول کروں ، تو میں نے اسے آزاد کر دیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العتق / حدیث: 7221
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ الألباني: وهذا إسناد حسن [سلسله احاديث صحيحه/الحدود والمعاملات والاحكام/حدیث: 1324]
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (258/5)»
حدیث نمبر: 7222
قَالَ فِي رِوَايَةٍ : إِنَّ عَلِيًّا قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ادْفَعْ إِلَيَّ خَادِمًا . قَالَ لَهُ : " فِي الْبَيْتِ ثَلَاثَةٌ اخْتَرْ وَاحِدًا " . فَذَكَرَهُ بِاخْتِصَارٍ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں ۔ انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی : آپ ایک خادم مجھے دے دیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : گھر میں تین ہیں ، تم ان میں سے کسی ایک کو اختیار کر لو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے اختصار کے ساتھ حدیث نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العتق / حدیث: 7222
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8100)»
حدیث نمبر: 7223
قَالَ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى : إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَعْطَى أَبَا ذَرٍّ فَتًى فَقَالَ : " أَطْعِمْهُ مِمَّا تَأْكُلُ وَاكْسُهُ مِمَّا تَلْبَسُ " . وَكَانَ لِأَبِي ذَرٍّ ثَوْبٌ فَشَقَّهُ فَاتَّزَرَ نِصْفَهُ وَأَعْطَى الْغُلَامَ نَصِفَهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا لِي أَرَى ثَوْبَكَ هَكَذَا ؟ " قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ قُلْتَ : " أَطْعِمُوهُمْ مِمَّا تَأْكُلُونَ وَأَلْبِسُوهُمْ مِمَّا تَلْبَسُونَ " . قَالَ : " نَعَمْ " . قُلْتُ : أَعْتَقْتُهُ . قَالَ : " أَجَرَكَ اللَّهُ يَا أَبَا ذَرٍّ " . ¤ وَمَدَارُ الْحَدِيثِ عَلَى أَبِي غَالِبٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَقَدْ ضُعِّفَ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں ۔ انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو ایک نوجوان دیا اور فرمایا : اسے اُس چیز میں سے کھلانا جس کو تم کھاتے ہو ، اور اس میں سے پہنانا جو تم پہنتے ہو ، سیدنا ابوذر غفاری کا ایک کپڑا تھا ، انہوں نے اسے چیرا اور اس کے نصف حصے کا تہبند بنا لیا اور نصف حصہ اس غلام کو دے دیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا وجہ ہے ؟ میں تمہارے کپڑے کو اس طرح دیکھ رہا ہوں ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے ارشاد فرمایا تھا کہ اسے اُس چیز میں سے کھلانا ، جو تم کھاتے ہو اور اسے اُس چیز میں سے پہنانا ، جو تم پہنتے ہو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! تو میں نے عرض کی : میں نے اس کو آزاد کر دیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ابوذر ! اللہ تعالیٰ تمہیں اجر دے گا ۔ اس روایت کا مدار ابوغالب پر ہے اور وہ ثقہ ہے ویسے اسے ضعیف قرار دیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العتق / حدیث: 7223
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8104)»
حدیث نمبر: 7224
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَعْطَى عَلِيًّا وَفَاطِمَةَ غُلَامًا وَقَالَ : " أَحْسِنَا إِلَيْهِ ، فَإِنِّي رَأَيْتُهُ يُصَلِّي " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ایک غلام دیا اور فرمایا : اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ، کیونکہ میں نے اسے نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العتق / حدیث: 7224
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (3383)»
حدیث نمبر: 7225
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَطْعِمُوهُمْ مِمَّا تَأْكُلُونَ وَاكْسُوهُمْ مِمَّا تَلْبَسُونَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ كَوْثَرُ بْنُ حَكِيمٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” انہیں اُس چیز میں سے کھلاؤ ، جو تم کھاتے ہو اور انہیں اس چیز میں سے پہناؤ ، جو تم پہنتے ہو“ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی کوثر بن حکیم ہے اور وہ ضعیف ہے -
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العتق / حدیث: 7225
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1392)»
حدیث نمبر: 7226
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا أَتَى أَحَدَكُمْ خَادِمُهُ بِطَعَامٍ فَلْيُدِنْهُ فَلْيُقْعِدْهُ عَلَيْهِ وَلْيُلْقِمْهُ ، فَإِنَّهُ وَلِيَ حَرَّهُ وَدُخَانَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ الْهَجَرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالله بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب تم میں سے کسی ایک کے پاس اس کا خادم کھانا لے کر آئے ، تو اسے اپنے خادم کو قریب کر کے اپنے ساتھ ( دستر خوان پر ) بٹھانا چاہیے اور اسے لقمہ دینا چاہیے ، کیونکہ اس نے اس ( کو پکانے کی ) کی تپش اور دھویں کو برداشت کیا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم ہجری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العتق / حدیث: 7226
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (1/446)»
حدیث نمبر: 7227
وَعَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرًا عَنْ خَادِمِ الرَّجُلِ إِذَا كَفَاهُ الْمَشَقَّةَ وَالْحَرَّ ؟ قَالَ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ نَدْعُوَهُ ، فَإِنْ كَرِهَ أَحَدُنَا أَنْ يَطْعَمَ مَعَهُ فَلْيُطْعِمْهُ فِي يَدِهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ بِنَحْوِهِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوزبیر بیان کرتے ہیں : انہوں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے آدمی کے خادم کے بارے میں دریافت کیا کہ جب وہ اس کی جگہ مشقت اور گرمی کی کفایت کرتا ہے ، تو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ حکم دیا تھا کہ ہم انہیں بلائیں ( اور اپنے ساتھ کھانا کھلائیں ) اور اگر ہم میں سے کوئی شخص اس بات کو ناپسند کرتا ہو کہ وہ اُس کے ساتھ کھانا کھائے ، تو اسے اس ( خادم ) کے ہاتھ میں کھانا دے دینا چاہیے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم صغیر میں اس کی مانند نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العتق / حدیث: 7227
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (37) اخرجه احمد فى المسند (346/3)»
حدیث نمبر: 7228
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا يَنْبَغِي لِلرَّجُلِ أَنْ يَلِيَ مَمْلُوكُهُ حَرَّ طَعَامِهِ وَبَرْدَهُ ، فَإِذَا حَضَرَ عَزَلَهُ عَنْهُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ حُسَيْنُ بْنُ قَيْسٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ مِحْصَنٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” آدمی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ غلام نے اُس کے کھانے کی تپش اور ٹھنڈک کو برداشت کیا ہو ، پھر جب کھانا آئے ، تو وہ اس غلام کو اس سے الگ کر دے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسین بن قیس ہے اور وہ متروک ہے ، ابن محصن نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العتق / حدیث: 7228
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (5658)»
حدیث نمبر: 7229
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا صَلِيَ مَمْلُوكُ أَحَدِكُمْ طَعَامًا فَوَلِيَ حَرَّهُ وَعَمَلَهُ فَقَرَّبَهُ إِلَيْهِ ، فَلْيَدْعُهُ فَلْيَأْكُلْ مَعَهُ ، وَإِنْ أَبَى فَلْيَصْنَعْ بِيَدِهِ مِمَّا يَصْنَعُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب تم میں سے کسی ایک کے غلام نے کھانا تیار کیا ہو ، اور اس کی تپش کو برداشت کیا ہو اور وہ تیار کر کے اس کے سامنے رکھا ہو ، تو آدمی کو اس غلام کو بلا کر اسے اپنے ساتھ کھلانا چاہیے ، اور اگر وہ ایسا نہیں کرتا ، تو پھر اس نے جو کھانا تیار کیا ہے ، اس میں سے کچھ اس کے ہاتھ میں رکھ دینا چاہیے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العتق / حدیث: 7229
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
حدیث نمبر: 7230
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ صَدَقَةٍ أَفْضَلَ مِنْ صَدَقَةٍ تُصُدِّقَ بِهَا عَلَى مَمْلُوكٍ عِنْدَ مَلِيكِ سُوءٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کوئی بھی صدقہ ، اس صدقہ سے زیادہ فضیلت نہیں رکھتا ، جو کسی ایسے غلام کو دیا جائے ، جو کسی برے مالک کے پاس ہو“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العتق / حدیث: 7230
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدا
حدیث نمبر: 7231
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : إِنَّ خَادِمِي يُسِيءُ وَيَظْلِمُ أَفَأَضْرِبُهُ ؟ قَالَ : " تَعْفُو عَنْهُ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعِينَ مَرَّةً " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرا خادم برائی کرتا ہے اور زیادتی کرتا ہے ، تو کیا میں اس کی پٹائی کر دوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم روزانہ ستر مرتبہ اس سے درگزر کیا کرو ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العتق / حدیث: 7231
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (5760) اخرجه احمد فى المسند (90/2)»