مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العتق— غلام آزاد کرنے کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ ضَرَبَ مَمْلُوكَهُ أَوْ مَثَّلَ بِهِ . باب: اس شخص کا بیان ، جو اپنے غلام کو مارتا ہے یا اس کا مثلہ کر دیتا ہے
وَعَنْ سِنْدَرٍ أَنَّهُ كَانَ عِنْدَ الزِّنْبَاعِ بْنِ سَلَامَةَ ، وَأَنَّهُ عَتَبَ عَلَيْهِ فَخَصَاهُ، وَجَدَعَهُ . فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ فَأَغْلَظَ لِزِنْبَاعٍ الْقَوْلَ وَأَعْتَقَهُ مِنْهُ . فَقَالَ : أَوْصِ بِي . فَقَالَ : " أُوصِي بِكَ كُلَّ مُسْلِمٍ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سِنْدَرٍ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا سندر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ زنباع بن سلامہ کے غلام تھے ، اس نے ان پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں خصی کر دیا اور ان کا ناک اور کان کاٹ دیے ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زنباع پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا اور انہیں اس کی طرف سے آزاد کر دیا ، سندر نے عرض کی : آپ میرے بارے میں تلقین کر دیجئے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں ہر مسلمان کو تمہارے بارے میں تلقین کرتا ہوں ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سندر ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔