کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ایک مذہب کے لوگ ، دوسرے مذہب کے وارث نہیں بنیں گے
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَرِثُ مِلَّةٌ مِلَّةً " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ رَاشِدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ الْجُمْهُورِ، وَوَثَّقَهُ الْعِجْلِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ایک ملت ، دوسری ملت کی وارث نہیں بنتی ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن راشد ہے اور جمہور کے نزدیک یہ ضعیف ہے ، عجلی نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفرائض / حدیث: 7147
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : وَقَعَ مَوْلًى لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ نَخْلَةٍ فَمَاتَ فَأَعْطَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِيرَاثَهُ أَهْلَ دِينِهِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک غلام کھجور سے گر کے مر گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی وراثت اُس کے دین سے متعلق افراد کو دی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسن بن عمارہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفرائض / حدیث: 7148
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
وَعَنِ الْحَسَنِ عَنْ جَابِرٍ، قِيلَ لَهُ : ذَكَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : " لَا نَرِثُ أَهْلَ الْكِتَابِ ، وَلَا يَرِثُونَنَا إِلَّا أَنْ يَرِثَ الرَّجُلُ عَبْدَهُ أَوْ أَمَتَهُ وَنَنْكِحُ نِسَاءَهُمْ ، وَلَا يَنْكِحُونَ نِسَاءَنَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
حسن نے ، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات ذکر کی ہے : ان سے دریافت کیا گیا : کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ چیز ذکر کی ہے ۔ انہوں نے فرمایا : جی ہاں ! آپ نے یہ فرمایا ہے : ہم اہل کتاب کے وارث نہیں بنیں گے اور وہ ہمارے وارث نہیں بنیں گے ، البتہ کوئی شخص اپنے ( اہل کتاب ) غلام یا کنیز کا وارث بن سکتا ہے ، ہم ان کی عورتوں سے نکاح کر لیں گے ، لیکن وہ ہماری عورتوں کے ساتھ نکاح نہیں کر سکتے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفرائض / حدیث: 7149
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : وَرِثَ أَبَا طَالِبٍ عَقِيلٌ وَطَالِبٌ ، وَلَمْ يَرِثْهُ عَلِيٌّ . قَالَ عَلِيٌّ : فَمِنْ أَجْلِ ذَلِكَ تَرَكْنَا نَصِيبَنَا مِنَ الشِّعْبِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ اللَّالِيُّ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جناب عقیل اور جناب طالب ، جناب ابوطالب کے وارث بنے تھے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان کے وارث نہیں بنے تھے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اسی وجہ سے ہم نے ” شعب ابی طالب “ میں سے اپنے حصے کو ترک کر دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن حسین لالی ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفرائض / حدیث: 7150
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف