کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان ، جو اپنے اوپر کوئی چیز حرام قرار دے دیتا ہے
حدیث نمبر: 6974
عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ : أَتَى عَبْدُ اللَّهِ بِضَرْعٍ فَأَخَذَ يَأْكُلُ مِنْهُ ، فَقَالَ لِلْقَوْمِ : ادْنُوا . فَدَنَا الْقَوْمُ وَتَنَحَّى رَجُلٌ مِنْهُمْ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : مَا شَأْنُكَ ؟ قَالَ : إِنِّي حَرَّمْتُ الضَّرْعَ . قَالَ : هَذَا مِنْ خَطَرَاتِ الشَّيْطَانِ ؛ ادْنُ وَكُلْ وَكَفِّرْ يَمِينَكَ . ثُمَّ تَلَا : ( يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكُمْ ) . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
مسروق بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ ضرع ( شاید اس سے مراد ہنڈیا ہے ) کے پاس آئے اور اس میں سے کھانے لگے آپ نے حاضرین سے کہا: تم لوگ آگے آ جاؤ ، تو لوگ آگے ہو گئے ایک شخص ان میں سے پیچھے ہٹ گیا ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تمہارا کیا معاملہ ہے ؟ اس نے جواب دیا : میں نے ہنڈیا کو حرام قرار دیا ہے ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ شیطان کا خیال ہے تم آگے آؤ اور کھاؤ اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو ، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی : ” اے ایمان والو ! تم ان پاکیزہ چیزوں کو حرام قرار نہ دو ، جو اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دی ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 6975
وَعَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ قَالَ : كَانَ بَيْنَ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللَّهِ ، وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ كَلَامٌ فَقَالَتْ : مَا أُدْمُكَ وَأُدْمُ عِيَالِكَ إِلَّا مِنْ لَبَنِ شَاتِي . فَأَقْسَمَ أَنْ لَا يَأْكُلَ مِنْ لَبَنِهَا شَيْئًا . فَضَافَهُمْ ضَيْفٌ فَأَدَمَتْ لَهُمْ بِلَبَنِ شَاتِهَا ، فَقَالَ الرَّجُلُ : لَقَدْ عَلِمْتِ أَنِّي لَا آكُلُهُ . فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ : وَاللَّهِ لَئِنْ لَمْ تَأْكُلْهُ لَا آكُلُهُ . فَقَالَ الضَّيْفُ : وَاللَّهِ لَئِنْ لَمْ تَأْكُلَا لَا آكُلُهُ . فَبَاتَا بِغَيْرِ عَشَاءٍ . فَنَمَى الْحَدِيثُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ ، فَجَاءَ الرَّجُلُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ : مَا الَّذِي حَالَ بَيْنَكَ وَبَيْنَ أَهْلِكَ ؟ قَالَ : أَمَا إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ طَلَاقٌ ، وَلَا ظِهَارٌ ، وَلَا إِيلَاءٌ ، ثُمَّ قَصَّ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ . فَقَالَ [ لَهُ ] عَبْدُ اللَّهِ : أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ إِذَا رَجَعْتَ [ إِلَى أَهْلِكَ ] أَنْ يَكُونَ أَوَّلَ مَا تَصْنَعُ أَنْ تَأْكُلَ مِنْ لَبَنِ هَذِهِ الشَّاةِ ، وَقَدْ أَرَى أَنْ تُطَيِّبَ لِنَفْسِكَ أَنْ تُكَفِّرَ عَنْ يَمِينِكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، وَقَدِ اخْتَلَطَ ، وَلَكِنَّهُ ثِقَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابوبختری بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے اصحاب میں سے ایک شخص اور اس کی بیوی کے درمیان تلخ کلامی ہو گئی ، اس عورت نے کہا: تمہارا اور تمہارے بال بچوں کا سالن صرف میری بکری کے دودھ سے بنے گا ، اس شخص نے یہ قسم اٹھا لی ، کہ وہ اس بکری کے دودھ میں سے کچھ بھی نہیں کھائے گا ، پھر ان لوگوں کے ہاں مہمان آیا اس عورت نے ( اپنی قسم کے مطابق ) ان لوگوں کے لئے اپنی بکری کے دودھ سے سالن تیار کیا ، اس شخص نے کہا: تم یہ بات جانتی ہو کہ میں اسے نہیں کھاؤں گا اس عورت نے کہا: اللہ کی قسم اگر تم اسے نہیں کھاؤ گے ، تو میں بھی اس کو نہیں کھاؤں گی ، مہمان نے کہا: اللہ کی قسم اگر تم دونوں اسے نہیں کھاؤ گے تو میں بھی نہیں کھاؤں گا ، ان دونوں نے رات کا کھانا کھائے بغیر رات بسر کر دی ، اگلے دن سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو اس بارے میں بتایا گیا ، وہ شخص سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : وہ کیا چیز ہے ؟ جو تمہارے اور تمہاری بیوی کے درمیان رکاوٹ بن گئی ہے ، اس نے کہا: وہ چیز نہ تو طلاق ہے اور نہ ہی ظہار ہے ، نہ ایلاء ہے ، پھر اس نے پورا واقعہ سنایا ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ جب تم اپنی بیوی کے پاس واپس جاؤ ، تو سب سے پہلا کام یہ کرو اس بکری کے دودھ سے بنا ہوا سالن کھاؤ ، میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر تمہاری تسلی نہیں ہوتی ہے ، تم کفارہ دے دینا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، لیکن وہ ثقہ ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، لیکن وہ ثقہ ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔