حدیث نمبر: 6971
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ وَأُمُّهُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، وَهُوَ يُرِيدُ الْجِهَادَ وَأُمُّهُ تَمْنَعُهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " عِنْدَ أُمِّكَ قِرَّ ، فَإِنَّ لَكَ مِنَ الْأَجْرِ عِنْدَهَا مِثْلَ مَا لَكَ فِي الْجِهَادِ " . ¤ وَجَاءَ آخَرُ ، فَقَالَ : إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ نَفْسِي فَشُغِلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَهَبَ الرَّجُلُ [ وَأُمُّهُ ] فَوُجِدَ [ يُرِيدُ أَنْ ] يَنْحَرُ نَفْسَهُ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي أُمَّتِي مَنْ يُوفِي بِالنَّذْرِ وَيَخَافُ يَوْمًا كَانَ شَرُّهُ مُسْتَطِيرًا . هَلْ لَكَ مَالٌ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : " أَهْدِ مِائَةَ نَاقَةٍ وَاجْعَلْهَا فِي ثَلَاثِ سِنِينَ ، فَإِنَّكَ لَا تَجِدُ مَنْ يَأْخُذُهَا مِنْكَ مَعًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ كُرَيْبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا جِدًّا . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص اور اس کی ماں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، وہ شخص جہاد کے لئے جانا چاہ رہا تھا اور اس کی ماں اسے روک رہی تھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اپنی ماں کے پاس ٹھہرے رہو ، کیونکہ تمہیں ماں کے پاس رہ کر اتنا ہی اجر ملے گا ، جتنا اجر تمہیں جہاد میں حصہ لے کر ملے گا ۔ پھر ایک اور شخص آیا اور اس نے کہا: میں نے یہ نذر مانی ہے کہ میں اپنے آپ کو قربان کر دوں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ دوسری طرف تھی ، وہ شخص اور اس کی ماں چلے گئے ، اس شخص کو یہ محسوس ہوا کہ شاید نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ اسے اپنے آپ کو قربان کر دینا چاہیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، جس نے میری امت میں ایسے لوگ پیدا کیے ہیں ، جو نذر کو پورا کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں ، جس کا ” شر “ ( یعنی سختی اور پریشانی ) پھیلا ہوا ہو گا ، کیا تمہارے پاس مال ہے ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم ایک سو اونٹنیاں قربانی کے لئے لے کے جاؤ ، اور تین سالوں میں ایسا کرنا ، کیونکہ ایک سال میں تو تمہیں لینے والا کوئی ملے گا نہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن کریب ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6971
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12163)»