حدیث نمبر: 6563
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَشْتَرِي الذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ ، [ أَوِ ]الْفِضَّةَ بِالذَّهَبِ ؟ قَالَ : " إِذَا اشْتَرَيْتَ وَاحِدًا مِنْهُمَا بِالْآخَرِ فَلَا يُفَارِقْكَ صَاحِبُكَ ، وَبَيْنَكَ وَبَيْنَهُ لَبْسٌ " . ¤ قُلْتُ : لِابْنِ عُمَرَ فِي السُّنَنِ أَنَّهُ كَانَ يَبِيعُ الْإِبِلَ بِالْفِضَّةِ ، وَيَقْبِضُ الْفِضَّةَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا : کیا میں چاندی کے عوض میں سونے کو خرید سکتا ہوں یا سونے کے عوض میں چاندی کو خرید سکتا ہوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم ان دونوں میں سے کسی ایک کو دوسرے کے عوض میں خریدو ، تو تمہارا ساتھی جب تم سے جدا ہو تو تمہارے اور اس کے درمیان کوئی التباس نہیں ہونا چاہیے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث سنن میں مذکور ہے کہ وہ چاندی کے عوض میں اونٹ فروخت کر دیتے تھے اور چاندی قبضے میں لے لیتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6563
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (5628)»