مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّرْفِ . باب: ’’ صرف “ کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 6560
وَعَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ : كَانَ النَّاسُ يَشْتَرُونَ الذَّهَبَ بِالْوَرِقَ نَسِيئَةً إِلَى الْعَطَاءِ فَأَتَى عَلَيْهِمْ هِشَامُ بْنُ عَامِرٍ ، فَنَهَاهُمْ ، وَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى أَنْ نَبِيعَ الذَّهَبَ بِالْوَرِقِ نَسِيئَةً ، وَأَنْبَأَنَا أَوْ أَخْبَرَنَا : " أَنَّ ذَلِكَ هُوَ الرِّبَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
ابوقلابہ بیان کرتے ہیں : پہلے لوگ چاندی کے عوض میں سونا خرید لیا کرتے تھے ، جو اس وقت تک ادھار ہوتا تھا ، جب انہیں تنخواہ ملتی تھی ، ہشام بن عامر ان لوگوں کے پاس آئے اور انہوں نے ان لوگوں کو ایسا کرنے سے منع کر دیا اور یہ بات بیان کی : کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات سے منع کیا ہے کہ ہم چاندی کو سونے کے عوض میں ادھار فروخت کریں ، انہوں نے ہمیں یہ بات بھی بتائی کہ یہ چیز سود ہوتی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔