کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: سود کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 6571
عَنْ أَبِي حُرَّةَ الرَّقَاشِيِّ [ عَنْ عَمِّهِ ] قَالَ : كُنْتُ آخِذًا بِزِمَامِ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي أَوْسَطِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ ، فَقَالَ فِيمَا يَقُولُ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ كُلَّ رِبًا مَوْضُوعٌ ، إِنَّ أَوَّلَ رِبًا يُوضَعُ رِبَا الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، لَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَأَبُو حُرَّةَ وَثَّقَهُ أَبُو دَاوُدَ ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ . ¤
محمد محی الدین
ابوحرہ رقاشی ، اپنے چچا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نے حجتہ الوداع کے موقع پر ایام تشریق کے درمیانی دن میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی لگام کو پکڑا ہوا تھا ، آپ نے جو بات ارشاد فرمائی ، اس میں یہ بات بھی تھی : آپ نے فرمایا : ” اے لوگو ! ہر سود کالعدم قرار دیا جاتا ہے ، اور وہ سب سے پہلا سود جسے کالعدم قرار دیا جاتا ہے وہ سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کا وصول کیا جانے والا سود ہے ، ( سودی معاملات میں ) تمہارے اصل اموال تمہیں مل جائیں گے ، نہ تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ابوحرہ نامی راوی کو امام ابوداؤد نے ثقہ قرار دیا ہے اور یحیی بن معین نے انہیں ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6571
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (1569) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3609) اخرجه احمد فى المسند (72/5 و73)»
حدیث نمبر: 6572
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الرِّبَا سَبْعُونَ بَابًا ، وَالشِّرْكُ مِثْلُ ذَلِكَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ : وَالشِّرْكُ مِثْلُ ذَلِكَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” سود کے ستر دروازے ہیں اور شرک بھی اس کی مانند ہے ( یعنی اُس کے بھی ستر دروازے ہیں ) “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے کہ ” شرک بھی اس کی مانند ہے “ ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6572
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 6573
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْظَلَةَ غَسِيلِ الْمَلَائِكَةِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " دِرْهَمُ رِبًا يَأْكُلُهُ الرَّجُلُ - وَهُوَ يَعْلَمُ - أَشَدُّ مِنْ سِتٍّ وَثَلَاثِينَ زَنْيَةً " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ ، جنہیں فرشتوں نے غسل دیا تھا ، وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سود کا ایک درہم ، جسے کوئی شخص جانتے بوجھتے ہوئے کھا لیتا ہے ، وہ چھتیس مرتبہ زنا کرنے سے زیادہ ( بڑا گناہ ) ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6573
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 6574
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الدِّرْهَمُ يُصِيبُهُ الرَّجُلُ مِنَ الرِّبَا أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ ثَلَاثٍ وَثَلَاثِينَ زَنْيَةً يَزْنِيهَا فِي الْإِسْلَامِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . وَعَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ ابْنِ سَلَامٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” وہ ایک درہم ، جسے آدمی سود کے حوالے سے حاصل کرتا ہے ، وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تینتیس مرتبہ زنا کرنے سے زیادہ بڑا ( گناہ ) ہے ، جو زنا اُس نے زمانہ اسلام میں کیے ہوں“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے عطاء خراسانی نے سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6574
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
حدیث نمبر: 6575
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الرِّبَا اثْنَانِ وَسَبْعُونَ بَابًا أَدْنَاهَا مِثْلُ إِتْيَانِ الرَّجُلِ أُمَّهُ . وَإِنَّ أَرْبَى الرِّبَا اسْتِطَالَةُ الرَّجُلِ فِي عِرْضِ أَخِيهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ رَاشِدٍ ؛ وَثَّقَهُ الْعِجْلِيُّ ، وَضَعَّفَهُ جُمْهُورُ الْأَئِمَّةِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سود کے بہتر دروازے ہیں ، جن میں سے سب سے کم تر یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی ماں کے ساتھ صحبت کر لے ، اور سب سے بڑا سود یہ ہے کہ آدمی اپنے بھائی کی عزت پر حملہ آور ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمر بن راشد ہے ، جسے عجلی نے ثقہ قرار دیا ہے اور جمہور ائمہ نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6575
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 6576
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَعَانَ ظَالِمًا بِبَاطِلٍ لِيَدْحَضَ بِهِ حَقًّا ، فَقَدْ بَرِئَ مِنْ ذِمَّةِ اللَّهِ ، وَذِمَّةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . وَمَنْ أَكَلَ دِرْهَمًا مِنْ رِبًا فَهُوَ مِثْلُ ثَلَاثٍ وَثَلَاثِينَ زَنْيَةً ، وَمَنْ نَبَتَ لَحْمُهُ مِنْ سُحْتٍ فَالنَّارُ أَوْلَى بِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ رَحْمَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص کسی ظالم کی ، باطل چیز کے حوالے سے مدد کرتا ہے ، تاکہ اس کے ذریعے حق کو پرے کر دے ، تو ایسا شخص اللہ کے ذمہ اور اللہ کے رسول کے ذمہ سے لاتعلق ہو جاتا ہے ، اور جو شخص سود کا ایک درہم کھاتا ہے ، تو یہ تینتیس مرتبہ زنا کرنے کی مانند ہے ، اور جس شخص کے گوشت کی نشوونما حرام پر ہوئی ہو ، تو آگ اُس کی زیادہ حق دار ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سعید بن رحمہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6576
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 6577
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي لَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ فَنَظَرْتُ فَوْقَ - قَالَ عَفَّانُ : فَوْقِيَ - فَإِذَا أَنَا بِرَعْدٍ ، وَبُرُوقٍ ، وَصَوَاعِقَ " . قَالَ : " فَأَتَيْتُ عَلَى قَوْمٍ بُطُونُهُمْ كَالْبُيُوتِ فِيهَا الْحَيَّاتُ تُرَى مِنْ خَارِجِ بُطُونِهِمْ ، قُلْتُ : يَا جِبْرِيلُ مَنْ هَؤُلَاءِ ؟ قَالَ : هَؤُلَاءِ أَكَلَةُ الرِّبَا " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ فِي عَجَائِبِ الْمَخْلُوقَاتِ ، وَقَدْ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَالْغَالِبُ عَلَيْهِ الضَّعْفُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس رات مجھے معراج کروائی گئی ، میں نے دیکھا کہ جب ہم ساتویں آسمان پر پہنچے ، تو میں نے اوپر دیکھا ( یہاں ایک راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : میں نے اپنے اوپر دیکھا ) تو وہاں کڑک تھی ، بجلی تھی ، چمکتی ہوئی بجلیاں تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : میں کچھ لوگوں کے پاس آیا ، جن کے پیٹ گھروں کی مانند تھے ، جن میں سانپ موجود تھے ، باہر سے اُن کے پیٹ دکھائی دے رہے تھے میں نے دریافت کیا : جبرائیل یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے بتایا : یہ سود کھانے والے ہیں “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام أحمد نے عجائب مخلوقات کے بارے ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے
یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اس پر ضعیف ہونا غالب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6577
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 6578
وَعَنْ كَعْبٍ - يَعْنِي الْأَحْبَارَ - قَالَ : لَأَنْ أَزْنِيَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ زَنْيَةً أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَكْلِ دِرْهَمٍ رِبًا يَعْلَمُ اللَّهُ أَنِّي أَكَلْتُهُ حِينَ أَكَلْتُهُ رِبًا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ الرَّاهِبِ ، عَنْ كَعْبِ الْأَحْبَارِ ، وَذَكَرَ الْحُسَيْنِيُّ أَنَّ حَنْظَلَةَ هَذَا غَسِيلُ الْمَلَائِكَةِ ، فَإِنْ كَانَ كَذَلِكَ ، فَقَدْ قُتِلَ بِأُحُدٍ ، فَكَيْفَ يَرْوِي عَنْ كَعْبٍ ؟ وَإِنْ كَانَ غَيْرُهُ فَلَمْ أَعْرِفْهُ . وَالظَّاهِرُ أَنَّهُ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَنْظَلَةَ ، وَسَقَطَ مِنَ الْأَصْلِ عَبْدُ اللَّهِ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَى حَنْظَلَةَ . ¤
محمد محی الدین
کعب احبار بیان کرتے ہیں : میں تینتیس مرتبہ زنا کر لوں ، یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہو گا کہ میں ایک درہم سود کا کھا لوں جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ یہ جانتا ہو کہ جب میں نے اسے کھایا ہے ، تو اسے سود کے طور پر کھایا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے حنظلہ بن راہب کے حوالے سے کعب احبار سے نقل کی ہے حسینی نے یہ بات ذکر کی ہے : حنظلہ نامی یہ صاحب وہی ہیں ، جنہیں فرشتوں نے غسل دیا تھا ، اگر ایسا ہی ہو وہ تو غزوہ احد کے موقع پر شہید ہو گئے تھے ، تو وہ کعب احبار سے کیسے روایت حاصل کر سکتے ہیں ؟ اور اگر یہ ان کے علاوہ کوئی اور ہیں ، تو پھر میں اس سے واقف نہیں ہوں ، بظاہر یہ لگتا ہے کہ یہ ان کے صاحبزادے عبداللہ بن حنظلہ ہیں ، اور اصل میں عبداللہ کا نام ساقط ہو گیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ، اس روایت کے سیدنا حنظلہ رضی اللہ عنہ تک تمام رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6578
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
حدیث نمبر: 6579
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : آكِلُ الرِّبَا ، وَمُؤَكِّلُهُ ، وَكَاتِبُهُ ، وَشَاهِدَاهُ إِذَا عَلِمُوا بِهِ ، وَالْوَاشِمَةُ ، وَالْمُسْتَوْشِمَةُ لِلْحُسْنِ ، وَلَاوِي الصَّدَقَةِ ، وَالْمُرْتَدُّ أَعْرَابِيًّا بَعْدَ الْهِجْرَةِ - مَلْعُونُونَ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ ، وَغَيْرُهُ بَعْضَهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْحَارِثُ الْأَعْوَرُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : سود کھانے والا ، اسے کھلانے والا ، اس کو لکھنے والا اس کے دونوں گواہ ، جب وہ لوگ اس کے بارے میں جانتے ہوں ، اور حسن کی خاطر جسم گودنے والی عورت اور گدوانے والی عورت ، اور صدقہ نہ دینے والا شخص ، اور ہجرت کے بعد مرتد ہو کر دیہاتی زندگی اختیار کرنے والا فرد ( ان سب پر ) سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی لعنت کی گئی ہے یا یہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ملعون قرار پائے ہیں ) ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : صحیح اور دیگر کتابوں میں اس کا کچھ حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حارث اعور ہے اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6579
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (5241) اخرجه احمد فى المسند (3889)»
حدیث نمبر: 6580
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَا مِنْ قَوْمٍ يَظْهَرُ فِيهِمُ الرِّبَا إِلَّا أُخِذُوا بِالسَّنَةِ ، وَمَا مِنْ قَوْمٍ يَظْهَرُ فِيهِمُ الرُّشَا إِلَّا أُخِذُوا بِالرُّعْبِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ” جب بھی کسی قوم میں سود پھیل جاتا ہے ، تو انہیں قحط سالی اپنی گرفت میں لے لیتی ہے اور جب بھی کسی قوم کے درمیان رشوت پھیل جاتی ہے ، تو رعب کے ذریعے ان لوگوں کی گرفت ہوتی ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6580
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (205/4)»
حدیث نمبر: 6581
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ حَدِيثًا ، وَقَالَ فِيهِ : " مَا ظَهَرَ فِي قَوْمٍ الزِّنَا ، وَالرِّبَا إِلَّا أَحَلُّوا بِأَنْفُسِهِمْ عِقَابَ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ایک حدیث ذکر کرتے ہیں جس میں یہ الفاظ ہیں : ” جس بھی قوم کے درمیان زنا اور سود ظاہر ہوتے ہیں وہ لوگ اپنے لئے اللہ تعالیٰ کے عقاب کو حلال کر لیتے ہیں“ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6581
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ جید۔
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (4981) اخرجه احمد فى المسند (389)»
حدیث نمبر: 6582
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ يَظْهَرُ الرِّبَا ، وَالزِّنَا ، وَالْخَمْرُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قیامت سے پہلے زنا ، سود اور شراب ظاہر ہو جائیں گے ( یعنی پھیل جائیں گے ) “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6582
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 6583
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا ظَهَرَ الزِّنَا وَالرِّبَا فِي قَرْيَةٍ ، فَقَدْ أَحَلُّوا بِأَنْفُسِهِمْ كِتَابَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " . ¤ قُلْتُ : هَكَذَا هُوَ فِي الْأَصْلِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي تَرْجَمَةِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، فَلَعَلَّهُ سَقَطَ مِنَ الْأَصْلِ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ هَاشِمُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب کسی بستی میں زنا اور سود ظاہر ہو جائیں ( یعنی پھیل جائیں ) تو وہ لوگ اپنے لئے اللہ کی تحریر ( یعنی عذاب ) کو حلال کر دیتے ہیں “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت اصل میں اسی طرح سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے حالات میں منقول ہے ، شاید اصل میں ( سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ ) کا نام ساقط ہو گیا ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ہاشم بن مرزوق ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6583
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (460) ورواه الحاكم فى المستدرك (37/2)»
حدیث نمبر: 6584
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : لَمْ يُهْلَكْ أَهْلُ بَلْدَةٍ قَطُّ حَتَّى يَظْهَرَ فِيهِمُ الرِّبَا ، وَالزِّنَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الْكُوفِيُّ الْأَحْوَلُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : کسی بھی بستی کے رہنے والے اس وقت تک ہلاکت کا شکار نہیں ہوتے جب تک ان کے درمیان سود اور زنا نہیں پھیل جاتے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن أحمد کوفی احول ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6584
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير ( 10329)»
حدیث نمبر: 6585
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَعَنَ آكِلَ الرِّبَا وَمُؤَكِّلَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے اور اسے کھلانے والے پر لعنت کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اسماعیل بن یحیی بن سلمہ بن کہیل ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6585
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 6586
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَعَنَ آكِلَ الرِّبَا وَمُؤَكِّلَهُ ، وَكَاتِبَهُ ، وَشَاهِدَهُ ، وَهُمْ يَعْلَمُونَ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدُ ، وَغَيْرُهُ خَلَا قَوْلَهُ : " وَهُمْ يَعْلَمُونَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ أَبِي عِيسَى الْحَنَّاطُ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے اسے کھلانے والے اسے تحریر کرنے والے اور اس کے گواہ پر لعنت کی ہے ، جبکہ وہ علم رکھتے ہوں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں : ” وہ علم رکھتے ہوں“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن ابوعیسی حناط ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6586
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10057)»
حدیث نمبر: 6587
وَعَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْوَزَّانِ قَالَ : رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى فِي السُّوقِ فِي الصَّيَارِفَةِ ، فَقَالَ : يَا مَعْشَرَ الصَّيَارِفَةِ ، أَبْشِرُوا . قَالُوا : بَشَّرَكَ اللَّهُ بِالْجَنَّةِ بِمَا تُبَشِّرُنَا يَا أَبَا مُحَمَّدٍ . قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَبْشِرُوا بِالنَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . وَالْقَاسِمُ قَالَ الذَّهَبِيُّ : أَظُنُّ تَفَرَّدَ عَنْهُ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ . قُلْتُ : وَلَمْ يُضَعِّفْهُ أَحَدٌ . ¤
محمد محی الدین
قاسم بن عبدالواحد وزان بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن ابواوفی کو بازار میں سونے چاندی کا لین دین کرنے والوں کے درمیان دیکھا ، وہ فرما رہے تھے : اے سونا چاندی کا لین دین کرنے والے لوگو ! تم یہ اطلاع حاصل کرو ان لوگوں نے کہا: اے ابومحمد ! اللہ تعالیٰ آپ کو جنت کی خوشخبری سنائے اس چیز کی وجہ سے ، جس کی آپ ہمیں اطلاع دینے لگے ہیں ، تو سیدنا عبداللہ بن ابواوفی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تم لوگ ( یعنی جو سود کا کام کرتے ہیں ) جہنم کی اطلاع حاصل کرو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور قاسم نامی راوی کے بارے میں امام ذہبی نے یہ فرمایا ہے میرا یہ خیال ہے کہ فضل بن حسین جحدری اس سے روایت نقل کرنے میں منفرد ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : کسی نے اسے ضعیف قرار نہیں دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6587
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 6588
وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِيَّاكَ وَالذُّنُوبَ الَّتِي لَا تُغْفَرُ : الْغُلُولُ ؛ فَمَنْ غَلَّ شَيْئًا أَتَى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَأَكْلُ الرِّبَا ؛ فَمَنْ أَكَلَ الرِّبَا يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَجْنُونًا يَتَخَبَّطُ " . ثُمَّ قَرَأَ : " الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ الْأَوَّلِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم ایسے گناہوں سے بچنے کی کوشش کرو ! جن کی مغفرت نہیں ہوتی ہے ، مال غنیمت میں خیانت کرنا ، جو شخص کسی چیز میں خیانت کرے گا ، وہ قیامت کے دن اس چیز کو لے کر آئے گا اور سود کھانا ، جو شخص سود کھائے گا جب وہ قیامت کے دن آئے گا تو وہ مجنون ہو گا ، اور مخبوط الحواس ہو گا ، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی : ” وہ لوگ جو سود کھاتے ہیں ، وہ یوں کھڑے ہوں گے ، جس طرح وہ شخص کھڑا ہوتا ہے ، جسے شیطان نے چھو کر مخبوط الحواس کر دیا ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حسین بن عبدالاول ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6588
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (60/18)»
حدیث نمبر: 6589
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ : ( الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ) قَالَ : يُعْرَفُونَ بِذَلِكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، إِلَّا كَمَا يَقُومُ الْمَجْنُونُ الْمُخَنَّقُ . ¤ ( ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا ) وَكَذَبُوا عَلَى اللَّهِ ( وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّهِ فَانْتَهَى ) إِلَى قَوْلِهِ : ( وَمَنْ عَادَ ) فَأَكَلَ الرِّبَا ( فَأُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ ) . ¤ وَقَوْلِهِ : ( يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ) إِلَى آخَرِ الْآيَةِ فَبَلَغَنَا - وَاللَّهُ أَعْلَمُ - أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِي بَنِي عَمْرِو بْنِ عُمَيْرِ بْنِ عَوْفٍ مِنْ ثَقِيفٍ ، وَفِي بَنِي الْمُغِيرَةِ مِنْ مَخْزُومٍ ؛ كَانَتْ بَنُو الْمُغِيرَةِ يُرْبُونَ لِثَقِيفٍ فَلَمَّا أَظْهَرَ اللَّهُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى مَكَّةَ وَضَعَ يَوْمَئِذٍ الرِّبَا كُلَّهُ . وَكَانَ أَهْلُ الطَّائِفِ قَدْ صَالَحُوا عَلَى أَنَّ لَهُمْ رِبَاهُمْ وَمَا كَانَ عَلَيْهِمْ مِنْ رِبًا فَهُوَ مَوْضُوعٌ . وَكَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي آخِرِ صَحِيفَتِهِمْ : " أَنَّ لَهُمْ مَا لِلْمُسْلِمِينَ وَعَلَيْهِمْ مَا عَلَى الْمُسْلِمِينَ : أَنْ لَا يَأْكُلُوا الرِّبَا ، وَلَا يُؤَاكِّلُوهُ " . فَأَتَى بَنُو عَمْرِو بْنِ عُمَيْرٍ ، وَبَنُو الْمُغِيرَةِ إِلَى عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ - وَهُوَ عَلَى مَكَّةَ - فَقَالَ بَنُو الْمُغِيرَةِ : مَا جَعَلَنَا أَشْقَى النَّاسِ بِالرِّبَا ؟ وَضَعَ عَنِ النَّاسِ غَيْرَنَا . فَقَالَ بَنُو عَمْرِو بْنِ عُمَيْرٍ : صُولِحْنَا عَلَى أَنَّ لَنَا رِبَانَا . فَكَتَبَ عَتَّابُ بْنُ أَسِيدٍ فِي ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : ( فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ) فَعَرَفَ بَنُو عَمْرٍو أَنَّ الْإِيذَانَ لَهُمْ بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ بِقَوْلِهِ : ( إِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ ) فَتَأْخُذُونَ أَكْثَرَ ( وَلَا تُظْلَمُونَ ) فَتُبْخَسُونَ مِنْهُ ( وَإِنْ كَانَ ذُو عُسْرَةٍ ) أَنْ تَذَرُوهُ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ ( فَنَظِرَةٌ إِلَى مَيْسَرَةٍ وَأَنْ تَصَدَّقُوا خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ وَاتَّقُوا يَوْمًا تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللَّهِ ثُمَّ تُوَفَّى كُلُّ نَفْسٍ مَا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ ) فَذَكَرُوا أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ ، وَآخِرَ سُورَةِ النِّسَاءِ نَزَلَتَا آخِرَ الْقُرْآنِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ السَّائِبِ الْكَلْبِيُّ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالی کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” وہ لوگ جو سود کھاتے ہیں ، وہ یوں کھڑے ہوں گے ، جیسے وہ شخص کھڑا ہوتا ہے ، جسے شیطان نے چھو کر مخبوط الحواس کر دیا ہو “ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : قیامت کے دن وہ لوگ اس صورت کے حال کے حوالے سے پہچانے جائیں گے کہ وہ صرف وہ یوں کھڑے ہوں گے ، جس طرح مجنوں شخص کھڑا ہوتا ہے ، جس کی گردن مسلی گئی ہو ۔ ( ارشاد باری تعالی ہے : ) ” اس کی وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے یہ کہا: کہ بیع بھی سود کی مانند ہے “ حالانکہ ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف جھوٹی بات منسوب کی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے بیع کو حلال قرار دیا ہے ، اور سود کو حرام قرار دیا ہے ، تو جس شخص کے پاس اس کے پروردگار کی طرف سے نصیحت آ جائے ، اور وہ باز آ جائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ یہ آیت یہاں تک ہے : ” اور جو شخص دوبارہ ایسا کرے “ یعنی سود کھائے ” تو یہی لوگ جہنمی ہیں اور وہ لوگ اس میں ہمیشہ رہیں گے “ ۔ ارشاد باری تعالی ہے : ” اے ایمان والو ! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور سود میں سے جو باقی رہ گیا ہے ، اسے ترک کر دو ، اگر تم ایمان رکھنے والے ہو اور اگر تم ایسا نہیں کرتے ، تو اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ کے لئے تیار ہو جاؤ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ یہ آیت کے آخر تک ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ہم تک یہ اطلاع پہنچی ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ، کہ یہ آیت بنو عمرو بن عمیر بن عوف کے بارے میں نازل ہوئی تھی ، جن کا تعلق ثقیف قبیلے سے تھا اور بنومغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی ، بنومغیرہ کے لوگ ثقیف قبیلے کے لوگوں کو سود دیا کرتے تھے ، جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مکہ پر غلبہ عطا کر دیا ، تو اس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر قسم کے سود کو کالعدم قرار دے دیا ، طائف کے رہنے والے لوگوں نے اس بات پر صلح کی کہ اُن کے سود انہیں ملیں گے اور جس سود کی ادائیگی ان کی ذمہ ہے ، وہ کالعدم قرار پائے گا نبی اکرم ملا ہم نے ان کے صحیفے کے آخر میں یہ بات لکھوادی کہ انہیں ہر وہ حق حاصل ہوگا جو مسلمانوں کو ملتا ہے اور ان پر ہر وہ چیز لاگو ہو گی جو مسلمانوں پر لاگو ہوتی ہے ، یہ کہ وہ لوگ سود نہیں کھائیں گے اور اسے نہیں کھلائیں گے بنو عمرو بن عمیر اور بنو مغیرہ سیدنا عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کے پاس آئے جو مکہ کے گورنر تھے ، بنو مغیرہ نے کہا: سود کے حوالے سے ہم سب سے زیادہ بد نصیب لوگ ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے علاوہ دوسروں کا سود معاف کر دیا ہے ، بنو عمرو بن عمیر نے کہا: ہمارے ساتھ تو اس بات پر مصالحت ہوئی تھی کہ ہمیں ہمارا سود ملے گا ، سیدنا عتاب بن اسید صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خط لکھا ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” اگر تم ایسا نہیں کرتے ہو ، تو اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ کے لئے تیار ہو جاؤ“ ۔ تو بنوعمرو کو اس بات کا پتہ چل گیا کہ اس طرح تو وہ لوگ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ کرنے والوں کے مترادف ہو جائیں گے ، اس کی وجہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : اگر تم توبہ کر لیتے ہو ، تو تمہیں تمہارے اصل مال تمہیں مل جائیں گے اور تم ظلم نہ کرو “ ۔ یعنی تم زیادہ وصولی نہ کرو ” اور تم پر ظلم نہ کیا جائے “ کہ تمہیں اصل رقم بھی نہ ملے ۔ ” اور اگر وہ شخص تنگدست ہو “ اور اگر تم اسے چھوڑ دیتے ہو ،  تو یہ تمہارے لئے یہ زیادہ بہتر ہو گا ، اگر تم علم رکھتے ہو ۔ ” تو پھر مہلت دی جائے گی ، سہولت میسر ہونے تک کی ، اور اگر تم صدقہ کر دو ، تو یہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو ، اور تم اس دن سے ڈرو کہ جس دن میں تمہیں اللہ تعالیٰ کی طرف واپس لوٹا دیا جائے گا اور پھر ہر شخص کو اس کا پورا اجر دیا جائے گا جو اس نے کمایا تھا اور ان لوگوں کے ساتھ کوئی ظلم نہیں ہو گا “ ۔ لوگوں نے یہ بات ذکر کی ہے کہ یہ آیت نازل ہوئی تھی اور سورۂ نساء کے ساتھ یہ آخری آیت ، یہ دونوں قرآن میں سب سے آخر میں نازل ہوئی ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سائب کلبی ہے اور وہ کذاب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6589
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً یا موضوع