کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: جانوروں کو باندھ کر مارنے ، یا ان کا مثلہ کرنے کی ممانعت
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنَّهُ نَهَى عَنِ الرَّمِيَّةِ : أَنْ تُرْمَى الدَّابَّةُ ، ثُمَّ تُؤْكَلُ ، وَلَكِنْ تُذْبَحُ ، ثُمَّ يَرْمُوا إِنْ شَاءُوا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں کہ آپ نے رمیہ سے منع کیا ہے یعنی جانور کو تیر مارا جائے ( یعنی اس نشانہ بازی کر کے اسے مار دیا جائے ) اور پھر اس کو کھایا جائے بلکہ اسے ذبح کیا جائے گا پھر اگر وہ چاہے ، تو تیر مار لے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔
وَعَنْ سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تَتَّخِذُوا شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ خَلَّادُ بْنُ بَزِيعٍ ، وَلَمْ يَجْرَحْهُ أَحَدٌ ، وَلَمْ يُوَثِّقْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” کسی بھی ایسی چیز کو نشانہ نہ بناؤ جس میں روح موجود ہو “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی خلاد بن بزیع ہے کسی نے اس پر جرح نہیں کی ہے اور نہ ہی اس کی توثیق کی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی خلاد بن بزیع ہے کسی نے اس پر جرح نہیں کی ہے اور نہ ہی اس کی توثیق کی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ تُصْبَرَ الْبَهِيمَةُ ، وَأَنْ يُؤْكَلَ لَحْمُهَا إِذَا صُبِرَتْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ خَلَّادُ بْنُ يَزِيدَ ، كَذَا سَمَّاهُ ، وَصَوَابُهُ خَلَّادُ بْنُ بَزِيعٍ كَمَا تَقَدَّمَ فِي الْحَدِيثِ قَبْلَهُ ، وَلَمْ يَجْرَحْهُ أَحَدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ جانوروں کو باندھ کر ( ان پر نشانہ بازی کی جائے ) اور جب انہیں باندھ کر ( نشانہ بازی کر کے مارا جائے ) تو اس کا گوشت کھانے ( سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی خلاد بن یزید ہے ۔ انہوں نے اس کا یہ نام بیان کیا ہے لیکن درست یہ ہے کہ ان کا نام خلاد بن بزیع ہے جیسا کہ اس سے پہلے والی حدیث میں گزر چکا ہے کسی نے بھی اس پر جرح نہیں کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی خلاد بن یزید ہے ۔ انہوں نے اس کا یہ نام بیان کیا ہے لیکن درست یہ ہے کہ ان کا نام خلاد بن بزیع ہے جیسا کہ اس سے پہلے والی حدیث میں گزر چکا ہے کسی نے بھی اس پر جرح نہیں کی ہے ۔
وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ عَلَى نَفَرٍ مِنَ الْأَنْصَارِ يَرْمُونَ حَمَامَةً فَقَالَ : " لَا تَتَّخِذُوا الرُّوحَ غَرَضًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر کچھ انصار کے پاس سے ہوا جو ایک کبوتری پر تیراندازی کر رہے تھے تو آپ نے ارشاد فرمایا : ” کسی ذی روح چیز کو نشانہ نہ بناؤ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
وَعَنْ أَبِي صَالِحٍ الْحَنَفِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُرَاهُ ابْنَ عُمَرَ - قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ مَثَّلَ بِذِي رُوحٍ ، ثُمَّ لَمْ يَتُبْ مَثَّلَ اللَّهُ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوصالح حنفی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک صاحب کے حوالے سے ، میرا خیال ہے وہ صحابی سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہیں ، ان کا یہ بیان نقل کیا ہے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ” جو شخص کسی ذی روح چیز کا مثلہ کرتا ہے اور پھر اس عملسے توبہ نہیں کرتا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس شخص کا مثلہ کرے گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ أَنَّ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ - يَعْنِي أَبَاهُ - أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلَيْهِ أَطْمَارٌ فَقَالَ : " يَا عَوْفُ ، أَلَيْسَ تُنْتِجُ إِبِلُكَ وَهِيَ صَحِيحَةٌ آذَانُهَا فَتَعْمِدُ إِلَى بَعْضِهَا فَتَجْدَعُهَا فَتَقُولُ : هَذِهِ بَحِيرَةٌ وَتَعْمِدُ إِلَى بَعْضِهَا [ فَتَشُقُّ آذَانَهَا ] فَتَقُولُ : هَذِهِ صُرُمٌ ؟ فَلَا تَفْعَلْ . سَاعِدُ اللَّهِ أَشُدُّ مِنْ سَاعِدِكَ ، وَمُوسَى اللَّهِ أَحُدُّ مِنْ مُوسَاكَ ، كُلْ مَا آتَاكَ اللَّهُ حَلَالًا ، وَلَا تُحَرِّمْ مِنْ مَالِكَ شَيْئًا " قَالَ لَهُ : " يَا عَوْفُ بْنَ مَالِكٍ ، غُلَامُكَ الَّذِي يُطِيعُكَ وَيَتَّبِعُ أَمْرَكَ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَمْ غُلَامُكَ الَّذِي لَا يُطِيعُكَ ، وَلَا يَتَّبِعُ أَمْرَكَ أَحَبُّ إِلَيْكَ ؟ " قَالَ : بَلْ غُلَامِيَ الَّذِي يُطِيعُنِي وَيَتَّبِعُ أَمْرِي . قَالَ : " فَكَذَلِكَ أَنْتُمْ عِنْدَ رَبِّكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَسَمَّاهُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ ، وَفِي السُّنَنِ بَعْضُهُ مِنْ حَدِيثِ مَالِكِ بْنِ نَضْلَةَ ، أَبُو أَبِي الْمُلَيْحِ . وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمَسْعُودِيُّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
ابواحوض بیان کرتے ہیں : سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ یعنی راوی کے والد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ان کے جسم پر چادریں تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے عوف کیا ایسا نہیں ہے کہ جب تمہاری اونٹنی بچے کو جنم دیتی ہے ، تو اس بچے کے کان ٹھیک ہوتے ہیں اور پھر تم اس بچے کے پاس جا کر اس کے کان چیر دیتے ہو اور یہ کہتے ہو یہ بحیرہ ہے یا تم کسی بچے کے پاس جا کر اس کے کان شق کر دیتے ہو اور تم کہتے ہو یہ صرم ہے تم ایسا نہ کرو اللہ تعالیٰ کی کلائی تمہاری کلائی سے زیادہ مضبوط ہے اور اللہ تعالی کا استرا تمہارے استرے سے زیادہ تیز دھار والا ہے ، جو چیز اللہ تعالیٰ نے تمہیں حلال کے طور پر عطا کی ہوئی ہے اسے کھا لو اور تم اپنے مال میں سے کسی چیز کو حرام نہ کرو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : اے عوف بن مالک تمہارا وہ غلام جو تمہاری فرمانبرداری کرتا ہے اور تمہارے حکم کی پیروی کرتا ہے وہ تمہارے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہو گا ؟ یا تمہارا وہ غلام جو تمہاری فرمانبرداری بھی نہیں کرتا اور تمہارے حکم کی پیروی بھی نہیں کرتا وہ تمہارے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہو گا ؟ تو سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: جی نہیں ! بلکہ میرا وہ غلام جو میری فرمانبرداری کرتا ہے اور میرے حکم کی پیروی کرتا ہے ( یقینا وہ زیادہ پسندیدہ ہو گا ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اپنے پروردگار کی بارگاہ میں تم لوگ بھی اسی طرح ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ انہوں نے اس حدیث میں صحابی کا نام سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کیا ہے : ” سنن “ میں اس روایت کا کچھ حصہ سیدنا مالک بن نضلہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث کے طور پر مذکور ہے ، جو ابوملیح نامی راوی کے والد ہیں امام طبرانی کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن مسعودی ہے وہ ثقہ ہے لیکن وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ انہوں نے اس حدیث میں صحابی کا نام سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کیا ہے : ” سنن “ میں اس روایت کا کچھ حصہ سیدنا مالک بن نضلہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث کے طور پر مذکور ہے ، جو ابوملیح نامی راوی کے والد ہیں امام طبرانی کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن مسعودی ہے وہ ثقہ ہے لیکن وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔