حدیث نمبر: 6022
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنَّهُ نَهَى عَنِ الرَّمِيَّةِ : أَنْ تُرْمَى الدَّابَّةُ ، ثُمَّ تُؤْكَلُ ، وَلَكِنْ تُذْبَحُ ، ثُمَّ يَرْمُوا إِنْ شَاءُوا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں کہ آپ نے رمیہ سے منع کیا ہے یعنی جانور کو تیر مارا جائے ( یعنی اس نشانہ بازی کر کے اسے مار دیا جائے ) اور پھر اس کو کھایا جائے بلکہ اسے ذبح کیا جائے گا پھر اگر وہ چاہے ، تو تیر مار لے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6022
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (402/2)»