حدیث نمبر: 6027
وَعَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ أَنَّ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ - يَعْنِي أَبَاهُ - أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلَيْهِ أَطْمَارٌ فَقَالَ : " يَا عَوْفُ ، أَلَيْسَ تُنْتِجُ إِبِلُكَ وَهِيَ صَحِيحَةٌ آذَانُهَا فَتَعْمِدُ إِلَى بَعْضِهَا فَتَجْدَعُهَا فَتَقُولُ : هَذِهِ بَحِيرَةٌ وَتَعْمِدُ إِلَى بَعْضِهَا [ فَتَشُقُّ آذَانَهَا ] فَتَقُولُ : هَذِهِ صُرُمٌ ؟ فَلَا تَفْعَلْ . سَاعِدُ اللَّهِ أَشُدُّ مِنْ سَاعِدِكَ ، وَمُوسَى اللَّهِ أَحُدُّ مِنْ مُوسَاكَ ، كُلْ مَا آتَاكَ اللَّهُ حَلَالًا ، وَلَا تُحَرِّمْ مِنْ مَالِكَ شَيْئًا " قَالَ لَهُ : " يَا عَوْفُ بْنَ مَالِكٍ ، غُلَامُكَ الَّذِي يُطِيعُكَ وَيَتَّبِعُ أَمْرَكَ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَمْ غُلَامُكَ الَّذِي لَا يُطِيعُكَ ، وَلَا يَتَّبِعُ أَمْرَكَ أَحَبُّ إِلَيْكَ ؟ " قَالَ : بَلْ غُلَامِيَ الَّذِي يُطِيعُنِي وَيَتَّبِعُ أَمْرِي . قَالَ : " فَكَذَلِكَ أَنْتُمْ عِنْدَ رَبِّكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَسَمَّاهُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ ، وَفِي السُّنَنِ بَعْضُهُ مِنْ حَدِيثِ مَالِكِ بْنِ نَضْلَةَ ، أَبُو أَبِي الْمُلَيْحِ . وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمَسْعُودِيُّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین

ابواحوض بیان کرتے ہیں : سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ یعنی راوی کے والد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ان کے جسم پر چادریں تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے عوف کیا ایسا نہیں ہے کہ جب تمہاری اونٹنی بچے کو جنم دیتی ہے ، تو اس بچے کے کان ٹھیک ہوتے ہیں اور پھر تم اس بچے کے پاس جا کر اس کے کان چیر دیتے ہو اور یہ کہتے ہو یہ بحیرہ ہے یا تم کسی بچے کے پاس جا کر اس کے کان شق کر دیتے ہو اور تم کہتے ہو یہ صرم ہے تم ایسا نہ کرو اللہ تعالیٰ کی کلائی تمہاری کلائی سے زیادہ مضبوط ہے اور اللہ تعالی کا استرا تمہارے استرے سے زیادہ تیز دھار والا ہے ، جو چیز اللہ تعالیٰ نے تمہیں حلال کے طور پر عطا کی ہوئی ہے اسے کھا لو اور تم اپنے مال میں سے کسی چیز کو حرام نہ کرو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : اے عوف بن مالک تمہارا وہ غلام جو تمہاری فرمانبرداری کرتا ہے اور تمہارے حکم کی پیروی کرتا ہے وہ تمہارے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہو گا ؟ یا تمہارا وہ غلام جو تمہاری فرمانبرداری بھی نہیں کرتا اور تمہارے حکم کی پیروی بھی نہیں کرتا وہ تمہارے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہو گا ؟ تو سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: جی نہیں ! بلکہ میرا وہ غلام جو میری فرمانبرداری کرتا ہے اور میرے حکم کی پیروی کرتا ہے ( یقینا وہ زیادہ پسندیدہ ہو گا ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اپنے پروردگار کی بارگاہ میں تم لوگ بھی اسی طرح ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ انہوں نے اس حدیث میں صحابی کا نام سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کیا ہے : ” سنن “ میں اس روایت کا کچھ حصہ سیدنا مالک بن نضلہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث کے طور پر مذکور ہے ، جو ابوملیح نامی راوی کے والد ہیں امام طبرانی کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن مسعودی ہے وہ ثقہ ہے لیکن وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6027
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (280/19)»