عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ : لَمَّا سَأَلَ أَهْلُ قُبَاءَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَبْنِيَ لَهُمْ مَسْجِدًا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِيَقُمْ بَعْضُكُمْ فَيَرْكَبَ النَّاقَةَ " ، فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ ، فَرَكِبَهَا فَحَرَّكَهَا فَلَمْ تَنْبَعِثْ فَرَجَعَ فَقَعَدَ ، فَقَامَ عُمَرُ فَرَكِبَهَا فَحَرَّكَهَا فَلَمْ تَنْبَعِثْ ، فَرَجَعَ فَقَعَدَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَصْحَابِهِ : لِيَقُمْ بَعْضُكُمْ فَيَرْكَبَ النَّاقَةَ " ، فَقَامَ عَلِيٌّ فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الرِّكَابِ وَثَبَتَ بِهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : يَا عَلِيُّ ، أَرْخِ زِمَامَهَا وَابْنُوا عَلَى مَدَارِهَا ، فَإِنَّهَا مَأْمُورَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ يَعْلَى الْأَسْلَمِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اہل قباء نے یہ درخواست کی کہ آپ ان کے لئے مسجد بنوا دیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم میں سے کوئی ایک اٹھے اور اونٹنی پر سوار ہو جائے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اٹھے اور اس پر سوار ہو گئے ۔ انہوں نے اسے حرکت دی لیکن وہ اونٹنی نہیں اٹھی وہ واپس آ کر بیٹھ گئے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے وہ اس پر سوار ہوئے ۔ انہوں نے اسے حرکت دی لیکن وہ نہیں اٹھی وہ واپس آ کر بیٹھ گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے ارشاد فرمایا : تم میں سے کوئی ایک اٹھے اور اونٹنی پر سوار ہو ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ اٹھے جب انہوں نے اپنا پاؤں رکاب میں رکھا تو اونٹنی انہیں لے کر کھڑی ہو گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے علی ! اس کی لگام کو ڈھیلا چھوڑ دو اور جہاں یہ بیٹھے گی اس جگہ پر ( مسجد ) تعمیر کرنا کیونکہ یہ حکم کی پابند ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن یعلی اسلمی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5897
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2003)»
وَعَنِ الشُّمُوسِ بِنْتِ النُّعْمَانِ قَالَتْ : نَظَرْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ قَدِمَ وَنَزَلَ وَأَسَّسَ هَذَا الْمَسْجِدَ - مَسْجِدَ قُبَاءَ - فَرَأَيْتُهُ يَأْخُذُ الْحَجَرَ - أَوِ الصَّخْرَةَ - حَتَّى يَهْصِرَهُ الْحَجَرُ ، وَأَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ التُّرَابِ عَلَى بَطْنِهِ - أَوْ سُرَّتِهِ - فَيَأْتِي الرَّجُلُ مِنْ أَصْحَابِهِ وَيَقُولُ : بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَعْطِنِي أَكْفِكَ ، فَيَقُولُ : " لَا خُذْ [ حَجَرًا ] مِثْلَهُ " ، حَتَّى أَسَّسَهُ ، وَيَقُولُ : " إِنَّ جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - هُوَ يَوْمُ الْكَعْبَةِ " ، قَالَ : فَكَانَ يُقَالُ : إِنَّهُ أَقْوَمُ مَسْجِدٍ قِبَلَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ شموس بنت نعمان رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا آپ سواری سے اترے آپ نے اس مسجد یعنی مسجد قباء کی بنیاد رکھی میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ پتھر پکڑ رہے تھے یہاں تک کہ پتھر کی وجہ سے آپ کو جھکنا پڑ رہا تھا اور میں نے آپ کے پیٹ پر ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) آپ کی ناف پر مٹی کی سفیدی دیکھی ، آپ کے اصحاب میں سے ایک صاحب آئے اور بولے : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یا رسول اللہ ! آپ یہ مجھے دیجئے آپ کی جگہ میں یہ کام کر دیتا ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! تم اس طرح کا ایک اور پتھر پکڑ لو یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بنیاد رکھوا دی آپ نے ارشاد فرمایا : جبرائیل خانہ کعبہ کی سمت کی نشاندہی کر رہے ہیں راوی بیان کرتے ہیں : تو یہ بات کہی جاتی ہے کہ اس مسجد میں قبلہ سب سے زیادہ درست سمت میں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5898
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (318/24)»
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ ، ثُمَّ دَخَلَ مَسْجِدَ قُبَاءَ فَرَكَعَ فِيهِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ كَانَ ذَلِكَ عِدْلَ رَقَبَةٍ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَغَيْرُهُ ، وَقَالُوا : كَانَ كَعِدْلِ عُمْرَةٍ ، وَهُنَا كَعِدْلِ رَقَبَةٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص وضو کرتے ہوئے اچھی طرح وضو کرے اور پھر مسجد قباء میں داخل ہو کے اس میں چار رکعت ادا کرے تو یہ ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہو گا“ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابن ماجہ اور دیگر حضرات نے نقل کی ہے اور انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” یہ عمرہ کرنے کے برابر ہو گا“ ۔ جبکہ یہاں یہ الفاظ ہیں : ” یہ غلام آزاد کرنے کے برابر ہو گا“ ۔

یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5899
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير ( 5560)»
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ تَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ ، ثُمَّ عَمَدَ إِلَى مَسْجِدِ قُبَاءَ لَا يُرِيدُ غَيْرَهُ ، وَلَا يَحْمِلُهُ عَلَى الْغُدُوِّ إِلَّا الصَّلَاةُ فِي مَسْجِدِ قُبَاءَ فَصَلَّى فِيهِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ يَقْرَأُ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ بِأُمِّ الْقُرْآنِ كَانَ لَهُ كَأَجْرِ الْمُعْتَمِرِ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ النَّوْفَلِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص وضو کرتے ہوئے اچھی طرح وضو کرے اور پھر مسجد قباء کی طرف جائے اس کا مقصد اس کے علاوہ کہیں اور جانا نہ ہو اور وہ صرف اس لئے جائے تاکہ مسجد قباء میں نماز ادا کرے اور پھر وہ اس مسجد میں چار رکعت ادا کرے جن میں سے ہر ایک رکعت میں وہ سورت فاتحہ کی تلاوت کرے تو اسے بیت اللہ کا عمرہ کرنے والے کے اجر کی مانند ( اجر و ثواب ) ملے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن عبدالملک نوفلی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5900
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير ( 146/19)»