حدیث نمبر: 5898
وَعَنِ الشُّمُوسِ بِنْتِ النُّعْمَانِ قَالَتْ : نَظَرْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ قَدِمَ وَنَزَلَ وَأَسَّسَ هَذَا الْمَسْجِدَ - مَسْجِدَ قُبَاءَ - فَرَأَيْتُهُ يَأْخُذُ الْحَجَرَ - أَوِ الصَّخْرَةَ - حَتَّى يَهْصِرَهُ الْحَجَرُ ، وَأَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ التُّرَابِ عَلَى بَطْنِهِ - أَوْ سُرَّتِهِ - فَيَأْتِي الرَّجُلُ مِنْ أَصْحَابِهِ وَيَقُولُ : بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَعْطِنِي أَكْفِكَ ، فَيَقُولُ : " لَا خُذْ [ حَجَرًا ] مِثْلَهُ " ، حَتَّى أَسَّسَهُ ، وَيَقُولُ : " إِنَّ جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - هُوَ يَوْمُ الْكَعْبَةِ " ، قَالَ : فَكَانَ يُقَالُ : إِنَّهُ أَقْوَمُ مَسْجِدٍ قِبَلَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ شموس بنت نعمان رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا آپ سواری سے اترے آپ نے اس مسجد یعنی مسجد قباء کی بنیاد رکھی میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ پتھر پکڑ رہے تھے یہاں تک کہ پتھر کی وجہ سے آپ کو جھکنا پڑ رہا تھا اور میں نے آپ کے پیٹ پر ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) آپ کی ناف پر مٹی کی سفیدی دیکھی ، آپ کے اصحاب میں سے ایک صاحب آئے اور بولے : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یا رسول اللہ ! آپ یہ مجھے دیجئے آپ کی جگہ میں یہ کام کر دیتا ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! تم اس طرح کا ایک اور پتھر پکڑ لو یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بنیاد رکھوا دی آپ نے ارشاد فرمایا : جبرائیل خانہ کعبہ کی سمت کی نشاندہی کر رہے ہیں راوی بیان کرتے ہیں : تو یہ بات کہی جاتی ہے کہ اس مسجد میں قبلہ سب سے زیادہ درست سمت میں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5898
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (318/24)»