عَنْ أَنَسٍ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ الْأَوَاخِرُ طَوَى فِرَاشَهُ وَاعْتَزَلَ النِّسَاءَ ، وَجَعَلَ عَشَاءَهُ سَحُورًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حَفْصُ بْنُ وَاقِدٍ الْبَصْرِيُّ ، قَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : لَهُ أَحَادِيثُ مُنْكَرَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول تھا کہ جب آخری عشرہ داخل ہو جاتا تھا ، تو آپ اپنے بچھونے کو لپیٹ دیتے تھے خواتین سے علیحدگی اختیار کرتے تھے ، اور اپنے رات کے کھانے کو سحری کے وقت کر دیتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حفص بن واقد بصری ہے ۔ ابن عدی کہتے ہیں : اس کے حوالے سے منکر احادیث منقول ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حفص بن واقد بصری ہے ۔ ابن عدی کہتے ہیں : اس کے حوالے سے منکر احادیث منقول ہیں ۔
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوقِظُ أَهْلَهُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ ، وَكُلَّ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ يُطِيقُ الصَّلَاةَ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَأَبُو يَعْلَى بِاخْتِصَارٍ عَنْهُ ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ قَاسِمٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَإِسْنَادُ أَبِي يَعْلَى حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے مہینے کے آخری عشرے میں اپنے اہل خانہ کو ہر چھوٹے اور بڑے کو بیدار کرتے تھے جو نماز کی طاقت رکھتا تھا ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور امام ابویعلیٰ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ امام طبرانی کی سند میں ایک راوی عبدالغفار بن قاسم ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، اور امام ابویعلیٰ کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور امام ابویعلیٰ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ امام طبرانی کی سند میں ایک راوی عبدالغفار بن قاسم ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، اور امام ابویعلیٰ کی سند حسن ہے ۔