حدیث نمبر: 5023
وَعَنْ مُعَيْقِيبٍ قَالَ : اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قُبَّةٍ مِنْ خُوصٍ بَابُهَا مِنْ حَصِيرٍ ، وَالنَّاسُ فِي الْمَسْجِدِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ النَّضْرُ بْنُ سَعِيدٍ الْبَهَرْتِيرِيُّ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معیقیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کے پتوں سے بنے ہوئے خیمے میں اعتکاف کیا تھا ، جس کے دروازے پر چٹائی لگی ہوئی تھی اور لوگ مسجد میں موجود تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نضر بن سعید بہر تیری ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نضر بن سعید بہر تیری ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حدیث نمبر: 5024
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَكَفَ أَوَّلَ سَنَةٍ الْعَشْرَ الْأُوَلَ ، ثُمَّ اعْتَكَفَ الْعَشْرَ الْوُسْطَى ، ثُمَّ اعْتَكَفَ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ وَقَالَ : " إِنِّي رَأَيْتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِيهَا فَأُنْسِيتُهَا " . فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْتَكِفُ فِيهِنَّ حَتَّى تُوُفِّيَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے سال پہلے عشرے میں اعتکاف کیا ، پھر آپ نے درمیانی عشرے میں اعتکاف کیا ، پھر آپ نے آخری عشرے میں اعتکاف کیا آپ نے ارشاد فرمایا : میں نے شب قدر کو اس عشرے میں دیکھا تھا پھر وہ مجھے بھلا دی گئی اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل اپنے وصال فرمانے تک آخری عشرے میں ہی اعتکاف کرتے رہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 5025
وَعَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " اعْتِكَافٌ [ عَشْرٍ ] فِي رَمَضَانَ كَحَجَّتَيْنِ وَعُمْرَتَيْنِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُيَيْنَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” رمضان میں ایک عشرے کا اعتکاف دو مرتبہ حج کرنے اور دو مرتبہ عمرہ کرنے کی مانند ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عیینہ بن عبدالرحمن قرشی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عیینہ بن عبدالرحمن قرشی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 5026
وَعَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ : قَالَ حُذَيْفَةُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ : قَوْمٌ عُكُوفٌ بَيْنَ دَارِكَ وَدَارِ أَبِي مُوسَى أَلَا تَنْهَاهُمْ ؟ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ : فَلَعَلَّهُمْ أَصَابُوا وَأَخْطَأْتُ ، وَحَفِظُوا وَنَسِيتُ ؟ فَقَالَ حُذَيْفَةُ : ( أَمَّا أَنَا فَقَدْ عَلِمْتُ بِأَنَّهُ ) لَا اعْتِكَافَ إِلَّا فِي هَذِهِ الْمَسَاجِدِ الثَّلَاثَةِ مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ ، وَمَسْجِدِ مَكَّةَ ، وَمَسْجِدِ إِيلِيَاءَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابووائل بیان کرتے ہیں : سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا: کچھ لوگ آپ کے گھر اور سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے گھر کے درمیان ( موجود مسجد میں ) اعتکاف کرتے ہیں کیا آپ ان لوگوں کو منع نہیں کرتے ہیں ؟ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ہو سکتا ہے کہ وہ لوگ ٹھیک ہوں اور میں غلطی پر ہوں انہیں بات یاد ہو ، اور میں بھول گیا ہوں تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جہاں تک میری بات ہے ، تو میں تو یہ بات جانتا ہوں کہ اعتکاف صرف ان تین مساجد میں کیا جا سکتا ہے مسجد مدینہ ، مسجد مکہ اور مسجد ایلیاء میں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 5027
وَفِي رِوَايَةٍ : فَقَالَ حُذَيْفَةُ : أَمَّا أَنَا فَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّهُ لَا اعْتِكَافَ إِلَّا فِي مَسْجِدِ جَمَاعَةٍ . ¤ وَإِسْنَادُهَا مُرْسَلٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جہاں تک میرا تعلق ہے ، تو میں یہ بات جانتا ہوں کہ اعتکاف صرف با جماعت نماز والی مسجد میں ہو سکتا ہے ۔ اس روایت کی سند ” مرسل “ ہے ۔
حدیث نمبر: 5028
وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ : جَاءَ حُذَيْفَةُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ : أَلَا أَعْجَبُ مِنْ نَاسٍ عُكُوفٍ بَيْنَ دَارِكَ وَدَارِ الْأَشْعَرِيِّ ؟ ! فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَلَعَلَّهُمْ أَصَابُوا وَأَخْطَأْتُ ؟ فَقَالَ حُذَيْفَةُ : مَا أُبَالِي أَفِيهِ أَعْتَكِفُ أَمْ فِي بُيُوتِكُمْ هَذِهِ ، وَإِنَّمَا الِاعْتِكَافُ فِي هَذِهِ الْمَسَاجِدِ الثَّلَاثَةِ مَسْجِدِ الْحَرَامِ ، وَمَسْجِدِ الْمَدِينَةِ ، وَمَسْجِدِ الْأَقْصَى . ¤ وَكَانَ الَّذِينَ اعْتَكَفُوا فَعَابَ عَلَيْهِمْ حُذَيْفَةُ فِي مَسْجِدِ الْكُوفَةِ الْأَكْبَرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِبْرَاهِيمُ لَمْ يُدْرِكْ حُذَيْفَةَ . ¤
محمد محی الدین
ابراہیم بیان کرتے ہیں : سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بولے : کیا میں ان لوگوں پر حیرانگی کا اظہار نہ کروں جو آپ کے اور اشعری کے گھر کے درمیان اعتکاف کرتے ہیں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہو سکتا ہے کہ وہ لوگ ٹھیک ہوں اور میں غلطی پر ہوں سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تو اس بات کی پرواہ نہیں کرتا کہ کیا میں وہاں اعتکاف کرتا ہوں یا آپ لوگوں کے گھروں میں کر لیتا ہوں اعتکاف صرف ان تین مساجد میں کیا جا سکتا ہے مسجد حرام مسجد مدینہ اور مسجد اقصیٰ میں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : وہ لوگ جن پر سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اعتراض کیا تھا یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے کوفہ کی سب سے بڑی مسجد میں اعتکاف کیا ہوا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ ابراہیم نامی راوی نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ ابراہیم نامی راوی نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔