حدیث نمبر: 5031
عَنْ عَلِيٍّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " اطْلُبُوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ ; فَإِنْ غُلِبْتُمْ فَلَا تُغْلَبُوا فِي السَّبْعِ الْبَوَاقِي " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” شب قدر کو آخری عشرے میں تلاش کرو اگر تم مغلوب ہو جاؤ تو باقی رہ جانے والی سات راتوں کے حوالے سے مغلوب نہ ہونا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالحمید بن حسن ہلالی ہے ، جسے یحییٰ بن معین اور دیگر حضرات نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالحمید بن حسن ہلالی ہے ، جسے یحییٰ بن معین اور دیگر حضرات نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 5032
وَعَنْ عَلِيٍّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " رَأَيْتُ الْقَمَرَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ كَأَنَّهُ شِقُّ جَفْنَةٍ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” شب قدر میں ، میں نے چاند کو دیکھا وہ یوں تھا ، جیسے وہ نصف پیالہ ہوں“ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 5033
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَرَجْتُ حِينَ بَزَغَ الْقَمَرُ كَأَنَّهُ فِلْقُ جَفْنَةٍ " . فَقَالَ : " اللَّيْلَةُ لَيْلَةُ الْقَدْرِ " . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ مِنْ زِيَادَاتِهِ وَأَبُو يَعْلَى كَمَا تَقَدَّمَ ، وَفِيهِ خَدِيجُ بْنُ مُعَاوِيَةَ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں اس وقت نکلا جب چاند نکلا تو وہ پیالے کے ٹکڑے کی طرح تھا ، آپ نے ارشاد فرمایا : آج کی رات شب قدر ہے “ ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے اپنی زیادات میں نقل کی ہے ، اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خدیج بن معاویہ ہے ، جسے امام أحمد اور دیگر حضرات نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے اپنی زیادات میں نقل کی ہے ، اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خدیج بن معاویہ ہے ، جسے امام أحمد اور دیگر حضرات نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 5034
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ وِتْرًا " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اسے ( یعنی شب قدر کو ) آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ امام ابویعلیٰ کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ امام ابویعلیٰ کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 5035
وَعَنْ أَبِي عَقْرَبٍ قَالَ : غَدَوْتُ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ ذَاتَ غَدَاةٍ فِي رَمَضَانَ فَوَجَدْتُهُ فَوْقَ بَيْتٍ جَالِسًا فَسَمِعْنَا صَوْتَهُ وَهُوَ يَقُولُ : صَدَقَ اللَّهُ وَبَلَّغَ رَسُولُهُ . فَقُلْنَا : سَمِعْنَاكَ تَقُولُ : صَدَقَ اللَّهُ وَبَلَّغَ رَسُولُهُ ؟ فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيْلَةُ الْقَدْرِ فِي النِّصْفِ مِنَ السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ غَدَاتَئِذٍ صَافِيَةً لَيْسَ لَهَا شُعَاعٌ " . فَنَظَرْتُ إِلَيْهَا فَوَجَدْتُهَا كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى ، وَأَبُو عَقْرَبٍ لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوعقرب بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس رمضان کے مہینے میں ایک صبح آیا تو میں نے انہیں گھر کی چھت پر بیٹھے ہوئے پایا میں نے ان کی آواز سنی وہ یہ کہہ رہے تھے اللہ نے سچ فرمایا ہے ، اور اس کے رسول نے تبلیغ کر دی ہے ہم نے کہا: ہم نے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے اللہ نے سچ فرمایا ہے ، اور اس کے رسول نے تبلیغ کر دی ہے ، تو انہوں نے بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” شب قدر رمضان کی آخری سات راتوں کے نصف میں ہوتی ہے ، اور اس سے اگلے دن جب سورج نکلتا ہے ، تو وہ صاف ہوتا ہے ، اس کی شعاع نہیں ہوتی“ ۔ میں نے اس ( سورج ) کی طرف دیکھا تو میں نے اسے اسی طرح پایا جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا :
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ ابوعقرب نامی راوی کے حالات بیان کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ ابوعقرب نامی راوی کے حالات بیان کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 5036
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : مَنْ يَذْكُرُ [ مِنْكُمْ ] لَيْلَةَ الصَّهْبَاوَاتِ ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : أَنَا بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي وَإِنَّ فِي يَدِي التَّمَرَاتِ أَتَسَحَّرُ بِهِنَّ مُسْتَتِرًا بِمُؤَخِّرَةِ رَحْلِي مِنَ الْفَجْرِ ، وَذَلِكَ حِينَ يَطْلُعُ الْقَمَرُ ! ! رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَزَادَ : وَذَلِكَ لَيْلَةَ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے دریافت کیا : تم میں سے کس شخص کو صهباوات والی رات یاد ہے ؟ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں مجھے ، اس وقت میرے ہاتھ میں کچھ کھجوریں تھیں میں ان کے ذریعے سحری کر رہا تھا اور پالان کے پچھلے حصے کے ذریعے پردہ کر رہا تھا جو صبح صادق کی چمک کی وجہ سے تھا یہ اس وقت ہوا تھا جب چاند نکلا تھا “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” وہ ستائیسویں رات تھی “ ۔ ابوعبیدہ نامی راوی نے اپنے والد ( یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے سماع نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” وہ ستائیسویں رات تھی “ ۔ ابوعبیدہ نامی راوی نے اپنے والد ( یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 5037
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْتَمِسُوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَزَادَ ابْنُهُ : " فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ فِي وِتْرٍ ، فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُهَا ثُمَّ نَسِيتُهَا ، وَهِيَ لَيْلَةُ قَطْرٍ وَرِيحٍ " . أَوْ قَالَ : " مَطَرٍ وَرِيحٍ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَزَادَ : " وَرَعْدٍ " . وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” شب قدر کو آخری عشرے میں تلاش کرو “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور ان کے صاحبزادے نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو کیونکہ میں نے اسے دیکھا تھا پھر میں اس کو بھول گیا وہ بارش اور ہوا والی رات ہو گی“ ۔ ( یہاں بارش کے لئے ایک لفظ مختلف نقل ہوا ہے ) ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” اور کڑک والی ہو گی“ ۔ امام أحمد کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور ان کے صاحبزادے نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو کیونکہ میں نے اسے دیکھا تھا پھر میں اس کو بھول گیا وہ بارش اور ہوا والی رات ہو گی“ ۔ ( یہاں بارش کے لئے ایک لفظ مختلف نقل ہوا ہے ) ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” اور کڑک والی ہو گی“ ۔ امام أحمد کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 5038
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ فَقَالَ : " هِيَ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ ، قُمْ فِي الثَّالِثَةِ أَوِ الْخَامِسَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے شب قدر کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا : یہ آخری عشرے میں ہو گی تم تیسری یا پانچویں رات میں قیام کرنا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 5039
وَعَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ أَمِيرَ الْبَعْثِ كَانَ غَالِبًا اللَّيْثِيَّ ، وَقُطْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الَّذِي دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّخْلَ ، وَهُوَ مُحْرِمٌ ، وَخَرَجَ مِنَ الْبَابِ ، وَقَدْ تَسَوَّرَ مِنْ قِبَلِ الْجِدَارِ . وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُنَيْسٍ الَّذِي سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَقَدْ خَلَتْ ثِنْتَانِ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْتَمِسُوهَا فِي هَذِهِ السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ الَّتِي بَقِيَتْ مِنَ الشَّهْرِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَهُوَ فِي الْأَصْلِ كَمَا تَرَى ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : لشکر کے امیر سیدنا غالب لیثی رضی اللہ عنہ تھے ، اور سیدنا قطبہ بن عامر رضی اللہ عنہ تھے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھجور کے باغ میں داخل ہوئے تھے ، اس وقت آپ نے احرام باندھا ہوا تھا اور آپ اس وقت دروازے سے باہر نکل گئے تھے انہوں نے دیوار والی سمت میں فصیل بنائی ہوئی تھی ، اور سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ تھے جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شب قدر کے بارے میں سوال کیا تھا اس وقت بائیس راتیں گزر چکی تھیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا : اس مہینے جو سات راتیں باقی رہ گئیں ان میں اسے تلاش کرو ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اصل میں یہ اسی طرح ہے ، جس طرح آپ دیکھ رہے ہیں اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اصل میں یہ اسی طرح ہے ، جس طرح آپ دیکھ رہے ہیں اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 5040
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فِي رَمَضَانَ فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ ، فَإِنَّهَا فِي وِتْرٍ فِي إِحْدَى وَعِشْرِينَ أَوْ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ أَوْ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ أَوْ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ أَوْ تِسْعٍ وَعِشْرِينَ ، أَوْ فِي آخِرِ لَيْلَةٍ ، فَمَنْ قَامَهَا ابْتَغَاهَا إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا ثُمَّ وُفِّقَتْ لَهُ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ، وَمَا تَأَخَّرَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شب قدر کے بارے میں سوال کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہ رمضان میں ہو گی تم اسے آخری عشرے میں تلاش کرو کیونکہ یہ طاق رات ہو گی اکیسویں ہو گی یا تئیسویں ہو گی یا پچیسویں ہو گی یا ستائیسویں ہو گی یا انتیسویں ہو گی یا آخری ہو گی جو شخص اس میں نوافل ادا کرے گا وہ ایمان کی حالت میں ثواب کی امید رکھتے ہوئے اس کو تلاش کرے گا ، اور پھر اسے اس رات کی ، توفیق مل جائے تو اس شخص کے گزشتہ اور آئندہ گناہوں کی مغفرت ہو جائے گی “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 5041
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيْلَةُ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الْبَوَاقِي مَنْ قَامَهُنَّ ابْتِغَاءَ حِسْبَتِهِنَّ ، فَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَغْفِرُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ ، وَهِيَ لَيْلَةُ وِتْرٍ : تِسْعٌ أَوْ سَبْعٌ أَوْ خَامِسَةٌ أَوْ ثَالِثَةٌ ، أَوْ آخِرُ لَيْلَةٍ " . وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَمَارَةَ لَيْلَةِ الْقَدْرِ أَنَّهَا صَافِيَةٌ بُلْجَةٌ كَأَنَّ فِيهَا قَمَرًا سَاطِعًا سَاكِنَةٌ شَاجِبَةٌ لَا بَرْدَ فِيهَا وَلَا حَرَّ وَلَا يَحِلُّ لِكَوْكَبٍ [ أَنْ ] يُرْمَى بِهِ فِيهَا حَتَّى يُصْبِحَ ، وَإِنَّ أَمَارَتَهَا أَنَّ الشَّمْسَ صَبِيحَتَهَا تَخْرُجُ مُسْتَوِيَةً لَيْسَ لَهَا شُعَاعٌ مِثْلَ الْقَمَرِ الْبَدْرِ ، لَا يَحِلُّ لِلشَّيْطَانِ أَنْ يَخْرُجَ مَعَهَا يَوْمَئِذٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” شب قدر باقی رہ جانے والے عشرے میں ہو گی جو شخص ان راتوں میں ثواب کی امید رکھتے ہوئے نوافل ادا کرے گا ، تو اللہ تعالیٰ اس شخص کے گزشتہ اور آئندہ گناہوں کی بخشش کر دے گا یہ طاق رات ہوتی ہے نویں یا ساتویں یا پانچویں یا تیسری یا آخری رات ہو گی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” شب قدر کی مخصوص نشانی یہ ہے کہ وہ صاف اور روشن ہو گی ، اس میں چاند چمک رہا ہو گا ، وہ رات ساکن اور معتدل ہو گی ، اس رات میں نہ ٹھنڈک ہو گی ، اور نہ گرمی ہو گی ، اور اس رات میں ستارہ نہیں ٹوٹے گا یہاں تک کہ صبح ہو جائے اور اس کی مخصوص نشانی یہ ہے کہ اس سے اگلی صبح جب سورج نکلتا ہے ، تو وہ بالکل برابر ہوتا ہے اس میں شعاع نہیں ہوتی وہ چودھویں رات کے چاند کی طرح ہوتا ہے اس دن شیطان کے لئے یہ حلال نہیں ہے کہ وہ سورج کے ہمراہ نکلے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 5042
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ : " إِنَّهَا لَيْلَةٌ سَابِعَةٌ أَوْ تَاسِعَةٌ وَعِشْرِينَ إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ فِي الْأَرْضِ أَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ الْحَصَى " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شب قدر کے بارے میں ارشاد فرمایا : ” یہ ستائیسویں یا انتیسویں رات ہوتی ہے ، اور اس رات میں فرشتے زمین میں بے شمار تعداد میں ہوتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 5043
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْتَمِسُوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي سَبْعَ عَشْرَةَ أَوْ تِسْعَ عَشْرَةَ أَوْ إِحْدَى وَعِشْرِينَ أَوْ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ أَوْ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ أَوْ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ أَوْ تِسْعٍ وَعِشْرِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو الْمُهَزِّمِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” شب قدر کو ، سترہویں انیسویں ، اکیسویں ، تیئسویں ، پچیسویں ، ستائیسویں ، یا انتیسویں رات میں تلاش کرو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابومہزم ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابومہزم ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 5044
وَعَنْ بِلَالٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةُ أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ " . ¤ قُلْتُ : لِبِلَالٍ فِي الصَّحِيحِ : أَنَّهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بلال رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” شب قدر ، جو بیسویں رات ہوتی ہے “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ” صحیح “ میں یہ حدیث منقول ہے ( یعنی شب قدر ) آخری عشرے میں ہوتی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ” صحیح “ میں یہ حدیث منقول ہے ( یعنی شب قدر ) آخری عشرے میں ہوتی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 5045
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَ مُتَحَرِّيهَا فَلْيَتَحَرَّهَا لَيْلَةَ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ " . وَقَالَ : تَحَرُّوهَا لَيْلَةَ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ " - يَعْنِي لَيْلَةَ الْقَدْرِ - قُلْتُ : لِابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اس کو تلاش کرنا چاہتا ہو وہ ستائیسویں رات میں تلاش کر یا آپ نے فرمایا : تم لوگ اسے ستائیسویں میں رات میں تلاش کرو ! راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد شب قدر تھی “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عننہما کے حوالے سے ” صحیح “ میں ایک حدیث منقول ہے ، جو اس کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عننہما کے حوالے سے ” صحیح “ میں ایک حدیث منقول ہے ، جو اس کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 5046
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أُتِيتُ وَأَنَا نَائِمٌ فِي رَمَضَانَ فَقِيلَ لِي : إِنَّ اللَّيْلَةَ لَيْلَةُ الْقَدْرِ . قَالَ : فَقُمْتُ وَأَنَا نَاعِسٌ فَتَعَلَّقْتُ بِبَعْضِ أَطْنَابِ [ فُسْطَاطِ ] رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ يُصَلِّي فَنَظَرْتُ فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ ، فَإِذَا هِيَ لَيْلَةُ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں رمضان کے مہینے میں سویا ہوا تھا میرے خواب میں کوئی آیا اور مجھے کہا: گیا کہ آج رات شب قدر ہے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں اٹھا میں اونگھ رہا تھا ۔ میں نے خیمے کی ایک رسی کو پکڑا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا خیمہ تھا پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کر رہے تھے ، میں نے اس رات کا جائزہ لیا تو وہ تئیسویں رات تھی ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 5047
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، إِنِّي شَيْخٌ كَبِيرٌ عَلِيلٌ ، فَمُرْنِي بِلَيْلَةٍ لَعَلَّ اللَّهَ يُوَفِّقُنِي فِيهَا لِلَيْلَةِ الْقَدْرِ . فَقَالَ : " عَلَيْكَ بِالسَّابِعَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! میں بوڑھا عمر رسیدہ بیمار شخص ہوں آپ مجھے کسی ایک رات کے بارے میں ہدایت کیجئے تاکہ اللہ تعالی مجھے اس رات شب قدر نصیب کر دے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم پر ساتویں رات لازم ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 5048
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ الْجُهَنِيَّ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَحْنُ حَيْثُ قَدْ عَلِمْتَ وَلَا نَسْتَطِيعُ أَنْ نَحْضُرَ هَذَا الشَّهْرَ فَأَخْبِرْنَا بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ . قَالَ : " احْضُرِ السَّبْعَ الْأَوَاخِرَ " . قَالَ : لَا أَسْتَطِيعُ ذَلِكَ . قَالَ : " الْتَمِسْهَا لَيْلَةَ سَابِعَةٍ تَبْقَى ، وَهِيَ هَذِهِ اللَّيْلَةُ " . قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذِهِ لَيْلَةُ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ وَهِيَ لِثَمَانٍ تَبْقَيْنَ ؟ قَالَ : " كَذَا هَذَا الشَّهْرُ يَنْقُصُ وَهِيَ سَبْعٌ تَبْقَيْنَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جہنی شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جیسا کہ آپ جانتے ہیں ہماری جو حالت ہے ، تو ہم اس مہینے میں ( پورا مہینہ ) حاضر نہیں ہو سکتے ہیں آپ ہمیں شب قدر کے بارے میں بتا دیجیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم آخری سات راتوں میں حاضر ہو جانا اس نے عرض کی : میں اس کی استطاعت نہیں رکھتا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اسے اس رات میں تلاش کرنا جو ساتویں رات باقی رہ گئی ہو ، اور وہ آج کی رات ہے راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آج تو تیئسویں رات ہے ابھی تو آٹھ راتیں باقی ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس طرح بھی ہوتا ہے مہینہ بھی کم ہو جاتا ہے ، تو پھر یہ سات راتیں باقی رہ جائیں گی “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 5049
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يُخْبِرَنَا بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ ، وَقَدْ أُخْبِرْنَا بِهِ فَسَمِعَ لَغَطًا فِي الْمَسْجِدِ فَاخْتُلِسَتْ مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَسَقَطَ مِنْهُ التَّابِعِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ کا ارادہ یہ تھا کہ ہمیں شب قدر کے بارے میں بتائیں گے آپ کو اس کے بارے میں بتایا گیا تھا آپ نے اس کے بارے میں بحث و تمحیص کی آواز سنی تو آپ سے اس کا علم لے لیا تھا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس میں تابعی ساقط ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس میں تابعی ساقط ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 5050
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ فَقَالَ : " كُنْتُ أُعْلِمْتُهَا ثُمَّ انْفَلَتَتْ مِنِّي فَاطْلُبُوهَا فِي سَبْعٍ يَبْقَيْنَ أَوْ ثَلَاثٍ يَبْقَيْنَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شب قدر کے بارے میں دریافت کیا گیا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : مجھے اس کے بارے میں علم دیا گیا تھا پھر وہ مجھ سے چلا گیا تو تم اسے باقی رہ جانے والی سات یا باقی رہ جانے والی تین راتوں میں تلاش کرو ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 5051
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فِي التَّاسِعَةِ وَالسَّابِعَةِ وَالْخَامِسَةِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تم اسے آخری عشرے میں نویں ساتویں اور پانچویں رات میں تلاش کرو “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 5052
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةٌ طَلْقَةٌ لَا حَارَّةٌ وَلَا بَارِدَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ سَلَمَةُ بْنُ وَهْرَامَ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” شب قدر معتدل رات ہوتی ہے نہ گرم ہوتی ہے نہ ٹھنڈی ہوتی ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی سلمہ بن وہرام ہے ۔ امام ابن حبان رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی سلمہ بن وہرام ہے ۔ امام ابن حبان رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 5053
وَعَنْ مَرْثَدٍ قَالَ : لَقِيتُ أَبَا ذَرٍّ عِنْدَ الْجَمْرَةِ الْوُسْطَى فَسَأَلْتُهُ : عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ ؟ فَقَالَ : مَا كَانَ أَحَدٌ بِأَسْأَلَ لَهَا مِنِّي . قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَزَلَتْ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ بِوَحْيٍ إِلَيْهِمْ ثُمَّ تُرْفَعُ ؟ قَالَ : " بَلْ هِيَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيَّتُهُنَّ هِيَ ؟ قَالَ : " لَوْ أُذِنَ لِي لَأَنْبَأْتُكَ بِهَا وَلَكِنِ الْتَمِسْهَا فِي التِّسْعِينَ وَالسَّبْعِينَ وَلَا تَسْأَلْنِي بَعْدَهَا " . قَالَ : ثُمَّ أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يُحَدِّثُ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فِي أَيِّ السَّبْعِينَ هِيَ ؟ فَغَضِبَ عَلَيَّ غَضْبَةً لَمْ يَغْضَبْ عَلَيَّ قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا مِثْلَهَا ثُمَّ قَالَ : " أَلَمْ أَنْهَكَ عَنْهَا ؟ لَوْ أُذِنَ لِي لَأَنْبَأْتُكَ بِهَا وَلَكِنْ . . " وَذَكَرَ كَلِمَةً " . . أَنْ تَكُونَ فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ . وَمَرْثَدٌ هَذَا لَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ أَبِيهِ مَالِكٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
مرشد بیان کرتے ہیں : درمیانی جمرہ کے قریب میری ملاقات سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے ہوئی میں نے ان سے شب قدر کے بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے فرمایا : اس کے بارے میں مجھ سے زیادہ کسی اور نے سوال نہیں کیا انہوں نے بتایا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا یہ رات انبیاء پر وحی کے ذریعے ان کی طرف نازل ہوئی تھی اور پھر اٹھا لی گئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ۔ بلکہ یہ قیامت کے دن تک رہے گی میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ کون سی رات کو ہوتی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر مجھے اجازت ملی تو میں تمہیں اس کے بارے میں بتا دوں گا ، لیکن تم اسے نویں یا ساتویں رات میں تلاش کرو اور اس کے بعد تم مجھ سے سوال نہ کرنا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دوسری طرف متوجہ ہوئے اور بات چیت کرنے لگے میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! سات راتوں میں سے یہ کون سی ہوتی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھ پر اتنے غضبناک ہوئے کہ آپ اس سے پہلے اور اس کے بعد مجھ پر کبھی اتنے غضبناک نہیں ہوئے تھے پھر آپ نے ارشاد فرمایا : کیا میں نے تمہیں منع نہیں کیا کہ اگر مجھے اس کے بارے میں اجازت دی گئی تو میں تمہیں اس کے بارے میں بتا دوں گا البتہ ( اس کے بعد راوی نے ایک کلمہ ذکر کیا ہے ، جو عبارت میں ذکر نہیں ہوا ) یہ آخری سات راتوں میں ہو سکتی ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور مرثد نامی اس راوی سے اس کے باپ مالک کے علاوہ اور کسی نے روایت نقل نہیں کی ہے اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور مرثد نامی اس راوی سے اس کے باپ مالک کے علاوہ اور کسی نے روایت نقل نہیں کی ہے اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 5054
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَ النَّاسَ عَلَى الْمِنْبَرِ فِي رَمَضَانَ ، فَقَالَ : " قُمْتُ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ ، وَأَنَا أَعْلَمُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فِي لَيْلَةِ الْوِتْرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْمَدَنِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے آپ نے رمضان کے مہینے میں منبر پر خطبہ ارشاد فرمایا آپ نے فرمایا : جب میں اس منبر پر کھڑا ہوا اس وقت مجھے شب قدر کا علم تھا تم اسے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن یحیی مدنی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن یحیی مدنی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 5055
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَ النَّاسَ عَلَى الْمِنْبَرِ فِي رَمَضَانَ ، فَقَالَ : " قُمْتُ عَلَى الْمِنْبَرِ ، وَأَنَا أَعْلَمُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فِي وِتْرٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ : عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْمَدَنِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے آپ نے رمضان کے مہینے میں منبر پر خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : ” جب میں منبر پر کھڑا ہوا تھا ، تو مجھے شب قدر کے بارے میں علم تھا ، تو تم اسے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن یحیی مدنی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن یحیی مدنی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 5056
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَقِيَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ : " رَمَيْتُ وَأَنَا أَعْلَمُ ، وَقَدْ عَلِمْتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فِي وَتْرٍ " رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، عَنْ حَمْدَةَ بِنْتِ عُبَيْدٍ عَنْ أُمِّهَا ، وَأُمُّهَا لَمْ أَعْرِفْهَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے آپ نے ارشاد فرمایا : ” جب میں ( منبر پر ) چڑھا تھا ، تو میں علم رکھتا تھا اور مجھے شب قدر کے بارے میں علم تھا ، تو تم اسے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں حمدہ بنت عبید کے حوالے سے ان کی والدہ سے نقل کی ہے ، اور ان کی والدہ سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں حمدہ بنت عبید کے حوالے سے ان کی والدہ سے نقل کی ہے ، اور ان کی والدہ سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 5057
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْتَمِسُوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ لَيْلَةَ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وِجَادَةً عَنْ خَطِّ أَبِيهِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” شب قدر کو ستائیسویں رات میں تلاش کرو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ابوبکر بن ابوشیبہ کے حوالے سے ” وجادہ “ کے طور پر ان کے والد کی تحریر سے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ابوبکر بن ابوشیبہ کے حوالے سے ” وجادہ “ کے طور پر ان کے والد کی تحریر سے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 5058
وَعَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ كَانَ يُحْيِي لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ مِنْ [ شَهْرِ ] رَمَضَانَ وَلَيْلَةَ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ وَلَا كَإِحْيَائِهِ لَيْلَةَ سَبْعَ عَشْرَةَ . فَقِيلَ لَهُ : كَيْفَ تُحْيِي لَيْلَةَ سَبْعَ عَشْرَةَ ؟ فَقَالَ : إِنَّ فِيهَا نَزَلَ الْقُرْآنُ ، وَفِي صَبِيحَتِهَا فُرِّقَ بَيْنَ الْحَقِّ وَالْبَاطِلِ ، وَكَانَ فِيهَا يُصْبِحُ مُبْهِجَ الْوَجْهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو بِلَالٍ الْأَشْعَرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
خارجہ بن زید بن ثابت اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : وہ رمضان کے مہینے کی تیئسویں رات اور ستائیسویں رات میں رات بھر عبادت کیا کرتے تھے ، لیکن جس طرح وہ ستر ہوئیں رات میں عبادت کرتے تھے اس طرح نہیں کرتے تھے ان سے کہا: گیا آپ سترہویں رات اہتمام کے ساتھ کیوں عبادت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا : یہ وہ رات ہے ، جس میں قرآن نازل ہوا جس کی اگلی صبح حق اور باطل کے درمیان فرق ہو گیا ( یعنی غزوہ بدر ہوا ) راوی کہتے ہیں : اس رات میں ان کی حالت یہ ہوتی تھی ، کہ ان کا چہرہ چمکدار ہوتا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوبلال اشعری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوبلال اشعری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 5059
وَعَنْ حَوْطٍ الْعَبْدِيِّ قَالَ : سَأَلْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ فَقَالَ : مَا أَشُكُّ وَمَا أَمْتَرِي أَنَّهَا سَبْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةَ أُنْزِلَ الْقُرْآنُ وَيَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . وَحَوْطٌ قَالَ الْبُخَارِيُّ : حَدِيثُهُ هَذَا مُنْكَرٌ . ¤
محمد محی الدین
حوط عبدی بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے شب قدر کے بارے میں سوال کیا ، تو انہوں نے فرمایا : مجھے اس بارے میں کوئی شک اور کوئی شبہ نہیں ہے کہ یہ سترہویں رات ہوتی ہے ، جس میں قرآن نازل ہوا اور جب دو گروہ ایک دوسرے کے سامنے آئے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ حوط نامی راوی کے بارے میں امام بخاری رحمہ اللہ نے یہ کہا: ہے : اس کی نقل کردہ یہ حدیث منکر ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ حوط نامی راوی کے بارے میں امام بخاری رحمہ اللہ نے یہ کہا: ہے : اس کی نقل کردہ یہ حدیث منکر ہے ۔
حدیث نمبر: 5060
وَعَنِ الْفَلْتَانِ بْنِ عَاصِمٍ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّا لَجُلُوسٌ نَنْتَظِرُهُ إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا ، وَفِي وَجْهِهِ الْغَضَبُ فَجَلَسَ طَوِيلًا لَا يَتَكَلَّمُ ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ فَقَالَ : " إِنِّي خَرَجْتُ إِلَيْكُمْ وَقَدْ تَبَيَّنَتْ لِي لَيْلَةُ الْقَدْرِ وَمَسِيحُ الضَّلَالَةِ فَخَرَجْتُ إِلَيْكُمْ لِأُبَيِّنَهَا ] لَكُمْ وَأُبَشِّرُكُمْ بِهَا ] فَلَقِيتُ فِي الْمَسْجِدِ رَجُلَيْنِ يَتَلَاحَيَانِ بَيْنَهُمَا الشَّيْطَانُ فَحَجَزْتُ بَيْنَهُمَا فَاخْتُلِسَتْ مِنِّي ، فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ . وَأَمَّا مَسِيحُ الضَّلَالَةِ فَإِنَّهُ أَجْلَحُ الْجَبْهَةِ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ عَرِيضُ النَّحْرِ فِيهِ دِمَاءُ ابْنِ الْعُزَّى أَوْ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ فُلَانٍ " . ¤ وَفِي رِوَايَةٍ : " أَمَّا لَيْلَةُ الْقَدْرِ فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا فلتان بن عاصم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ہم لوگ بیٹھے ہوئے آپ کا انتظار کر رہے تھے اسی دوران آپ ہمارے پاس تشریف لائے آپ کے چہرے پر غضب کے آثار تھے آپ کافی دیر بیٹھے رہے آپ نے اس دوران کوئی بات چیت نہیں کی پھر آپ کی یہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ نے ارشاد فرمایا : میں نکل کر تمہاری طرف آیا تو میرے لئے شب قدر واضح تھی اور گمراہی والا مسیح ( یعنی دجال ) واضح تھا میں تمہاری طرف نکل کر اس لئے آیا تھا تاکہ تمہیں اس کے بارے میں بتا دوں اور اس کے حوالے سے تمہیں اطلاع دے دوں ۔ مسجد میں دو آدمیوں سے میری ملاقات ہوئی جو ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑا کر رہے تھے اور ان کے درمیان شیطان موجود تھا ۔ میں نے ان دونوں کے درمیان جھگڑا ختم کروانا چاہا تو اس دوران مجھ سے وہ علم رخصت ہو گیا یہ ( شب قدر ) آخری عشرے میں ہو گی جہاں تک دجال کا تعلق ہے ، اور تو اس کی پیشانی کے بال اڑے ہوئے ہوں گے ، اس کی آنکھ پر ہاتھ پھیرا گیا ہو گا ( یعنی وہ کانا ہو گا ) اس کی گردن چوڑی ہو گی ، اور اس میں ابن عزی ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) عبدالعزی بن فلاں کا خون ( یعنی جھلک ) ہو گی ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” جہاں تک شب قدر کا تعلق ہے ، تو تم اسے آخری عشرے میں تلاش کرو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 5061
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْرِعًا وَنَحْنُ قُعُودٌ فَأَفْزَعْنَا سُرْعَتَهُ فَلَمَّا انْتَهَى إِلَيْنَا سَلَّمَ ثُمَّ قَالَ : " لَقَدْ أَقْبَلْتُ إِلَيْكُمْ لِأُخْبِرَكُمْ بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ فَنَسِيتُهَا فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ " . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ [ قَابُوسُ بْنُ أَبِي ظَبْيَانَ وَفِيهِ ] كَلَامٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تیزی سے چلتے ہوئے آئے ہم بیٹھے ہوئے تھے ۔ آپ کی تیزی نے ہمیں پریشان کر دیا جب آپ ہمارے پاس آئے ، تو آپ نے ہمیں سلام کیا ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : میں تم لوگوں کی طرف اس لئے آیا تھا تاکہ تمہیں شب قدر کے بارے میں بتاؤں پھر تمہارے پاس پہنچنے تک اسے بھول گیا “ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قابوس بن ابوظبیان ہے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اور اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قابوس بن ابوظبیان ہے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اور اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 5062
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخْبِرْنِي أَيُّ لَيْلَةٍ تُبْتَغَى فِيهَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ ؟ فَقَالَ : " لَوْلَا أَنْ تَتْرُكَ النَّاسُ الصَّلَاةَ إِلَّا تِلْكَ اللَّيْلَةَ لَأَخْبَرْتُكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے بتائیے کہ کون سی رات میں شب قدر کو تلاش کیا جانا چاہیے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ لوگ نماز پڑھنا ہی ترک کر دیں گے اور صرف اسی رات میں پڑھیں گے تو میں تمہیں بتا دیتا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 5063
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِي بَادِيَةً أُصَلِّي فِيهَا فَمُرْنِي بِلَيْلَةٍ أَنْزِلُهَا إِلَى الْمَسْجِدِ فَأُصَلِّي فِيهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " انْزِلْ لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن جحش اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ میں ویرانے میں رہتا ہوں اور وہاں نماز ادا کرتا ہوں آپ مجھے کسی مخصوص رات کے بارے میں ہدایت کر دیجیے تاکہ میں اس رات میں مسجد میں آ جاؤں گا ، اور وہاں نماز ادا کروں گا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم تئیسویں رات میں آ جانا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
حدیث نمبر: 5064
وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعْتَكِفًا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ ، فَلَمَّا أَنْ كَانَ لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ قَالَ : " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَقُومَ مَعَنَا هَذِهِ اللَّيْلَةَ فَلْيَقُمْ " . فَقَامَ بِنَا حَتَّى انْقَضَى ثُلُثُ اللَّيْلِ ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَمَشَيْتُ مَعَهُ حَتَّى أَتَى قُبَّتَهُ فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوْ قُمْتَ بِنَا هَذِهِ اللَّيْلَةَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " [ بِحَسْبِ امْرِئٍ ] أَنْ يَقُومَ مَعَ الْإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ يُحْسَبُ لَهُ قِيَامُ لَيْلَةٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيُّ وَثَّقَهُ دُحَيْمٌ ، وَضَعَّفَهُ الْأَئِمَّةُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کیے ہوئے تھے ، جب تیئسویں رات آئی تو آپ نے ارشاد فرمایا : جو شخص آج رات ہمارے ساتھ نوافل ادا کرنا چاہے وہ ادا کر لے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نوافل پڑھائے یہاں تک کہ ایک تہائی رات گزر گئی پھر آپ نے نماز ختم کی میں آپ کے ساتھ چلتا ہوا آپ کے خیمے تک آیا ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر آپ ہمیں اس رات میں نوافل پڑھاتے رہتے تو یہ مناسب تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : آدمی کے لئے اتنا ہی مناسب ہے کہ وہ امام کے ساتھ نوافل ادا کرے یہاں تک کہ جب امام نماز ختم کر دے ( تو آدمی بھی ختم کر دے ) تو یہ اس کے لئے پوری رات کے نوافل نوٹ کیے جائیں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن عطاء خراسانی ہے ، جسے دحیم نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور ائمہ نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن عطاء خراسانی ہے ، جسے دحیم نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور ائمہ نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 5065
وَعَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةٌ بُلْجَةٌ لَا حَارَّةٌ وَلَا بَارِدَةٌ وَلَا سَحَابَ فِيهَا وَلَا مَطَرَ وَلَا رِيحَ ، وَلَا يُرْمَى فِيهَا بِنَجْمٍ ، وَمِنْ عَلَامَةِ يَوْمِهَا تَطْلُعُ الشَّمْسُ لَا شُعَاعَ لَهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ بِشْرُ بْنُ عَوْنٍ عَنْ بَكَّارِ بْنِ تَمِيمٍ وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” شب قدر معتدل رات ہوتی ہے نہ گرم ہوتی ہے نہ ٹھنڈی ہوتی ہے نہ اس میں بادل ہوتا ہے نہ بارش ہوتی ہے ، اور نہ ہوا ہوتی ہے اس میں ستارہ نہیں ٹوٹتا اور اس کے اگلے دن کی نشانی یہ ہے کہ جب سورج نکلتا ہے ، تو اس میں شعاع نہیں ہوتی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بشر بن عون ہے اس نے بکار بن تمیم سے
یہ روایت نقل کی ہے ، اور یہ دونوں ضعیف ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بشر بن عون ہے اس نے بکار بن تمیم سے
یہ روایت نقل کی ہے ، اور یہ دونوں ضعیف ہیں ۔