مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيام— روزوں کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ . باب: آخری عشرے کا بیان
حدیث نمبر: 5030
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوقِظُ أَهْلَهُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ ، وَكُلَّ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ يُطِيقُ الصَّلَاةَ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَأَبُو يَعْلَى بِاخْتِصَارٍ عَنْهُ ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ قَاسِمٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَإِسْنَادُ أَبِي يَعْلَى حَسَنٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے مہینے کے آخری عشرے میں اپنے اہل خانہ کو ہر چھوٹے اور بڑے کو بیدار کرتے تھے جو نماز کی طاقت رکھتا تھا ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور امام ابویعلیٰ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ امام طبرانی کی سند میں ایک راوی عبدالغفار بن قاسم ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، اور امام ابویعلیٰ کی سند حسن ہے ۔