کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس شخص کا بیان ، جو اپنی عزت صدقہ کر دیتا ہے
حدیث نمبر: 4633
عَنْ عُلْبَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ : حَثَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الصَّدَقَةِ . فَقَامَ عُلْبَةُ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، حَثَثْتَ عَلَى الصَّدَقَةِ وَمَا عِنْدِي إِلَّا عِرْضِي فَقَدْ تَصَدَّقْتُ بِهِ عَلَى مَنْ ظَلَمَنِي . قَالَ : فَأَعْرَضَ عَنْهُ . قَالَ : فَلَمَّا كَانَ فِي الْيَوْمِ الثَّانِي قَالَ : " أَيْنَ عُلْبَةُ بْنُ زَيْدٍ ؟ أَوْ أَيْنَ الْمُتَصَدِّقُ بِعِرْضِهِ ؟ فَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَدْ قَبِلَ ذَلِكَ مِنْهُ " - أَوْ نَحْوَ هَذَا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ مَسْمُولٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علبہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کرنے کی ترغیب دی تو سیدنا علبہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے صدقہ دینے کی ترغیب دی ہے میرے پاس صرف میری عزت ہے میں اُسے اس شخص کے لئے صدقہ قرار دیتا ہوں جو میرے ساتھ زیادتی کرتا ہے ( یعنی مجھے برا بھلا کہتا ہے ، یا میری عزت اچھالتا ہے ) راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منہ موڑ لیا جب اگلا دن آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : علبہ بن زید کہاں ہے ؟ ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) اپنی عزت کو صدقہ کرنے والا شخص کہاں ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف سے اس کو قبول کر لیا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یا اس کی مانند کوئی کلمات آپ نے ارشاد فرمائے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سلیمان بن مسمول ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4633
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (959)»
حدیث نمبر: 4634
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَثَّ يَوْمًا عَلَى الصَّدَقَةِ فَقَامَ عُلْبَةُ بْنُ زَيْدٍ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا عِنْدِي إِلَّا عِرْضِي فَإِنِّي أُشْهِدُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنِّي تَصَدَّقْتُ بِعِرْضِي عَلَى مَنْ ظَلَمَنِي . ثُمَّ جَلَسَ قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَيْنَ عُلْبَةُ بْنُ زَيْدٍ ؟ " . قَالَهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً . قَالَ : فَقَامَ عُلْبَةُ فَقَالَ : " أَنْتَ الْمُتَصَدِّقُ بِعِرْضِكَ ، قَدْ قَبِلَ اللَّهُ مِنْكَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کرنے کی ترغیب دی تو سیدنا علبہ بن زید رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے پاس صرف یہ عزت ہے میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں اپنی عزت اس شخص کو صدقہ کرتا ہوں جو مجھ پر ظلم کرتا ہے پھر وہ بیٹھ گئے راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : علبہ بن زید کہاں ہے ؟ یہ بات آپ نے دو یا تین مرتبہ دریافت کی ، تو سیدنا علبہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم ہی وہ شخص جس نے اپنی عزت کو صدقہ کیا تھا اللہ تعالیٰ نے تمہاری طرف سے ( اس کو ) قبول کر لیا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن عبداللہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4634
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 4635
وَعَنْ أَبِي عَبْسِ بْنِ جَبْرٍ قَالَ : لَمَّا حَضَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الزَّكَاةِ قَالَ عُلْبَةُ بْنُ زَيْدٍ الْحَارِثِيُّ : اللَّهُمَّ أَنَّهُ لَيْسَ عِنْدِي شَيْءٌ أَتَصَدَّقُ بِهِ إِلَّا أَعْوَادٌ عَلَيْهَا شَجْبٌ مِنْ مَاءٍ وَوِسَادَةٌ حَشْوُهَا لِيفٌ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَتَصَدَّقُ بِعِرْضِي عَلَى مَنْ نَالَهُ مِنَ النَّاسِ . فَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى : " أَيْنَ الْمُتَصَدِّقُ بِعِرْضِهِ الْبَارِحَةَ ؟ " . فَصَمَتَ . ثُمَّ أَعَادَ ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً . ثُمَّ قَامَ عُلْبَةُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ نَظَرَ إِلَيْهِ : " أَلَا إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ قَبِلَ صَدَقَتَكَ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَبْسٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوعبس بن جبر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوۃ دینے کی ترغیب دی تو سیدنا علبہ بن زید حارثی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ ! میرے پاس ایسی کوئی چیز نہیں ہے ، جسے میں صدقہ کے طور پر دوں صرف کچھ لکڑیاں ہیں جس پر پانی کا مشکیزہ لٹکا ہوا ہے تکیہ ہے ، جس میں پتے بھرے ہوئے ہیں البتہ میں اپنی عزت اس شخص کو صدقہ کرتا ہوں جو اس کے درپے ہوتا ہے اگلے دن صبح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منادی کو حکم دیا اس نے اعلان کیا گزشتہ دن اپنی عزت کو صدقہ کرنے والا شخص کہاں ہے ، تو وہ خاموش رہے منادی نے دو یا شاید تین مرتبہ اعلان دہرایا تو سیدنا علبہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کی طرف دیکھا تو ارشاد فرمایا : اے ابومحمد ! اللہ تعالیٰ نے تمہارے صدقہ کو قبول کر لیا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالمجید بن محمد بن ابی عبس ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4635
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف