عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْجَابِرِ قَالَ : صَلَّيْتُ خَلْفَ عِيسَى - مَوْلًى لِحُذَيْفَةَ بِالْمَدَائِنِ - عَلَى جِنَازَةٍ ، فَكَبَّرَ خَمْسًا ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْنَا فَقَالَ : مَا وَهِمْتُ وَلَا نَسِيتُ ، وَلَكِنْ كَبَّرْتُ كَمَا كَبَّرَ مَوْلَايَ وَوَلِيُّ نِعْمَتِي حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ ، [ قَالَ ] : صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ فَكَبَّرَ خَمْسًا ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْنَا فَقَالَ : مَا نَسِيتُ وَلَا وَهِمْتُ ، وَلَكِنْ كَبَّرْتُ كَمَا كَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ فَكَبَّرَ خَمْسًا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَيَحْيَى الْجَابِرُ فِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
یحیی بن عبداللہ جابر بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے غلام عیسیٰ کے پیچھے مدائن میں نماز جنازہ ادا کی ، تو انہوں نے پانچ تکبیریں کہیں پھر وہ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : نہ تو مجھے وہم ہوا ہے ، اور نہ ہی میں بھولا ہوں ، لیکن میں نے اسی طرح تکبیر کہی ہے ، جس طرح میرے آقا اور میرے ولی نعمت سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہی تھی انہوں نے ایک نماز جنازہ پڑھاتے ہوئے پانچ تکبیریں کہی تھیں اور پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر یہ بولے : تھے کہ نہ تو میں بھولا ہوں اور نہ ہی میں وہم کا شکار ہوا ہوں بلکہ میں نے اس طرح تکبیر کہی ہے ، جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی تھی آپ نے ایک نماز جنازہ میں پانچ تکبیریں کہی تھیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ یحیی جابر نامی راوی کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ یحیی جابر نامی راوی کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ، أَنْ عَلِيًّا صَلَّى عَلَى سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ فَكَبَّرَ عَلَيْهِ سِتًّا ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْنَا فَقَالَ : إِنَّهُ بَدْرِيٌّ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالله بن معقل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھاتے ہوئے ان پر چھ تکبیریں کہی تھیں پھر وہ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور بولے : یہ بدری ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : لَا وَقْتَ وَلَا عَدَدَ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجِنَازَةِ ، يَعْنِي التَّكْبِيرَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نماز جنازہ کا نہ تو کوئی وقت ہے ، اور نہ ہی کوئی تعداد مقرر ہے ان کی مراد تکبیر تھی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَدْ كَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَبْعًا وَخَمْسًا وَأَرْبَعًا ، فَكَبَّرُ [ وا ] مَا كَبَّرَ الْإِمَامُ إِذَا قَدَّمْتُمُوهُ . ¤ َرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سات تکبیریں بھی کہی ہیں پانچ بھی کہی ہیں اور چار بھی کہی ہیں جب تم امام کو آگے کر دو تو امام جتنی تکبیریں کہے ، تو تم بھی اتنی کہہ دو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اور وہ حسن الحدیث ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اور وہ حسن الحدیث ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ ، فَكَبَّرَ تِسْعًا تِسْعًا ، ثُمَّ سَبْعًا سَبْعًا ، ثُمَّ أَرْبَعًا أَرْبَعًا ، حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ اُحد کے مقتولین کی نماز جنازہ ادا کرتے ہوئے نو ، نو تکبیریں کہیں پھر ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جنازہ میں ) سات ، سات تکبیریں کہیں پھر چار ، چار تکبیریں کہیں یہاں تک کہ آپ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُكَبِّرُ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ سَبْعَ تَكْبِيرَاتٍ ، وَعَلَى بَنِي هَاشِمٍ خَمْسَ تَكْبِيرَاتٍ ، ثُمَّ كَانَ آخِرُ صِلَاتِهِ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ حَتَّى خَرَجَ مِنَ الدُّنْيَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ فِيهِ نَافِعٌ أَبُو هُرْمُزَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي حَدِيثٌ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْغَائِبِ : أَنَّهُ كَبَّرَ عَلَى النَّجَاشِيِّ خَمْسَ تَكْبِيرَاتٍ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( نماز جنازہ پڑھاتے ہوئے ) اہل بدر پر سات تکبیریں کہیں تھیں بنوہاشم پر پانچ تکبیریں کہی تھیں اور آخری نماز جنازہ جو آپ نے پڑھائی تھی اس میں آپ نے چار تکبیریں کہی تھیں یہاں تک کہ آپ دنیا سے رخصت ہو گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نافع ابوہرمز ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : غائبانہ نماز جنازہ سے متعلق باب میں ایک حدیث آئے گی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نے نجاشی کی نماز جنازہ میں پانچ تکبیریں کہی تھیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نافع ابوہرمز ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : غائبانہ نماز جنازہ سے متعلق باب میں ایک حدیث آئے گی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نے نجاشی کی نماز جنازہ میں پانچ تکبیریں کہی تھیں ۔
وَعَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا كَفَّنَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُحْسِنْ كَفَنَهُ ، وَصَلُّوا عَلَى الْمَيِّتِ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ فِي اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سَوَاءً " . ¤ قُلْتُ : أَخْرَجْتُهُ لِقَوْلِهِ : " أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ " ، وَبَقِيَّتُهُ فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ ، وَعِنْدَ ابْنِ مَاجَهْ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب کوئی شخص اپنے بھائی کو کفن دے تو اس کو اچھا کفن دے اور تم رات یا دن میں میت کی نماز جنازہ ادا کرتے ہوئے چار تکبیریں کہو اس بارے رات اور دن کا حکم برابر ہے “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان الفاظ کو یہاں نقل کیا : ” چار تکبیریں “ اس کا بقیہ کچھ حصہ ” صحیح “ میں منقول ہے ، اور امام ابن ماجہ نے بھی اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان الفاظ کو یہاں نقل کیا : ” چار تکبیریں “ اس کا بقیہ کچھ حصہ ” صحیح “ میں منقول ہے ، اور امام ابن ماجہ نے بھی اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى عَلَى ابْنِهِ إِبْرَاهِيمَ فَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَرْزَمِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صاحبزادے سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھاتے ہوئے ان پر چار تکبیریں کہی تھیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبیداللہ عرزمی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبیداللہ عرزمی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى عَلَى ابْنِهِ إِبْرَاهِيمَ وَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صاحبزادے سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھائی تھی تو اس میں چار تکبیریں کہی تھیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن مالک بن مغول ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن مالک بن مغول ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : آخِرُ جِنَازَةٍ صَلَّى عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَبَّرَ عَلَيْهَا أَرْبَعًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ النَّضْرُ أَبُو عُمَرَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : وہ آخری نماز جنازہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائی تھی آپ نے اس میں چار تکبیریں کہی تھیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نضر ابوعمر ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نضر ابوعمر ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّ الْمَلَائِكَةَ غَسَّلَتْ آدَمَ وَكَبَّرَتْ عَلَيْهِ أَرْبَعًا ، وَقَالُوا : هَذِهِ سُنَّتُكُمْ يَا بَنِي آدَمَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ سَعْدٍ ، وَثَّقَهُ أَبُو نُعَيْمٍ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : ” فرشتوں نے سیدنا آدم علیہ السلام کو غسل دیا انہوں نے سیدنا آدم علیہ السلام پر چار تکبیریں کہیں اور انہوں نے یہ کہا: اے اولاد آدم یہ تمہارا مخصوص طریقہ ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن سعد ہے ، جسے امام ابونعیم اور دیگر حضرات نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن سعد ہے ، جسے امام ابونعیم اور دیگر حضرات نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔
وَعَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى عَلَى عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ ، وَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا ، وَقَامَ عَلَى قَبْرِهِ ، وَحَثَا فِيهِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعُمَرِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھاتے ہوئے آپ نے چار تکبیریں کہی تھیں آپ ان کی قبر پر کھڑے ہوئے تھے ، اور ان پر دونوں ہاتھ ملا کر تین لپ ( مٹی کے ) ڈالے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قاسم بن عبداللہ عمری ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قاسم بن عبداللہ عمری ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي عَطَاءٍ قَالَ : شَهِدْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْحَنَفِيَّةِ حِينَ مَاتَ ابْنُ عَبَّاسٍ بِالطَّائِفِ ، فَوَلِيَهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَنَفِيَّةِ وَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا ، وَأَخَذَهُ مِنْ قِبَلِ الْقِبْلَةِ حَتَّى أَدْخَلَهُ الْقَبْرَ ، وَضَرَبَ عَلَيْهِ فُسْطَاطًا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عمران بن ابوعطاء بیان کرتے ہیں : میں اس وقت سیدنا محمد بن حنفیہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ موجود تھا جب سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا طائف میں انتقال ہوا تھا سیدنا محمد بن حنفیہ رضی اللہ عنہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھاتے ہوئے چار تکبیریں کہی تھیں اور انہیں قبلہ کی طرف سے لے کر قبر میں اتارا تھا اور تین دن تک اس کی قبر پر خیمہ لگا کے رکھا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔