مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابُ التَّكْبِيرِ عَلَى الْجِنَازَةِ . باب: نماز جنازہ میں تکبیر کہنا
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُكَبِّرُ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ سَبْعَ تَكْبِيرَاتٍ ، وَعَلَى بَنِي هَاشِمٍ خَمْسَ تَكْبِيرَاتٍ ، ثُمَّ كَانَ آخِرُ صِلَاتِهِ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ حَتَّى خَرَجَ مِنَ الدُّنْيَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ فِيهِ نَافِعٌ أَبُو هُرْمُزَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي حَدِيثٌ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْغَائِبِ : أَنَّهُ كَبَّرَ عَلَى النَّجَاشِيِّ خَمْسَ تَكْبِيرَاتٍ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( نماز جنازہ پڑھاتے ہوئے ) اہل بدر پر سات تکبیریں کہیں تھیں بنوہاشم پر پانچ تکبیریں کہی تھیں اور آخری نماز جنازہ جو آپ نے پڑھائی تھی اس میں آپ نے چار تکبیریں کہی تھیں یہاں تک کہ آپ دنیا سے رخصت ہو گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نافع ابوہرمز ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : غائبانہ نماز جنازہ سے متعلق باب میں ایک حدیث آئے گی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نے نجاشی کی نماز جنازہ میں پانچ تکبیریں کہی تھیں ۔