مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابُ التَّكْبِيرِ عَلَى الْجِنَازَةِ . باب: نماز جنازہ میں تکبیر کہنا
وَعَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا كَفَّنَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُحْسِنْ كَفَنَهُ ، وَصَلُّوا عَلَى الْمَيِّتِ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ فِي اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سَوَاءً " . ¤ قُلْتُ : أَخْرَجْتُهُ لِقَوْلِهِ : " أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ " ، وَبَقِيَّتُهُ فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ ، وَعِنْدَ ابْنِ مَاجَهْ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب کوئی شخص اپنے بھائی کو کفن دے تو اس کو اچھا کفن دے اور تم رات یا دن میں میت کی نماز جنازہ ادا کرتے ہوئے چار تکبیریں کہو اس بارے رات اور دن کا حکم برابر ہے “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان الفاظ کو یہاں نقل کیا : ” چار تکبیریں “ اس کا بقیہ کچھ حصہ ” صحیح “ میں منقول ہے ، اور امام ابن ماجہ نے بھی اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔