کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: رات کے ابتدائی ، یا آخری حصے میں ، یا سونے سے پہلے وتر ادا کرنا
عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ كَانَ يُوتِرُ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ وَأَوْسَطِهِ وَآخِرِهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، زَادَ الطَّبَرَانِيُّ : فَأَيُّ ذَلِكَ فَعَلَ كَانَ صَوَابًا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابومسعود عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے ابتدائی حصے میں ، یا درمیانی حصے میں ، یا آخری حصے میں ( یعنی کسی بھی وقت میں ) وتر ادا کر لیتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ، امام طبرانی نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” آدمی اس میں سے جو بھی کر لے گا ، وہ درست ہو گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ، امام طبرانی نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” آدمی اس میں سے جو بھی کر لے گا ، وہ درست ہو گا “ ۔
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ يُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ لَا تَزِيدُ عَلَيْهَا ، قَالَ : فَيُقَالُ لَهُ : أَتُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ لَا تَزِيدُ عَلَيْهَا ( يَا أَبَا إِسْحَاقَ ) ؟ فَيَقُولُ : نَعَمْ ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " الَّذِي لَا يَنَامُ حَتَّى يُوتِرَ حَازِمٌ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى الْبُخَارِيُّ مِنْهُ : رَأَيْتُ سَعْدًا يُوتِرُ بِرَكْعَةٍ ، وَلَمْ يَذْكُرْ بَاقِيَهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں ، عشاء کی نماز ادا کی ، پھر ایک رکعت وتر ادا کی ، اس پر کوئی اضافہ نہیں کیا ، اُن سے دریافت کیا گیا : اے ابواسحاق ! کیا آپ نے ایک وتر ادا کیا ہے ؟ اس میں کوئی اضافہ نہیں کیا ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص وتر ادا کیے بغیر نہیں سوتا ، ( یعنی سونے سے پہلے وتر ادا کر لیتا ہے ) وہ حازم ( محتاط شخص ) ہے “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام بخاری رحمہ اللہ نے اس روایت کا یہ حصہ نقل کیا ہے : ” کہ میں نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو ایک رکعت وتر ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے “ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انہوں نے اس کا باقی حصہ ذکر نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام بخاری رحمہ اللہ نے اس روایت کا یہ حصہ نقل کیا ہے : ” کہ میں نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو ایک رکعت وتر ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے “ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انہوں نے اس کا باقی حصہ ذکر نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
وَعَنْ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ أَنَامَ إِلَّا عَلَى وِتْرٍ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس بات سے منع کیا تھا کہ میں وتر ادا کیے بغیر سو جاؤں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن شبیب ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن شبیب ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : سَأَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبَا بَكْرٍ فَقَالَ : " كَيْفَ تُوتِرُ ؟ " قَالَ : أُوتِرُ أَوَّلَ اللَّيْلِ قَالَ : " حَذِرٌ كَيِّسٌ " ثُمَّ سَأَلَ عُمَرَ : " كَيْفَ تُوتِرُ ؟ " قَالَ : مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ قَالَ : " قَوِيٌّ مُعَانٌ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْيَمَامِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا ، آپ نے فرمایا : تم کب وتر ادا کرتے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : میں رات کے ابتدائی حصے میں وتر ادا کر لیتا ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ ایک محتاط اور سمجھ دار شخص کا طریقہ ہے ، پھر آپ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : تم کب وتر ادا کرتے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : رات کے آخری حصے میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ ایک طاقتور اور ایسے شخص کا طریقہ ہے ، جس کی مدد کی گئی ہو ۔
یہ روایت امام بزار نے ، اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن داؤد یمامی ہے ، اور وہ انتہائی ” ضعیف“ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے ، اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن داؤد یمامی ہے ، اور وہ انتہائی ” ضعیف“ ہے ۔
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَأَلَ أَبَا بَكْرٍ : " مَتَى تُوتِرُ ؟ " قَالَ : أُصَلِّي مَثْنَى مَثْنَى ثُمَّ أُوتِرُ قَبْلَ أَنْ أَنَامَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مُؤْمِنٌ حَذِرٌ " فَقَالَ لِعُمَرَ : " كَيْفَ تُوتِرُ ؟ " فَقَالَ : " أُصَلِّي مَثْنَى مَثْنَى ثُمَّ أَنَامُ حَتَّى أُوتِرَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مُؤْمِنٌ قَوِيٌّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : تم کب وتر ادا کرتے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : میں دو ، دو رکعات ادا کرتا رہتا ہوں ، پھر سونے سے پہلے وتر ادا کر لیتا ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : یہ ایک محتاط مؤمن کا طریقہ ہے ، آپ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : تم کب وتر ادا کرتے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : میں دو ، دو رکعات ادا کرتا رہتا ہوں پھر میں سو جاتا ہوں ، یہاں تک کہ رات کے آخری حصے میں ( بیدار ہو کر ) وتر ادا کرتا ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ ایک طاقتور مؤمن کا طریقہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو وَأَبِي مُوسَى أَنَّهُمَا قَالَا : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُوتِرُ أَحْيَانًا أَوَّلَ اللَّيْلِ وَوَسَطَهُ لِيَكُونَ سَعَةً لِلْمُسْلِمِينَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ شَخْصٌ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات رات کے آخری حصے میں ، یا درمیانی حصے میں وتر ادا کر لیتے تھے ، تاکہ مسلمانوں کے لئے گنجائش ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس روایت کی سند میں ایک ایسا شخص ہے ، جو ضعیف الحدیث ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس روایت کی سند میں ایک ایسا شخص ہے ، جو ضعیف الحدیث ہے ۔
وَعَنْ ثُوَيْرِ بْنِ أَبِي فَاخِتَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُقَالُ لَهُ : أَبُو الْخَطَّابِ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْوِتْرِ قَالَ : " أَتُحِبُّ أَنْ أُوتِرَ نِصْفَ اللَّيْلِ ؟ إِنِّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَهْبِطُ مِنَ السَّمَاءِ الْعُلْيَا إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَقُولُ : هَلْ مِنْ سَائِلٍ ؟ هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ ؟ هَلْ مِنْ دَاعٍ ؟ حَتَّى إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ ارْتَفَعَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَثُوَيْرٌ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ثویر بن ابوفاختہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی ، جن کا نام سیدنا ابوخطاب رضی اللہ عنہ تھا ، ان کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے وتر کے بارے میں سوال کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ تم نصف رات کے وقت وتر ادا کرو ؟ بے شک اللہ تعالیٰ ( نصف رات کے وقت ) اوپر والے آسمان سے آسمان دنیا کی طرف اترتا ہے ، اور یہ فرماتا ہے : کیا کوئی سوال کرنے والا ہے ؟ کیا کوئی مغفرت طلب کرنے والا ہے ؟ کیا کوئی دعا کرنے والا ہے ؟ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) ایسا صبح صادق تک ہوتا رہتا ہے ، جب صبح صادق ہو جائے ، تو وہ اوپر چلا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور ثویر نامی راوی ” ضعیف “ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور ثویر نامی راوی ” ضعیف “ ہے ۔
وَعَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ : أَخْبِرْنَا مَتَى كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُوتِرُ ؟ قَالَ : إِذَا بَقِيَ مِنَ اللَّيْلِ نَحْوٌ مِمَّا مَضَى مِنْهُ إِلَى صَلَاةِ الْمَغْرِبِ ، فَسَأَلُوهُ عَنْ قِرَاءَتِهِ فَقَالَ : كَانَ يُسْمِعُ أَهْلَ الدَّارِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
علقمہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا: آپ ہمیں بتائیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وتر کب ادا کرتے تھے ؟ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : جب رات کا تقریباً اتنا حصہ باقی رہ جاتا تھا ، جتنا حصہ اُس سے پہلے مغرب کی نماز تک گزر چکا ہوتا تھا ، ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کے بارے میں دریافت کیا : تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بتایا : وہ اتنی بلند ہوتی تھی کہ گھر کے افراد سن لیتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن محمد بن حسن ہے ، میں اُس سے واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن محمد بن حسن ہے ، میں اُس سے واقف نہیں ہوں ۔
وَعَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ قَالَ : أَشْهَدُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَلَقَدْ سَمِعْتُهُ يُنَادِي بِهَا نِدَاءً : الْوِتْرُ ( مَا بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ ) صَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ الَّتِي تُسَمُّونَ الْعَتْمَةَ وَصَلَاةِ الْفَجْرِ مَتَى أَوْتَرْتَ فَحَسَنٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
اسود بن ہلال بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں گواہی دے کر یہ بات کہتا ہوں کہ میں نے انہیں بلند آواز میں پکار کر یہ کہتے ہوئے سنا ہے : وتر دو نمازوں کے درمیان میں ادا کیے جائیں گے ، عشاء کی نماز جسے تم ” عتمہ “ کہتے ہو ، اور فجر کی نماز ( ان دو نمازوں کے درمیان میں ) تم جس وقت بھی وتر ادا کر لو گے ، یہ اچھا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ عَبْدِ خَيْرٍ قَالَ : كُنَّا فِي الْمَسْجِدِ فَخَرَجَ عَلَيْنَا عَلِيٌّ فِي آخِرِ اللَّيْلِ فَقَالَ : أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ الْوِتْرِ ؟ فَاجْتَمَعْنَا إِلَيْهِ ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَوْتَرَ أَوَّلَ اللَّيْلِ ، ثُمَّ أَوْتَرَ وَسَطَهُ ، ثُمَّ أَوْتَرَ هَذِهِ السَّاعَةَ فَقُبِضَ وَهُوَ يُوتِرُ هَذِهِ السَّاعَةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو شَيْبَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
عبدخیر بیان کرتے ہیں : ہم لوگ مسجد میں موجود تھے ، رات کے آخری حصے میں ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے ، آپ نے ارشاد فرمایا : وتر کے بارے میں دریافت کرنے والا شخص کہاں ہے ؟ ہم آپ کے پاس اکھٹے ہو گئے ، تو آپ نے یہ بات ارشاد فرمائی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے ابتدائی حصے میں بھی وتر ادا کر لیتے تھے ، اس کے درمیانی حصے میں بھی وتر ادا کر لیتے تھے ، اور اس گھڑی میں ( یعنی رات کے آخری حصے میں بھی ) وتر ادا کر لیتے تھے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا ، تو آپ اس گھڑی میں وتر ادا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوشیبہ ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوشیبہ ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّهُ كَانَ يَخْرُجُ حِينَ يُؤَذِّنُ ابْنُ الْتَيَّاحِ عِنْدَ الْفَجْرِ الْأَوَّلِ فَيَقُولُ : نِعْمَ سَاعَةُ الْوِتْرِ هَذِهِ وَيَتَأَوَّلُ هَذِهِ الْآيَةَ : وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ الْجَفْرِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ اس وقت نکلے ، جب صبح صادق کے وقت ، ابن تیاح نے انہیں بلایا سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : وتر کی بہترین ساعت یہ ہے ، انہوں نے قرآن کے اس حکم پر عمل کرتے ہوئے ، یہ بات کہی ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اور صبح کی قسم ہے ، جب اس کی روشنی آنے لگے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسن بن ابوجعفر جعفری ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسن بن ابوجعفر جعفری ہے ، اور وہ متروک ہے ۔