حدیث نمبر: 3477
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : سَأَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبَا بَكْرٍ فَقَالَ : " كَيْفَ تُوتِرُ ؟ " قَالَ : أُوتِرُ أَوَّلَ اللَّيْلِ قَالَ : " حَذِرٌ كَيِّسٌ " ثُمَّ سَأَلَ عُمَرَ : " كَيْفَ تُوتِرُ ؟ " قَالَ : مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ قَالَ : " قَوِيٌّ مُعَانٌ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْيَمَامِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا ، آپ نے فرمایا : تم کب وتر ادا کرتے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : میں رات کے ابتدائی حصے میں وتر ادا کر لیتا ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ ایک محتاط اور سمجھ دار شخص کا طریقہ ہے ، پھر آپ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : تم کب وتر ادا کرتے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : رات کے آخری حصے میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ ایک طاقتور اور ایسے شخص کا طریقہ ہے ، جس کی مدد کی گئی ہو ۔
یہ روایت امام بزار نے ، اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن داؤد یمامی ہے ، اور وہ انتہائی ” ضعیف“ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3477
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً