حدیث نمبر: 3475
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ يُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ لَا تَزِيدُ عَلَيْهَا ، قَالَ : فَيُقَالُ لَهُ : أَتُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ لَا تَزِيدُ عَلَيْهَا ( يَا أَبَا إِسْحَاقَ ) ؟ فَيَقُولُ : نَعَمْ ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " الَّذِي لَا يَنَامُ حَتَّى يُوتِرَ حَازِمٌ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى الْبُخَارِيُّ مِنْهُ : رَأَيْتُ سَعْدًا يُوتِرُ بِرَكْعَةٍ ، وَلَمْ يَذْكُرْ بَاقِيَهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں ، عشاء کی نماز ادا کی ، پھر ایک رکعت وتر ادا کی ، اس پر کوئی اضافہ نہیں کیا ، اُن سے دریافت کیا گیا : اے ابواسحاق ! کیا آپ نے ایک وتر ادا کیا ہے ؟ اس میں کوئی اضافہ نہیں کیا ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص وتر ادا کیے بغیر نہیں سوتا ، ( یعنی سونے سے پہلے وتر ادا کر لیتا ہے ) وہ حازم ( محتاط شخص ) ہے “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام بخاری رحمہ اللہ نے اس روایت کا یہ حصہ نقل کیا ہے : ” کہ میں نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو ایک رکعت وتر ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے “ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انہوں نے اس کا باقی حصہ ذکر نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3475
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح