کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: جو شخص وتر ادا کرے ، اور پھر ( نفل ) نماز ادا کرنے کا ارادہ کرے
عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا سُئِلَ عَنِ الْوِتْرِ قَالَ : أَمَّا أَنَا فَلَوْ أَوْتَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَنَامَ ثُمَّ أَرَدْتُ أَنْ أُصَلِّيَ بِاللَّيْلِ شَفَعْتُ بِوَاحِدَةٍ مَا مَضَى مِنْ وِتْرِي ثُمَّ صَلَّيْتُ مَثْنَى مَثْنَى فَإِذَا قَضَيْتُ صَلَاتِي أَوْتَرْتُ بِوَاحِدَةٍ ( إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَنْ يُجْعَلَ آخِرَ صَلَاةِ اللَّيْلِ الْوِتْرُ ) . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے ، جب اُن سے وتر کے بارے میں سوال کیا گیا ، تو انہوں نے ارشاد فرمایا : اگر میں نے سونے سے پہلے وتر ادا کر لیے ہوں ، اور پھر میں رات کے وقت نماز ادا کرنے کا ارادہ کروں ، تو میں نے جو وتر ادا کیے تھے ، ایک رکعت کے ذریعے انہیں جفت کر لیتا ہوں ، پھر دو ، دو کر کے نماز ادا کرتا رہتا ہوں ، جب اپنی نماز مکمل کر لیتا ہوں تو ایک رکعت وتر ادا کر لیتا ہوں ، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا کہ رات کی نماز کا آخری حصہ وتر کو بنایا جائے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ، اور وہ ” ثقہ “ ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ، اور وہ ” ثقہ “ ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ كَانَ يَقُولُ : إِذَا أَوْتَرَ أَحَدُكُمْ ثُمَّ نَامَ فَقَامَ فَلْيَقْضِ وِتْرَهُ فَلْيُصَلِّ لَهَا أُخْرَى ثُمَّ لِيُوتِرْ بَعْدَ ذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَعَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ فِيهِ كَلَامٌ لِاخْتِلَاطِهِ . ¤
محمد محی الدین
عطاء بن سائب نے ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے کئی شاگردوں کے حوالے سے ، یہ بات نقل کی ہے : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب کوئی شخص وتر ادا کرنے کے بعد سو جائے ، اور پھر وہ بیدار ہو تو ، اسے اپنے سابقہ وتر کو کالعدم کرنا چاہیے اور اس کے ساتھ دوسری رکعت ملا لینی چاہیے ، پھر اس کے بعد ( نوافل مکمل کرنے کے بعد ) وتر ادا کرنے چاہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، عطاء بن سائب نامی راوی کے بارے میں اس کے اختلاط کا شکار ہونے کے حوالے سے کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، عطاء بن سائب نامی راوی کے بارے میں اس کے اختلاط کا شکار ہونے کے حوالے سے کلام کیا گیا ہے ۔
وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ فَقَالَ : " إِنَّ هَذَا السَّفَرَ جُهْدٌ وَثِقَلٌ فَإِذَا أَوْتَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ فَإِنِ اسْتَيْقَظَ وَإِلَّا كَانَتَا لَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہ سفر مشقت اور بوجھ کا باعث ہے ، جب کوئی شخص وتر ادا کر لے ، تو اسے دو رکعات ادا کرنی چاہیں ، اگر وہ بیدار ہو گیا تو ٹھیک ہے ، ورنہ وہ دونوں اُس کے لئے ہوں گی“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح کاتب لیث ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح کاتب لیث ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔