مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ الْوِتْرِ أَوَّلَ اللَّيْلِ وَآخِرَهُ وَقَبْلَ النَّوْمِ . باب: رات کے ابتدائی ، یا آخری حصے میں ، یا سونے سے پہلے وتر ادا کرنا
وَعَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ : أَخْبِرْنَا مَتَى كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُوتِرُ ؟ قَالَ : إِذَا بَقِيَ مِنَ اللَّيْلِ نَحْوٌ مِمَّا مَضَى مِنْهُ إِلَى صَلَاةِ الْمَغْرِبِ ، فَسَأَلُوهُ عَنْ قِرَاءَتِهِ فَقَالَ : كَانَ يُسْمِعُ أَهْلَ الدَّارِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤علقمہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا: آپ ہمیں بتائیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وتر کب ادا کرتے تھے ؟ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : جب رات کا تقریباً اتنا حصہ باقی رہ جاتا تھا ، جتنا حصہ اُس سے پہلے مغرب کی نماز تک گزر چکا ہوتا تھا ، ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کے بارے میں دریافت کیا : تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بتایا : وہ اتنی بلند ہوتی تھی کہ گھر کے افراد سن لیتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن محمد بن حسن ہے ، میں اُس سے واقف نہیں ہوں ۔