مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ الْوِتْرِ أَوَّلَ اللَّيْلِ وَآخِرَهُ وَقَبْلَ النَّوْمِ . باب: رات کے ابتدائی ، یا آخری حصے میں ، یا سونے سے پہلے وتر ادا کرنا
وَعَنْ ثُوَيْرِ بْنِ أَبِي فَاخِتَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُقَالُ لَهُ : أَبُو الْخَطَّابِ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْوِتْرِ قَالَ : " أَتُحِبُّ أَنْ أُوتِرَ نِصْفَ اللَّيْلِ ؟ إِنِّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَهْبِطُ مِنَ السَّمَاءِ الْعُلْيَا إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَقُولُ : هَلْ مِنْ سَائِلٍ ؟ هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ ؟ هَلْ مِنْ دَاعٍ ؟ حَتَّى إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ ارْتَفَعَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَثُوَيْرٌ ضَعِيفٌ . ¤ثویر بن ابوفاختہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی ، جن کا نام سیدنا ابوخطاب رضی اللہ عنہ تھا ، ان کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے وتر کے بارے میں سوال کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ تم نصف رات کے وقت وتر ادا کرو ؟ بے شک اللہ تعالیٰ ( نصف رات کے وقت ) اوپر والے آسمان سے آسمان دنیا کی طرف اترتا ہے ، اور یہ فرماتا ہے : کیا کوئی سوال کرنے والا ہے ؟ کیا کوئی مغفرت طلب کرنے والا ہے ؟ کیا کوئی دعا کرنے والا ہے ؟ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) ایسا صبح صادق تک ہوتا رہتا ہے ، جب صبح صادق ہو جائے ، تو وہ اوپر چلا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور ثویر نامی راوی ” ضعیف “ ہے ۔