عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : أَوْصَانِي خَلِيلِي - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِثَلَاثٍ : بِصَوْمِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ، وَالْوَتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ ، وَرَكْعَتَيِ الْفَجْرِ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ خَلَا قَوْلَهُ : وَرَكْعَتَيِ الْفَجْرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے خلیل ( یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) نے مجھے تین باتوں کی تلقین کی تھی : ہر مہینے میں تین روزے رکھنا ، سونے سے پہلے وتر ادا کرنا ، اور فجر کی دو رکعات ( سنتیں ادا کرنا ) ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے فجر کی دو رکعات کا ذکر نہیں کیا
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے فجر کی دو رکعات کا ذکر نہیں کیا
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ يَنْفَعُنِي اللَّهُ بِهِ ؟ قَالَ : " عَلَيْكَ بِرَكْعَتَيِ الْفَجْرِ فَإِنَّ فِيهِمَا فَضِيلَةً " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْبَيْلَمَانِيِّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کسی ایسے عمل کی طرف رہنمائی کیجئے ! جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ مجھے نفع عطا کرے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم پر فجر کی دو رکعات ( سنتوں کو ) ادا کرنا لازم ہے ، کیونکہ ان دونوں میں فضیلت پائی جاتی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن بیلمانی ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن بیلمانی ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا تَدَعُوا الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ فَإِنَّ فِيهِمَا الرَّغَائِبَ " . ¤ وَسُمْعَتُهُ يَقُولُ : " لَا تَنْتَفِيَنَّ مِنْ وَلَدِكَ فَيَفْضَحَكَ اللَّهُ عَلَى رُؤُوسِ الْخَلَائِقِ كَمَا فَضَحْتَهُ فِي الدُّنْيَا " . ¤ وَسُمْعَتُهُ يَقُولُ : " لَا تَمُوتَنَّ وَعَلَيْكَ دَيْنٌ فَإِنَّمَا هِيَ الْحَسَنَاتُ وَالسَّيِّئَاتُ لَيْسَ ثَمَّ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ جَزَاءً وَقَضَاءً ، وَلَيْسَ يَظْلِمُ اللَّهُ أَحَدًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ يَحْيَى وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَرَوَى أَحْمَدُ مِنْهُ : " وَرَكْعَتَيِ الْفَجْرِ حَافِظُوا عَلَيْهِمَا فَإِنَّ فِيهِمَا الرَّغَائِبَ " ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” فجر کی نماز سے پہلے کی نماز کی ( سنتوں ) کو تم لوگ ترک نہ کرنا ، کیونکہ ان دونوں میں رغبت پائی جاتی ہے “ ۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بھی ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” تم اپنی اولاد کی نفی نہ کرنا ، ورنہ اللہ تعالیٰ تمہیں تمام مخلوق کے سامنے اُسی طرح رسوائی کا شکار کرے گا ، جس طرح تم نے اس اولاد کی دنیا میں رُسوا کیا ہو گا“ ۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بھی ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” تم ایسی حالت میں نہ مرنا کہ تمہارے ذمہ قرض ہو ، کیونکہ آخرت میں نیکیوں اور برائیوں کا لین دین ہو گا ، وہاں دینار یا درہم تو نہیں ہو گا ، جزا اور سزا دونوں میں ( نیکیوں اور برائیوں کا لین دین ہو گا ) اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن یحیی ہے وہ ” ضعیف“ ہے امام أحمد نے اس کا یہ حصہ نقل کیا ہے : ” فجر کی دو رکعات کو تم باقاعدگی سے ادا کرنا ، کیونکہ ان میں رغبت پائی جاتی ہے “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن یحیی ہے وہ ” ضعیف“ ہے امام أحمد نے اس کا یہ حصہ نقل کیا ہے : ” فجر کی دو رکعات کو تم باقاعدگی سے ادا کرنا ، کیونکہ ان میں رغبت پائی جاتی ہے “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ۔
وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ صَنْعَاءَ قَالَ : كُنَّا بِمَكَّةَ فَجَلَسْنَا إِلَى عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ إِلَى جَنْبِ جِدَارِ الْمَسْجِدِ فَلَمْ نَسْأَلْهُ وَلَمْ يُحَدِّثْنَا قَالَ : ثُمَّ جَلَسْنَا إِلَى ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - مِثْلَ مَجْلِسِكُمْ هَذَا فَلَمْ نَسْأَلْهُ وَلَمْ يُحَدِّثْنَا فَقَالَ : مَا لَكُمْ لَا تَكَلَّمُونَ وَلَا تَذْكُرُونَ اللَّهَ ؟ قُولُوا : اللَّهُ أَكْبَرُ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ بِوَاحِدٍ عَشْرٌ وَبِعَشْرٍ مِائَةٌ مَنْ زَادَ زَادَهُ اللَّهُ وَمَنْ سَكَتَ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ ، أَلَا أُخْبِرُكُمْ خَمْسًا سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قُلْنَا : بَلَى ، قَالَ : " وَرَكْعَتَيِ الْفَجْرِ حَافِظُوا عَلَيْهِمَا فَإِنَّ فِيهِمَا الرَّغَائِبَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
صنعاء سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب بیان کرتے ہیں : میں مکہ میں موجود تھا ہم لوگ عطاء خراسانی کے پاس ایک مسجد کی دیوار کے پہلو میں بیٹھے ہوئے تھے ، نہ تو ہم نے اُن سے کوئی سوال کیا ، اور نہ ہی اُنہوں نے ہمیں کوئی حدیث بیان کی ، راوی بیان کرتے ہیں : پھر ہم لوگ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آ کر بیٹھے ، جس طرح تم لوگ بیٹھے ہوئے ہو ، ہم نے ان سے بھی کوئی سوال نہیں کیا ، اور انہوں نے بھی ہمیں کوئی حدیث بیان نہیں کی ، پھر انہوں نے ارشاد فرمایا : کیا وجہ ہے ؟ تم لوگ کیوں بات نہیں کر رہے ہو ؟ تم اللہ تعالیٰ کا ذکر کیوں نہیں کر رہے ؟ تم لوگ کہو : «الله اكبر» اور «سبحان الله و بحمده» ایک کے بدلے میں دس ہوں گے ، دس کے بدلے میں سو ہوں گے ، جو شخص زیادہ کرے گا ، تو اللہ تعالیٰ اسے مزید اجر و ثواب عطا کرے گا ، جو شخص خاموش رہے ، تو اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کرے ، کیا میں تمہیں پانچ چیزوں کے بارے میں نہ بتاؤں ، جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہیں ؟ ہم نے عرض کی : جی ہاں ! سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بتایا : ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا : ) ” فجر کی دو رکعات کو تم باقاعدگی سے ادا کرنا ، کیونکہ ان دونوں میں رغبت پائی جاتی ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ، جسے امام ابوداؤد نے بھی روایت کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ، جسے امام ابوداؤد نے بھی روایت کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ ، وَقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ تَعْدِلُ رُبُعَ الْقُرْآنِ " وَكَانَ يَقْرَأُ بِهِمَا فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ ، وَقَالَ : " هَاتَانِ الرَّكْعَتَانِ فِيهِمَا رَغَبُ الدَّهْرِ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى لَهُ التِّرْمِذِيُّ الْقِرَاءَةَ بِهِمَا فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ وَقَالَ : عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ : عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : «قل هو الله احد» ایک تہائی قرآن کے برابر ہے ، اور ” «قل يا ايهاالكافرون» “ ایک چوتھائی قرآن کے برابر ہے “ ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دونوں سورتیں فجر کی دو رکعات ( سنتوں میں ) پڑھا کرتے تھے ، اور یہ ارشاد فرماتے تھے : ان دو رکعات میں ہمیشہ رغبت پائی جاتی ہے “ ۔
میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس صحابی کے حوالے سے ، فجر کی دو رکعات میں دونوں سورتوں کی تلاوت کرنے سے متعلق روایت نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : یہ ابومحمد کے حوالے سے ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے ، جب کہ امام طبرانی فرماتے ہیں : یہ مجاہد کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے ، امام ابویعلیٰ کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس صحابی کے حوالے سے ، فجر کی دو رکعات میں دونوں سورتوں کی تلاوت کرنے سے متعلق روایت نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : یہ ابومحمد کے حوالے سے ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے ، جب کہ امام طبرانی فرماتے ہیں : یہ مجاہد کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے ، امام ابویعلیٰ کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقْرَأُ فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ : قُلْ يَاأَيُّهَا الْكَافِرُونَ ، وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی دو رکعات ( سنتوں میں ) سورہ الکافرون اور سورہ اخلاص کی تلاوت کیا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔
وَلِأَنَسٍ عِنْدَ الْبَزَّارِ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْوَتْرِ يَقْرَأُ فِيهِمَا : قُلْ يَاأَيُّهَا الْكَافِرُونَ ، وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ وَإِنْ كَانَ فِي الثَّانِي عُتْبَةُ بْنُ أَبِي حَلِيمٍ وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ ضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ .
محمد محی الدین
امام بزار نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وتر کے بعد جو دو رکعات ادا کرتے تھے ، اُن میں سورت الکافرون اور سورت اخلاص کی تلاوت کیا کرتے تھے ۔ ان دونوں روایات کے رجال ” ثقہ “ ہیں ، اگرچہ دوسری روایت کی سند میں ایک راوی عتبہ بن ابوحلیم ہے ، وہ ” ثقہ “ ہے ، لیکن امام نسائی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا صَلَاةَ قَبْلَ الْفَجْرِ إِلَّا رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ ، وَاخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” فجر ( کی فرض نماز ) سے پہلے کوئی اور نماز ادا نہیں کی جائے گی ، صرف فجر کی دو رکعات ( سنتیں ) ادا کی جائیں گی “ ۔
یہ روایت بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زیاد بن انعم ہے ، جس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔
یہ روایت بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زیاد بن انعم ہے ، جس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ فَلَا صَلَاةَ إِلَّا رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قَيْسٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب صبح صادق ہو جائے ، تو پھر فجر کی دو رکعات ( سنتوں ) کے علاوہ کوئی اور ( نفل ) نماز ادا نہیں کی جائے گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن قیس ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن قیس ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا صَلَّى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُ الطَّبَرَانِيِّ لَيْسَ فِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَهُوَ فِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ وَإِنْ كَانَ اخْتُلِفَ فِي حُيَيِّ الْمُعَافِرِيِّ فَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب فجر کی دو رکعات ( سنتیں ) ادا کر لیتے تھے ، تو دائیں پہلو کے بل لیٹ جاتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ابن لہیعہ نامی راوی نہیں ہے ، وہ امام أحمد کی سند میں ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اگرچہ حیی معافری کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ، لیکن اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ابن لہیعہ نامی راوی نہیں ہے ، وہ امام أحمد کی سند میں ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اگرچہ حیی معافری کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ، لیکن اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ ثُمَّ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَرَبَّ إِسْرَافِيلَ وَرَبَّ مُحَمَّدٍ أَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ " ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى صَلَاتِهِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر سے پہلے دو رکعات ( سنتیں ) ادا کرتے تھے ، پھر یہ دعا کرتے تھے : ” اے اللہ ! اے جبرائیل و میکائیل کے پروردگار ! اسرافیل کے پروردگار ! سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پروردگار ! میں جہنم سے تیری پناہ مانگتا ہوں “ ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے تشریف لے جاتے تھے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن ابوحمید ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن ابوحمید ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنِ أُسَامَةَ بْنِ عُمَيْرٍ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ فَصَلَّى قَرِيبًا مِنْهُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " رَبَّ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَإِسْرَافِيلَ وَمُحَمَّدٍ أَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ " - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ الذَّهَبِيُّ : عَبَّادُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مُبَشِّرٍ لَا شَيْءَ ، قُلْتُ : قَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اسامہ بن عمیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فجر کی دو رکعات ادا کیں ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب نماز ادا کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مختصر رکعت ادا کی تھیں ، راوی بیان کرتے ہیں : میں نے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا : ” اے جبرائیل ، میکائیل ، اسرافیل اور سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پروردگار ! میں جہنم سے تیری پناہ مانگتا ہوں“ ۔ یہ کلمات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ پڑھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عباد بن سعید ہے ، امام ذہبی فرماتے ہیں : عباد بن سعید نے مبشر سے روایات نقل کی ہیں ، یہ کوئی چیز نہیں ہے ، میں یہ کہتا ہوں : ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات“ میں کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عباد بن سعید ہے ، امام ذہبی فرماتے ہیں : عباد بن سعید نے مبشر سے روایات نقل کی ہیں ، یہ کوئی چیز نہیں ہے ، میں یہ کہتا ہوں : ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات“ میں کیا ہے ۔
وَعَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : كَانَ عَزِيزًا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنْ يَتَكَلَّمَ ( بَعْدَ الْفَجْرِ ) إِلَّا بِذِكْرِ اللَّهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ : أَنَّهُ كَانَ يَعِزُّ عَلَيْهِ أَنْ يَسْمَعَ مُتَكَلِّمًا بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ إِلَى أَنْ يُصَلِّيَ الصُّبْحَ . ¤
محمد محی الدین
ابوعبیدہ بن عبداللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فجر کے بعد کلام کرنے کو پسند نہیں کرتے تھے ، وہ صرف اللہ کا ذکر کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، ابوعبیدہ نامی راوی نے اپنے والد سے سماع نہیں کیا ہے ، اس روایت کے بقیہ راوی ” ثقہ “ ہیں ، ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” انہیں یہ بات ناگوار گزرتی تھی کہ صبح صادق ہو جانے کے بعد سے لے کر ، صبح کی نماز ادا کرنے تک ، کسی کو کلام کرتے ہوئے سنیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، ابوعبیدہ نامی راوی نے اپنے والد سے سماع نہیں کیا ہے ، اس روایت کے بقیہ راوی ” ثقہ “ ہیں ، ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” انہیں یہ بات ناگوار گزرتی تھی کہ صبح صادق ہو جانے کے بعد سے لے کر ، صبح کی نماز ادا کرنے تک ، کسی کو کلام کرتے ہوئے سنیں “ ۔
وَعَنْ عَطَاءٍ قَالَ : خَرَجَ ابْنُ مَسْعُودٍ عَلَى قَوْمٍ يَتَحَدَّثُونَ بَعْدَ الْفَجْرِ فَنَهَاهُمْ عَنِ الْحَدِيثِ وَقَالَ : إِنَّمَا جِئْتُمْ لِلصَّلَاةِ فَإِمَّا أَنْ تُصَلُّوا وَإِمَّا أَنْ تَسْكُتُوا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَعَطَاءٌ لَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عطاء بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کچھ لوگوں کے پاس تشریف لائے ، جو فجر کی نماز کے بعد ( یا صبح صادق ہو جانے کے بعد ) آپس میں بات چیت کر رہے تھے ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے انہیں بات چیت کرنے سے منع کیا ، اور ارشاد فرمایا : تم لوگ نماز ادا کرنے کے لئے آئے ہو ، یا تو تم نماز ادا کرو ، یا پھر خاموش رہو !
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، عطاء نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، عطاء نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔