کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: فجر کی دو رکعاتوں کا بیان
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : أَوْصَانِي خَلِيلِي - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِثَلَاثٍ : بِصَوْمِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ، وَالْوَتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ ، وَرَكْعَتَيِ الْفَجْرِ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ خَلَا قَوْلَهُ : وَرَكْعَتَيِ الْفَجْرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے خلیل ( یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) نے مجھے تین باتوں کی تلقین کی تھی : ہر مہینے میں تین روزے رکھنا ، سونے سے پہلے وتر ادا کرنا ، اور فجر کی دو رکعات ( سنتیں ادا کرنا ) ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے فجر کی دو رکعات کا ذکر نہیں کیا
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3301
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ يَنْفَعُنِي اللَّهُ بِهِ ؟ قَالَ : " عَلَيْكَ بِرَكْعَتَيِ الْفَجْرِ فَإِنَّ فِيهِمَا فَضِيلَةً " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْبَيْلَمَانِيِّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کسی ایسے عمل کی طرف رہنمائی کیجئے ! جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ مجھے نفع عطا کرے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم پر فجر کی دو رکعات ( سنتوں کو ) ادا کرنا لازم ہے ، کیونکہ ان دونوں میں فضیلت پائی جاتی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن بیلمانی ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3302
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا تَدَعُوا الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ فَإِنَّ فِيهِمَا الرَّغَائِبَ " . ¤ وَسُمْعَتُهُ يَقُولُ : " لَا تَنْتَفِيَنَّ مِنْ وَلَدِكَ فَيَفْضَحَكَ اللَّهُ عَلَى رُؤُوسِ الْخَلَائِقِ كَمَا فَضَحْتَهُ فِي الدُّنْيَا " . ¤ وَسُمْعَتُهُ يَقُولُ : " لَا تَمُوتَنَّ وَعَلَيْكَ دَيْنٌ فَإِنَّمَا هِيَ الْحَسَنَاتُ وَالسَّيِّئَاتُ لَيْسَ ثَمَّ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ جَزَاءً وَقَضَاءً ، وَلَيْسَ يَظْلِمُ اللَّهُ أَحَدًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ يَحْيَى وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَرَوَى أَحْمَدُ مِنْهُ : " وَرَكْعَتَيِ الْفَجْرِ حَافِظُوا عَلَيْهِمَا فَإِنَّ فِيهِمَا الرَّغَائِبَ " ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” فجر کی نماز سے پہلے کی نماز کی ( سنتوں ) کو تم لوگ ترک نہ کرنا ، کیونکہ ان دونوں میں رغبت پائی جاتی ہے “ ۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بھی ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” تم اپنی اولاد کی نفی نہ کرنا ، ورنہ اللہ تعالیٰ تمہیں تمام مخلوق کے سامنے اُسی طرح رسوائی کا شکار کرے گا ، جس طرح تم نے اس اولاد کی دنیا میں رُسوا کیا ہو گا“ ۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بھی ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” تم ایسی حالت میں نہ مرنا کہ تمہارے ذمہ قرض ہو ، کیونکہ آخرت میں نیکیوں اور برائیوں کا لین دین ہو گا ، وہاں دینار یا درہم تو نہیں ہو گا ، جزا اور سزا دونوں میں ( نیکیوں اور برائیوں کا لین دین ہو گا ) اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن یحیی ہے وہ ” ضعیف“ ہے امام أحمد نے اس کا یہ حصہ نقل کیا ہے : ” فجر کی دو رکعات کو تم باقاعدگی سے ادا کرنا ، کیونکہ ان میں رغبت پائی جاتی ہے “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3303
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ صَنْعَاءَ قَالَ : كُنَّا بِمَكَّةَ فَجَلَسْنَا إِلَى عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ إِلَى جَنْبِ جِدَارِ الْمَسْجِدِ فَلَمْ نَسْأَلْهُ وَلَمْ يُحَدِّثْنَا قَالَ : ثُمَّ جَلَسْنَا إِلَى ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - مِثْلَ مَجْلِسِكُمْ هَذَا فَلَمْ نَسْأَلْهُ وَلَمْ يُحَدِّثْنَا فَقَالَ : مَا لَكُمْ لَا تَكَلَّمُونَ وَلَا تَذْكُرُونَ اللَّهَ ؟ قُولُوا : اللَّهُ أَكْبَرُ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ بِوَاحِدٍ عَشْرٌ وَبِعَشْرٍ مِائَةٌ مَنْ زَادَ زَادَهُ اللَّهُ وَمَنْ سَكَتَ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ ، أَلَا أُخْبِرُكُمْ خَمْسًا سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قُلْنَا : بَلَى ، قَالَ : " وَرَكْعَتَيِ الْفَجْرِ حَافِظُوا عَلَيْهِمَا فَإِنَّ فِيهِمَا الرَّغَائِبَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
صنعاء سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب بیان کرتے ہیں : میں مکہ میں موجود تھا ہم لوگ عطاء خراسانی کے پاس ایک مسجد کی دیوار کے پہلو میں بیٹھے ہوئے تھے ، نہ تو ہم نے اُن سے کوئی سوال کیا ، اور نہ ہی اُنہوں نے ہمیں کوئی حدیث بیان کی ، راوی بیان کرتے ہیں : پھر ہم لوگ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آ کر بیٹھے ، جس طرح تم لوگ بیٹھے ہوئے ہو ، ہم نے ان سے بھی کوئی سوال نہیں کیا ، اور انہوں نے بھی ہمیں کوئی حدیث بیان نہیں کی ، پھر انہوں نے ارشاد فرمایا : کیا وجہ ہے ؟ تم لوگ کیوں بات نہیں کر رہے ہو ؟ تم اللہ تعالیٰ کا ذکر کیوں نہیں کر رہے ؟ تم لوگ کہو : «الله اكبر» اور «سبحان الله و بحمده» ایک کے بدلے میں دس ہوں گے ، دس کے بدلے میں سو ہوں گے ، جو شخص زیادہ کرے گا ، تو اللہ تعالیٰ اسے مزید اجر و ثواب عطا کرے گا ، جو شخص خاموش رہے ، تو اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کرے ، کیا میں تمہیں پانچ چیزوں کے بارے میں نہ بتاؤں ، جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہیں ؟ ہم نے عرض کی : جی ہاں ! سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بتایا : ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا : ) ” فجر کی دو رکعات کو تم باقاعدگی سے ادا کرنا ، کیونکہ ان دونوں میں رغبت پائی جاتی ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ، جسے امام ابوداؤد نے بھی روایت کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3304
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف لِجَہَالَۃِ الرَّاوِی
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ ، وَقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ تَعْدِلُ رُبُعَ الْقُرْآنِ " وَكَانَ يَقْرَأُ بِهِمَا فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ ، وَقَالَ : " هَاتَانِ الرَّكْعَتَانِ فِيهِمَا رَغَبُ الدَّهْرِ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى لَهُ التِّرْمِذِيُّ الْقِرَاءَةَ بِهِمَا فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ وَقَالَ : عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ : عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : «قل هو الله احد» ایک تہائی قرآن کے برابر ہے ، اور ” «قل يا ايهاالكافرون» “ ایک چوتھائی قرآن کے برابر ہے “ ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دونوں سورتیں فجر کی دو رکعات ( سنتوں میں ) پڑھا کرتے تھے ، اور یہ ارشاد فرماتے تھے : ان دو رکعات میں ہمیشہ رغبت پائی جاتی ہے “ ۔
میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس صحابی کے حوالے سے ، فجر کی دو رکعات میں دونوں سورتوں کی تلاوت کرنے سے متعلق روایت نقل کی ہے ۔

یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : یہ ابومحمد کے حوالے سے ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے ، جب کہ امام طبرانی فرماتے ہیں : یہ مجاہد کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے ، امام ابویعلیٰ کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3305
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح ورجالہ ثقات۔
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقْرَأُ فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ : قُلْ يَاأَيُّهَا الْكَافِرُونَ ، وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی دو رکعات ( سنتوں میں ) سورہ الکافرون اور سورہ اخلاص کی تلاوت کیا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3306
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف ولکن حدیث صحیح
وَلِأَنَسٍ عِنْدَ الْبَزَّارِ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْوَتْرِ يَقْرَأُ فِيهِمَا : قُلْ يَاأَيُّهَا الْكَافِرُونَ ، وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ وَإِنْ كَانَ فِي الثَّانِي عُتْبَةُ بْنُ أَبِي حَلِيمٍ وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ ضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ .
محمد محی الدین
امام بزار نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وتر کے بعد جو دو رکعات ادا کرتے تھے ، اُن میں سورت الکافرون اور سورت اخلاص کی تلاوت کیا کرتے تھے ۔ ان دونوں روایات کے رجال ” ثقہ “ ہیں ، اگرچہ دوسری روایت کی سند میں ایک راوی عتبہ بن ابوحلیم ہے ، وہ ” ثقہ “ ہے ، لیکن امام نسائی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3307
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا صَلَاةَ قَبْلَ الْفَجْرِ إِلَّا رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ ، وَاخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” فجر ( کی فرض نماز ) سے پہلے کوئی اور نماز ادا نہیں کی جائے گی ، صرف فجر کی دو رکعات ( سنتیں ) ادا کی جائیں گی “ ۔
یہ روایت بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زیاد بن انعم ہے ، جس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3308
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ فَلَا صَلَاةَ إِلَّا رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قَيْسٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب صبح صادق ہو جائے ، تو پھر فجر کی دو رکعات ( سنتوں ) کے علاوہ کوئی اور ( نفل ) نماز ادا نہیں کی جائے گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن قیس ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3309
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا صَلَّى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُ الطَّبَرَانِيِّ لَيْسَ فِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَهُوَ فِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ وَإِنْ كَانَ اخْتُلِفَ فِي حُيَيِّ الْمُعَافِرِيِّ فَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب فجر کی دو رکعات ( سنتیں ) ادا کر لیتے تھے ، تو دائیں پہلو کے بل لیٹ جاتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ابن لہیعہ نامی راوی نہیں ہے ، وہ امام أحمد کی سند میں ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اگرچہ حیی معافری کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ، لیکن اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3310
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «مسند احمد بن حنبل ، مسند عبد الله بن عمرو بن العاص رضى الله عنهما 6447 المعجم الكبير للطبراني من اسمه عبد الله ومما اسند عبد الله بن عمر رضي الله عنهما ابو عبد الرحمن الحبلى ، 13518»
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ ثُمَّ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَرَبَّ إِسْرَافِيلَ وَرَبَّ مُحَمَّدٍ أَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ " ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى صَلَاتِهِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر سے پہلے دو رکعات ( سنتیں ) ادا کرتے تھے ، پھر یہ دعا کرتے تھے : ” اے اللہ ! اے جبرائیل و میکائیل کے پروردگار ! اسرافیل کے پروردگار ! سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پروردگار ! میں جہنم سے تیری پناہ مانگتا ہوں “ ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے تشریف لے جاتے تھے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن ابوحمید ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3311
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «مسند ابي يعلى الموصلي مسند عائشة 4653»
وَعَنِ أُسَامَةَ بْنِ عُمَيْرٍ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ فَصَلَّى قَرِيبًا مِنْهُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " رَبَّ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَإِسْرَافِيلَ وَمُحَمَّدٍ أَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ " - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ الذَّهَبِيُّ : عَبَّادُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مُبَشِّرٍ لَا شَيْءَ ، قُلْتُ : قَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اسامہ بن عمیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فجر کی دو رکعات ادا کیں ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب نماز ادا کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مختصر رکعت ادا کی تھیں ، راوی بیان کرتے ہیں : میں نے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا : ” اے جبرائیل ، میکائیل ، اسرافیل اور سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پروردگار ! میں جہنم سے تیری پناہ مانگتا ہوں“ ۔ یہ کلمات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ پڑھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عباد بن سعید ہے ، امام ذہبی فرماتے ہیں : عباد بن سعید نے مبشر سے روایات نقل کی ہیں ، یہ کوئی چیز نہیں ہے ، میں یہ کہتا ہوں : ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات“ میں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3312
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
وَعَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : كَانَ عَزِيزًا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنْ يَتَكَلَّمَ ( بَعْدَ الْفَجْرِ ) إِلَّا بِذِكْرِ اللَّهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ : أَنَّهُ كَانَ يَعِزُّ عَلَيْهِ أَنْ يَسْمَعَ مُتَكَلِّمًا بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ إِلَى أَنْ يُصَلِّيَ الصُّبْحَ . ¤
محمد محی الدین
ابوعبیدہ بن عبداللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فجر کے بعد کلام کرنے کو پسند نہیں کرتے تھے ، وہ صرف اللہ کا ذکر کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، ابوعبیدہ نامی راوی نے اپنے والد سے سماع نہیں کیا ہے ، اس روایت کے بقیہ راوی ” ثقہ “ ہیں ، ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” انہیں یہ بات ناگوار گزرتی تھی کہ صبح صادق ہو جانے کے بعد سے لے کر ، صبح کی نماز ادا کرنے تک ، کسی کو کلام کرتے ہوئے سنیں “ ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3313
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
وَعَنْ عَطَاءٍ قَالَ : خَرَجَ ابْنُ مَسْعُودٍ عَلَى قَوْمٍ يَتَحَدَّثُونَ بَعْدَ الْفَجْرِ فَنَهَاهُمْ عَنِ الْحَدِيثِ وَقَالَ : إِنَّمَا جِئْتُمْ لِلصَّلَاةِ فَإِمَّا أَنْ تُصَلُّوا وَإِمَّا أَنْ تَسْكُتُوا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَعَطَاءٌ لَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عطاء بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کچھ لوگوں کے پاس تشریف لائے ، جو فجر کی نماز کے بعد ( یا صبح صادق ہو جانے کے بعد ) آپس میں بات چیت کر رہے تھے ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے انہیں بات چیت کرنے سے منع کیا ، اور ارشاد فرمایا : تم لوگ نماز ادا کرنے کے لئے آئے ہو ، یا تو تم نماز ادا کرو ، یا پھر خاموش رہو !
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، عطاء نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3314
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع