مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابٌ فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ . باب: فجر کی دو رکعاتوں کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا تَدَعُوا الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ فَإِنَّ فِيهِمَا الرَّغَائِبَ " . ¤ وَسُمْعَتُهُ يَقُولُ : " لَا تَنْتَفِيَنَّ مِنْ وَلَدِكَ فَيَفْضَحَكَ اللَّهُ عَلَى رُؤُوسِ الْخَلَائِقِ كَمَا فَضَحْتَهُ فِي الدُّنْيَا " . ¤ وَسُمْعَتُهُ يَقُولُ : " لَا تَمُوتَنَّ وَعَلَيْكَ دَيْنٌ فَإِنَّمَا هِيَ الْحَسَنَاتُ وَالسَّيِّئَاتُ لَيْسَ ثَمَّ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ جَزَاءً وَقَضَاءً ، وَلَيْسَ يَظْلِمُ اللَّهُ أَحَدًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ يَحْيَى وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَرَوَى أَحْمَدُ مِنْهُ : " وَرَكْعَتَيِ الْفَجْرِ حَافِظُوا عَلَيْهِمَا فَإِنَّ فِيهِمَا الرَّغَائِبَ " ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” فجر کی نماز سے پہلے کی نماز کی ( سنتوں ) کو تم لوگ ترک نہ کرنا ، کیونکہ ان دونوں میں رغبت پائی جاتی ہے “ ۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بھی ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” تم اپنی اولاد کی نفی نہ کرنا ، ورنہ اللہ تعالیٰ تمہیں تمام مخلوق کے سامنے اُسی طرح رسوائی کا شکار کرے گا ، جس طرح تم نے اس اولاد کی دنیا میں رُسوا کیا ہو گا“ ۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بھی ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” تم ایسی حالت میں نہ مرنا کہ تمہارے ذمہ قرض ہو ، کیونکہ آخرت میں نیکیوں اور برائیوں کا لین دین ہو گا ، وہاں دینار یا درہم تو نہیں ہو گا ، جزا اور سزا دونوں میں ( نیکیوں اور برائیوں کا لین دین ہو گا ) اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن یحیی ہے وہ ” ضعیف“ ہے امام أحمد نے اس کا یہ حصہ نقل کیا ہے : ” فجر کی دو رکعات کو تم باقاعدگی سے ادا کرنا ، کیونکہ ان میں رغبت پائی جاتی ہے “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ۔